تاریخ کے اوراقمشرق ایکسکلوزیو

یاجوج ماجوج، اسرائیل و دجال شناخت اور یروشلم سے تعلق (پہلا حصہ)

یاجوج ماجوج کے خروج کے بارے ابہام موجود ہیں وہیں اُن کی شناخت اور ہیت کے بارے میں بھی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ کیا یاجوج ماجوج ایک قوم کا نام ہے یا ایک فرد کا؟

86 / 100 SEO Score

یاجوجیاجوج ماجوج، اسرائیل و دجال شناخت اور یروشلم سے تعلق (پہلا حصہ)

تحقیق و تحریر: شہزاد عابد خان

یاجوج ماجوج کا ذکر الہامی کتب اور تاریخ میں ظالم، لڑاکا، لوٹ مار کرنے والے، سیکولر اورفتنہ انگیز قوم کے طور پر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم، یہودی اور عیسائی مذہبی کتب میں یاجوج ماجوج نامی قوم کا خروج آخری زمانے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بیان کیا گیا ہے۔ کیا یاجوج ماجوج کا خروج ہونا ابھی باقی ہے یا اُن کا خروج ہو چکا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے مختلف ابہام پائے جاتے ہیں۔جہاں یاجوج ماجوج کے خروج کے بارے ابہام موجود ہیں وہیں اُن کی شناخت اور ہیت کے بارے میں بھی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔
کیا یاجوج ماجوج ایک قوم کا نام ہے یا ایک فرد کا؟
(Old Testament) عہد نامہ قدیم حزقی ایل کی کتاب، باب 38، پیرا گراف 2اور 3 کے مطابق یاجوج اور ماجوج دو بھائیوں کے انفرادی نام ہیں یعنی ایک قوم کے طور پر نہیں بلکے دو مختلف انسانوں کی طرح بیان کیا گیا ہے، اسی طرح عہد نامہ قدیم کے ایک حصہ،پیدائش کی کتاب، باب 10میں بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے تھے۔ یاجوج ماجوج کا قصہ، قرآن و حدیث اسلامی نقطہ نظر کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج شمالی ایشیا میں رہنے والے قبائل تھے جو دوسرے قبائل کو مارنے اور ان کی املاک کو لوٹنے کی وجہ سے بدنام تھے۔

