آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو
درسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہے
واقعۂ کربلا کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک زندہ درس ہے حق کے لیے کھڑے ہونا ضروری ہے خاموشی کبھی کبھی ظلم کی حمایت بن جاتی ہے۔

درسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہے
تحریر: شہزاد عابد خان
نبضِ حالات
اسلامی تاریخ میں اگر کسی ایک واقعے کو حق و باطل کے درمیان واضح لکیر قرار دیا جائے تو وہ واقعۂ کربلا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں تھی، نہ اقتدار کی کشمکش، بلکہ یہ ایک نظریہ، ایک فکر اور ایک ابدی پیغام تھا—ایسا پیغام جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ اس پیغام کے مرکز میں وہ عظیم شخصیت ہیں جنہیں دنیا حضرت امام حسینؓ کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت امام حسینؓ کی حیاتِ مبارکہ: کردار کا استعارہ
حضرت امام حسینؓ، نواسۂ رسول ﷺ، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے فرزند، وہ ہستی ہیں جن کی پرورش براہِ راست رسول اکرم ﷺ کی آغوش میں ہوئی۔ آپؓ کی زندگی محض عبادات یا زہد و تقویٰ تک محدود نہیں تھی بلکہ عدل، حق گوئی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا عملی نمونہ تھی۔
آپؓ کا یہ فرمان آج بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے
“ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا سب سے بڑا گناہ ہے”
یہ قول صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے—ایک ایسا نظریہ جس نے کربلا میں عملی صورت اختیار کی۔
قول و فعل کا حسینؓ معیار
حضرت حسینؓ کی زندگی میں ہمیں جو سب سے نمایاں چیز نظر آتی ہے وہ ہے قول اور عمل کا مکمل اتحاد۔ آپؓ نے جو کہا، وہی کیا۔ جب یزید کی بیعت کا معاملہ آیا تو آپؓ نے صاف الفاظ میں انکار کیا کیونکہ وہ ایک ایسے نظام کو قبول نہیں کر سکتے تھے جو انصاف، دیانت اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہو۔
آپؓ نے فرمایا
“میں اصلاحِ امتِ محمدی ﷺ کے لیے نکلا ہوں”
یہ اعلان دراصل ایک تحریک کا آغاز تھا—ایک ایسی تحریک جو آج بھی ہر اس شخص کے دل میں زندہ ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
واقعۂ کربلا: پس منظر اور حکمت
کربلا کا واقعہ 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جہاں ایک طرف چند نفوس پر مشتمل قافلہ تھا اور دوسری طرف ہزاروں کا لشکر۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ نے اس واضح عدم توازن کے باوجود میدان کیوں چنا؟
یہاں اصل حکمت سامنے آتی ہے
اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا
باطل نظام کو جواز نہ دینا
حق کے لیے قربانی دینا، چاہے قیمت جان ہی کیوں نہ ہو
حضرت حسینؓ جانتے تھے کہ وہ ظاہری جنگ نہیں جیتیں گے، مگر وہ ایک ایسا بیانیہ قائم کریں گے جو رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت بن جائے گا۔
کربلا ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
واقعۂ کربلا کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک زندہ درس ہے
حق کے لیے کھڑے ہونا ضروری ہے
خاموشی کبھی کبھی ظلم کی حمایت بن جاتی ہے۔
تعداد نہیں، نظریہ جیتتا ہے
کربلا میں قلیل لوگ تھے مگر وہ تاریخ جیت گئے۔
قیادت کا معیار قربانی ہے، اقتدار نہیں
حضرت حسینؓ نے اقتدار کو ٹھکرا کر اصولوں کو اپنایا۔
ظلم کے سامنے سر جھکانا شکست ہے
چاہے حالات کیسے بھی ہوں، حق کا علم بلند رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
آج کے دور میں درسِ حسینؓ
اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہمیں بے شمار “یزیدیت” کے روپ نظر آتے ہیں—ناانصافی، طاقت کا غلط استعمال، کمزور کا استحصال، اور سچ کو دبانے کی کوشش۔
ایسے میں سوال یہ ہے
کیا ہم حسینی کردار اپنا رہے ہیں یا خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟
درسِ حسینؓ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ
سچ بولنا صرف اختیار نہیں، ذمہ داری ہے
ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ایمان کا تقاضا ہے
اور اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے
اختتامیہ: کربلا—ایک زندہ پیغام
کربلا ختم نہیں ہوئی، یہ ہر دور میں جاری ہے۔ ہر زمانے میں ایک حسینؓ ہوتا ہے اور ایک یزید۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
حضرت امام حسینؓ نے ہمیں سکھایا کہ
“زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں، بلکہ حق کے لیے جینا ہے”
اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا، تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی بدل سکتا ہے۔
یہی ہے اصل درسِ حسینؓ—حق، قربانی، اور حریت کا وہ پیغام جو قیامت تک زندہ رہے گا۔

درسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہےدرسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہےدرسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہےدرسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہےدرسِ حسینؓ: کربلا سے اٹھنے والی وہ صدا جو آج بھی زندہ ہے



