تازہ ترینمشرق اردو ادب

پاکستانی فلمیں، تھیٹر اور ڈرامے اصلاح معاشرے کے مؤثر ذرائع

پاکستانی فلمیں ، تھیٹر اور ڈرامے اصلاح معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ شوری ہمدرد اجلاس میں مقررین کا اظہار خیال ۔

79 / 100 SEO Score
فلمیں
اصغر علی کھوکھر

پاکستانی فلمیں ، تھیٹر اور ڈرامے اصلاح معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

شوری ہمدرد اجلاس میں مقررین کا اظہار خیال ۔

رپورٹ : اصغر علی کھوکھر ۔
یہ امر قابل تحسین تعریف ہے کہ شوری ہمدرد فاؤنڈیشن ( وقف) پاکستان لاہور سنٹر کے ہر ماہانہ اجلاس میں ایسے اہم مسائل زیر بحث لائے جاتے ہیں جو قومی سطح کے تسلیم شدہ گمبھیر مسائل قرار پائے جانے کے باوجود ارباب اختیار ہی نہیں میڈیا میں بھی بہت کم توجہ حاصل کر پاتے ہیں یوں معاشرے میں ان مسائل کے منفی اثرات تواتر سے بڑھتے چلے جانے سے نہ صرف ہماری مسلمہ معاشرتی روایات زوال کا شکار ہوتی جارہی ہیں بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی بڑی دھوم سے نکل رہا ہے ۔
یہ امر باعث اطمینان ہے کہ شوری ہمدرد لاہور سنٹر کے 5 اگست کو ہونے والے اجلاس میں ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی چیئرپرسن محترمہ آپا سعدیہ راشد نے پاکستانی فلم ، تھیٹر اور ڈرامے: اصلاح معاشرہ کے مؤثر ذرائع : ایسے اہم موضوع پر بحث کرنے اور اس تناظر میں مثبت تجاویز مرتب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔
چنانچہ پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اس ضمن میں جن شخصیات نے اپنے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا ان میں ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ڈاکٹر احمد سہیل بسرا ، ڈاکٹر شفیق جالندھری، آپا خالدہ جمیل، چیئرپرسن فلم اینڈ براڈکاسٹنگ جامعہ پنجاب ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر، معروف صحافی نصیرالحق ہاشمی ، چیئرپرسن صوفی آرٹ اکیڈمی ڈاکٹر فوزیہ تبسم، ڈاکٹر پروین خان، محترمہ رضا ریاض ، ( ر) جسٹس ناصرہ جاوید اقبال، شہرہ آفاق ڈرامہ ( عینک والا جن) کے ہر دل عزیز کردار جناب حسیب پاشا ، انجینئر محمد آصف، پروفیسر مشکور احمد صدیقی، برگیڈیئر ریاض احمد، جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی اور کاشف ادیب جاودانی وغیرہ ایسے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔ اس موقع پر
محترم عثمان غنی، محترمہ ثمن عروج اور ڈاکٹر یاسر معراج وغیرہ نے بھی بطور مبصر پروگرام میں شرکت کی ۔
مقررین نے کہا کہ فلمیں ، ڈرامے اور تھٹر صرف تفریح کا ذریعہ یا سامان ہی نہیں، معاشرے کی اصلاح کا مؤثر ترین ذریعہ بھی ہیں ۔ یہ شعبہ ملکی معیشت میں سدھار لانے اور باصلاحیت لوگوں کے لیے حصول روزگار کا باعث بھی ہے ۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ابلاغ کے ان ذرائع کو مثبت سماجی تبدیلیوں کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا جارہا ؟ ۔ فلم سازی بحثیت صنعت دنیا بھر میں ترقی کر رہی ہے مگر ہمارے ہاں یہ شعبہ مسلسل زوال پزیر ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ جب پاکستان ٹیلیویژن پر قسط وار ڈرامے پیش کئے جاتے تھے تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں
 اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی حالات ماضی کے برعکس ہیں ۔ ہمارے تھیٹروں میں ایسے ڈرامے تسلسل سے پیش کئے جا رہے ہیں جو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے ہی نہیں جا سکتے ۔ سکرپٹ سے ہٹ کر ذو معنی بلکہ انتہائی فحش مکالمے بولنے کا رجحان معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھنے کا سبب بن رہا ہے ۔ ماں باپ اور بہن بھائی ایسے مقدس رشتوں کی حرمت اعلانیہ پامال ہو رہی ہے ۔ ایسے ڈرامے پیش کرنے والے صرف دولت اور شہرت کے بھوکے ہیں ۔ نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور فحاشی دنیا بھر سے زیادہ ، یہ سب اس شعبے کے لیے قابل عمل ضابطہ اخلاق نہ ہونے کا نتیجہ ہے، اس تناظر میں متعلقہ ارباب اختیار کی عدم توجہ کا جو عالم ہے اس کا الفاظ میں احاطہ مشکل ہے ۔ پاکستان ایسا اسلامی ملک ہے جہاں آج تک امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کی وزارت ہی قائم نہیں ہو سکی ۔ اسلامی تشخص کیا خاک مرتب ہوگا ۔ سٹیج ڈراموں سے عریانی اور فحاشی کا تدارک کرنے والے سرکاری اہلکار خود نہ صرف قابل عمل تجاویز سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں بلکہ مالی مفادات سمیٹ کر اس اخلاقی جرم کا حصہ بن چکے ہیں ۔
حالات متقاضی ہیں کہ معاشرے کا دانش ور طبقہ آگے بڑھ کر اس شعبے کی ترقی اور اصلاح کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے ۔ اصلاح احوال کے لیے ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ اساتزہ، والدین اور علمائے کرام کو بھی اپنی ذمے داریاں پوری کرنا ہوں گی بصورت دیگر منفی رجحانات کا یہ رجحان اس شعبے کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گا ۔ افسوس ہے کہ ہمارے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں طلاق، تشدد اور عاشقی معشوقی سے آگے نہیں بڑھ رہیں ۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ اس شعبے کی اصلاح کے لیے ژندہ ضمیر اور روشن خیال خواتین وحضرات کی خدمات حاصل کرے ۔ فلم ہو یا ڈرامہ جب تک کہانی جاندار اور سبق آموز نہیں ہو گی مثبت نتائج کا حصول محض خواب رہے گا ۔

تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا

فلمیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button