ایرانی مفسرین کے مطابق لفظ یاجوج اور ماجوج کا ماخذ چینی لفظ مونگوک یا منچوگ سے ہے جو عبرانی اور عربی میں یاجوج اور ماجوج میں تبدیل ہوا۔ بعض ایرانی مفسرین کاماننا ہے کہ یاجوج ماجوج منگول قبیلے تھے جنہوں نے چین اور برصغیر پاک و ہند پر حملہ کیا تھا۔ دیوار چین اور ذوالقرنین کی دیوار ان پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ یاجوج ماجوج دو فرد تھے یا قبائل اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہم جب بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہوتی ہے،اسی طرح یاجوج ماجوج ایک قبیلے کی طرح مشہور ہوئے جب کہ یہ دو فرد تھے جن کی اولاد یاجوج ماجوج کے نام سے پہچانی گئی۔
قرآن مجید میں یاجوج ماجوج کے الفاظ دو بار آئے ہیں۔
سورہ کہف میں ارشاد ہے کہ:
”یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا ان دونوں سے ایک طرف ایک ایسی قوم کو دیکھا جو بات نہیں سمجھ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین! یاجوج ماجوج زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں پھر کیا ہم آپ کے لیے کچھ محصول مقرر کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں۔کہا جو میرے رب نے قدرت دی ہے کافی ہے (میرے لیے) سو طاقت سے میری مدد کرو کہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنادوں۔ مجھے لوہے کے تختے لادو، یہاں تک کہ جب دونوں سروں (پہاڑوں) کے بیچ کو برابر کردیا تو کہا کہ دھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ کردیا تو کہاکہ تم میرے پاس تانبا لاؤ تاکہ اس پر ڈال دوں۔ پھر وہ نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے۔ کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے ریزہ ریزہ کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے“۔ (سورہ کہف، آیات 93-98)
قرآن کریم میں دوسری جگہ سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہے کہ:
”اور جس بستی کو ہم نے تباہ کر دیا ہے ان کا واپس آنا ممکن نہیں یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے اور وہ ہر پہاڑی سے دوڑیں گے اور حق کا وعدہ قریب ہو جائے گا تو کافروں کی آنکھیں حیرت سے بھر جائیں گی اور کہیں گے کہ افسوس ہم اس سے غافل تھے اور ہم ظالم تھے۔ ( سورہ الانبیاء آیات 95-97)
یاجوجیاجوج ماجوج کی دیوار
ذوالقرنین جو کہ مومن بادشاہوں میں سے ایک تھے، اپنے ایک سفر میں دو پہاڑوں کے درمیان واقع ایک علاقے میں پہنچے،یہاں اُن کو ایک ایسی قوم ملی جس کی ذبان وہ نہیں جانتے تھے ان لوگوں نے انہیں اشاروں سے یہ بتایا کہ پہاڑ کے اس پارسے یاجوج ماجوج ان کی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں اورقتل و غارت گری کرتے ہیں اور ہماری املاک کو لوٹ کر چلے جاتے ہیں۔
اس علاقے کے لوگوں نے ذوالقرنین سے یاجوج ماجوج کی دراندازی اور ایذا رسانی کو روکنے کے لیے ادائیگی کے عوض مدد کرنے کو کہا، مگر انہوں نے بغیر کوئی مالی فائدہ لیے اس قبیلے کے لوگوں کی مدد سے پہاڑوں کے درمیانی راستے کوپگھلے ہوئے لوہے اور تانبے کی مدد سے ایک دیوار قائم کردی جو ذوالقرنین کی بنائی دیوار کے نام سے مشہور ہوئی۔
یاجوج ماجوج کی تخلیق،روایات اور نظریات
یاجوج ماجوج کی تخلیق کے بارے مختلف روایات اور نظریات پائے جاتے ہیں۔جن کی صداقت کے بارے کسی کے پاس کوئی مستند حدیث یا کوئی بھی ریفرنس موجود نہیں۔
شیخ صدوق رحمہ اللہ عبداللہ بن سلیمان سے نقل کرتے ہیں کہ:
”یاجوج اور ماجوج عام جانداروں کی طرح کھاتے اور پیتے تھے ان کی پیدائش کے بارے لکھتے ہیں کہ ان میں نر مادہ ہیں اور انہوں نے جانوروں کی طرح جنم لیا۔ شکل، صورت، جسم اور تخلیق میں انسانوں سے ملتے جلتے تھے، تاہم ان کا قد بہت چھوٹا تھا، اور ان کے مردوں اور عورتوں کا قد بچوں کی طرح پانچ ہاتھ سے زیادہ نہیں تھا۔ جب وہ سوتے تو اپنے ایک کان کو قالین کے طور پر اور دوسرے کو لحاف کے طور پر ڈھانپ لیتے(شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ج 2، صفحہ 400-401)
یاجوج ماجوج کے بارے کچھ ایسی احادیث بھی بیان کی گئیں ہیں جن کی سچائی کے بارے علماء نے انکار کیا ہے ایسی ہی کچھ احادیث کے مفہوم ملاحظہ ہو:
”یاجوج ماجوج بنی آدم سے ہیں اور اگر انہیں چھوڑ ا تو یہ لوگوں کی معیشت تباہ و برباد کر دیں گے اور ان میں سے کوئی آدمی اس وقت نہیں مرتا جب تک اپنی ایک ہزار یا اس ے زیادہ اولاد نہ دیکھ لے اور ان کے ساتھ تین اور اقوام بھی ہیں تاویل، تاریس اور منسک“۔حافظ ابن کثیر کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے وہ لکھتے ہیں کہ”یہ حدیث غریب بلکہ ضعیف بھی ہے“۔
اسی طرح بعض علما ء یاجوج ماجوج کوحضر ت آدم علیہ السلام کی اولاد تو قرار دیتے ہیں مگراماں حوا کی نہیں۔ اس ضمن میں وہ کعب الاحبارکے ایک قول کو حافظ ابن کثیر نے انتہائی غریب اور عقلاًو نقلاً ناقابل قبول کہا ہے۔ یہ قول ملاحظہ ہو:کعب الاحبار فرماتے ہیں کہ”حضرت آدم کو احتلام ہوا اور انکا مادہ منویہ مٹی میں مل گیا اسپر انہیں افسوس ہوا اس مادہ سے یاجوج ماجوج پیدا ہوئے لہٰذا باپ کی طرف سے ہم (انسانوں) سے ہیں مگر ماں یعنی اماں حوا کی طرف سے نہیں۔ ابن کثیر اس قول پر شدید تنقید کرتے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انتہائی غریب قول ہے نیز اس کے متعلق کوئی دلیل نہیں اور اس ضمن میں اہل کتاب کی بیان کردہ روایات نا قابل اعتماد ہیں۔
یاجوج ماجوج کے خروج کے بارے مستند حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ
”نبی کریم ﷺ ان کے ہاں گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ نے فرمایا: ”لاإلٰہ الا اللہ، عربوں کی اس برائی سے ہلاکت ہوگی جوبالکل قریب آلگی ہے۔ آج کے روز یاجوج وماجوج کی دیوار میں اس قدر سوراخ ہوگیا ہے۔“ پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں؟آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب خباثت زیادہ پھیل جائے گی۔“ (صحیح بخاری، حدیث نمبر:3598)
اس حدیث نبوی ﷺ کے روشنی میں یاجوج ماجوج کے خروج کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس حدیث میں واضح طور پر اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ یاجوج ماجوج دیوار میں سوراخ بنا چکے ہیں اور یہ سوراخ اب مذید بڑھے گا اور ایک دن آئے گا کہ وہ دیوار ختم ہوجائے گی اور یاجوج ماجوج کا خروج ہو جائے گا، جس وقت ذوالقرنین نے دیوار بنائی تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو یہ دیوار ختم ہوجائے گی اور میرے رب کا وعدہ سچا ہو کر رہنے والا ہے۔
یہاں وعدے سے کیا مراد ہے کیا یہ وعدہ تکمیل دینہے یا قرب قیامت کی جانب اشارہ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جگہ جگہ فرما چکا ہے مفہوم ”جو تم سے اور تم سے پہلی امتوں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا“۔ یہ ایک ایسا سوال ہے اگر ہم اس کو سمجھ لیں تو یاجوج ماجوج کے خروج کی گتھی سلجھ سکتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
”اور جن بستیوں کو ہم نے تباہ کر دیا ان کا واپس آنا ناممکن ہے۔یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول نہ دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے“۔ (سورۃ الانبیاء آیت 95-96)
اس آیت کریمہ کی روشنی میں حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب شعر کہا کہ

کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشمِ مسلم دیکھ لے تفسیر حرفِ ”ینسلون“  

جاری ہے ۔۔۔۔۔

تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی! بنی اسرائیل کے لیے اہم کیوں؟

یاجوج

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button