آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو

اختیار کے نام پر ظلم کب تک؟

شرقپور کے معذور پھل فروش کا واقعہ صرف ایک شخص کی داستان نہیں بلکہ ریاستی اختیار، انصاف اور عوامی اعتماد پر کھڑا ایک بڑا سوال ہے۔ آخر حکومت کے ایسے اقدامات کی انتہا کہاں ہے؟ کیا ریاست مسلسل عوام کے صبر کا امتحان لینا چاہتی ہے؟ کیا نظام اس دن کا انتظار کر رہا ہے جب ناانصافی، محرومی اور ظلم لوگوں کے اندر ایسا لاوا بھر دیں کہ پھر صرف بے چینی، احتجاج اور انتشار ہی باقی رہ جائے؟

86 / 100 SEO Score

اختیاراختیار کے نام پر ظلم کب تک؟

شہزاد عابد خان

شرقپور شریف میں ایک بازو سے معذور بزرگ پھل فروش کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ہمارے ریاستی نظام کے چہرے پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ ایک معذور شخص جو اپنی ریڑھی پر پھل فروخت کرکے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہا تھا، پہلے اس کا سامان ضبط کر لیا جاتا ہے، پھر جب وہ ایک صحافی کے سامنے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی فریاد کرتا ہے تو اسے انصاف دینے کے بجائے سامان واپس کرنے کے بہانے تھانے بلایا جاتا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

بعد ازاں عدالت اسے مقدمے سے ڈسچارج کر دیتی ہے۔ اگر انجام یہی ہونا تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک بے بس انسان کو ہتھکڑیوں تک پہنچانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یہ واقعہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں اختیار کو خدمت کے بجائے طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس ملک میں قانون کی سختی اکثر غریب کی دہلیز پر ہی کیوں دکھائی دیتی ہے؟ ریڑھی بان، مزدور، خوانچہ فروش اور دیہاڑی دار تو ریاستی مشینری کی پوری طاقت محسوس کرتے ہیں، لیکن جب معاملہ بااثر افراد کا آتا ہے تو یہی قانون خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟

پاکستان کا آئین ہر شہری کو برابر کا درجہ دیتا ہے۔ آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 9 جان اور آزادی کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 10-اے ہر شہری کے منصفانہ ٹرائل کو بنیادی حق قرار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 واضح کرتا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ اگر ایک معذور بزرگ صرف احتجاج کرنے کی وجہ سے ملزم بن جائے تو پھر سوال صرف ایک مقدمے کا نہیں بلکہ آئین پر عملدرآمد کا بھی ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں تجاوزات کے نام پر غریبوں کی ریڑھیاں الٹنے، سامان ضبط کرنے، روزگار چھیننے اور انہیں ذلیل کرنے کے واقعات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ریاست اکثر وہاں پوری طاقت دکھاتی ہے جہاں سامنے ایک بے بس مزدور کھڑا ہوتا ہے، جبکہ بڑے قبضہ مافیا، بااثر قانون شکن اور طاقتور مفاد پرست اکثر قانون کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو عوام کے دلوں میں ریاست کے بارے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔

ہم پنجاب حکومت، وزیر اعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس اور تمام متعلقہ اداروں سے پوچھتے ہیں کہ آخر اختیار کے نام پر غریبوں کے استحصال کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں؟ کیا ایک محنت کش شہری کا جرم صرف اتنا ہے کہ اس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر آواز اٹھا دی؟ کیا اس ملک میں انصاف مانگنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے؟

یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آخر حکومت کے ایسے اقدامات کی انتہا کہاں ہے؟ کیا ریاست مسلسل عوام کے صبر کا امتحان لینا چاہتی ہے؟ کیا نظام اس دن کا انتظار کر رہا ہے جب ناانصافی، محرومی اور ظلم لوگوں
کے اندر ایسا لاوا بھر دیں کہ پھر صرف بے چینی، احتجاج اور انتشار ہی باقی رہ جائے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں طاقت کے بل پر کچھ وقت ضرور گزار لیتی ہیں، لیکن انصاف کے بغیر عوام کا اعتماد کبھی حاصل نہیں کر سکتیں۔ جب کمزور کی آہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا، پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

یہ کالم کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو قانون کو کمزور پر آزمانے اور طاقتور پر خاموش رہنے کا نام بن چکی ہے۔ ریاست کے ادارے عوام کے محافظ ہیں، اگر کہیں کوئی اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو اس کا احتساب خود ریاست کی ذمہ داری ہے، کیونکہ چند افراد کی غلطیاں پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔

آج ضرورت ایک نئے مقدمے کی نہیں بلکہ نئے طرزِ حکمرانی کی ہے۔ ایسی حکمرانی جہاں وردی خوف کی علامت نہ ہو بلکہ تحفظ کی نشانی ہو، جہاں اختیار انتقام کا نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہو اور جہاں ایک معذور بزرگ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تھانے اور عدالتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

اگر ریاست نے آج بھی اس واقعے سے سبق نہ سیکھا تو کل ہر غریب کے ذہن میں یہی سوال گونجے گا کہ اس ملک میں قانون کس کے لیے ہے؟ کمزور کے لیے یا طاقتور کے لیے؟ اور جب یہ سوال عام ہو جاتا ہے تو پھر مسئلہ صرف ایک بزرگ پھل فروش کا نہیں رہتا، پورا نظام عوام کی عدالت میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

اگر ریاست واقعی خود کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کہلوانا چاہتی ہے تو اسے اپنی بنیادوں کی طرف بھی
دیکھنا ہوگا۔ اسلام میں حکومت کو طاقت نہیں بلکہ امانت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔” یہی وہ اصول ہے جو حکمران کو جواب دہ بناتا ہے، نہ کہ بے لگام اختیار کا مالک۔

حضرت عمر بن خطابؓ کا وہ تاریخی قول آج بھی حکمرانوں کے لیے آئینہ ہے کہ ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر سے اس کے بارے میں بھی سوال کرے گا۔” اگر ایک جانور کی بھوک کا احساس ایک حکمران کو راتوں کی نیند حرام کر سکتا تھا تو پھر ایک معذور، محنت کش اور بے بس شہری کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ہماری حکومتوں، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کتنی فکر ہونی چاہیے؟

اسلامی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ رعایا کی عزت، جان، مال اور روزگار کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ طاقت کا اصل حسن کمزور کو دبانے میں نہیں بلکہ اس کا سہارا بننے میں ہے۔ اگر ایک غریب شخص اپنی روزی روٹی بچانے کے لیے فریاد کرے اور جواب میں اسے ہتھکڑیاں ملیں تو یہ صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں بلکہ ان اسلامی اصولوں سے بھی انحراف ہے جن پر اس ملک کی نظریاتی بنیاد قائم کی گئی تھی۔

اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ شرقپور کے اس بزرگ کے ساتھ انصاف ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکمرانی واقعی ان اصولوں پر چل رہی ہے جن کا دعویٰ ہر تقریر، ہر سرکاری بیان اور ہر قومی موقع پر کیا جاتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاح صرف ایک مقدمہ ختم کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ ریاستی رویوں کو بدلنا ہوگا۔

جب عوام قربانی دیں اور اقتدار آسائشیں لے

اختیار

اختیار

اختیار

اختیار

اختیار

اختیار

اختیار

اختیار

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button