”تعلق کا وزن لفظوں سے نہیں، نیتوں سے ناپا جاتا ہے۔”
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رشتے، تعلقات، دوستیاں اور واسطے بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں، لیکن اگر ان کی گہرائی کو پرکھا جائے تو اکثر ان کی بنیاد اخلاص پر نہیں بلکہ مفاد پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

"تعلق کا وزن لفظوں سے نہیں، نیتوں سے ناپا جاتا ہے۔”
تحرہر: فرزانہ شہزاد
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رشتے، تعلقات، دوستیاں اور واسطے بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں، لیکن اگر ان کی گہرائی کو پرکھا جائے تو اکثر ان کی بنیاد اخلاص پر نہیں بلکہ مفاد پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
انسان جب کسی نئے تعلق کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اکثر اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ ابھرتا ہے:
”مجھے اس سے کیا فائدہ ہوگا؟”
اگر فائدے کی کوئی صورت نظر آ جائے تو قربتیں بڑھنے لگتی ہیں، ملاقاتیں ہونے لگتی ہیں، رابطے مضبوط ہونے لگتے ہیں۔ لیکن جہاں مفاد کی روشنی مدھم پڑنے لگے، وہاں اکثر تعلقات کے رنگ بھی پھیکے پڑ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے گرد ہجوم زیادہ نظر آتا ہے۔ دولت مند افراد کے دوست بھی زیادہ ہوتے ہیں، بااثر لوگوں کے خیرخواہ بھی بے شمار دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تعلقات میں کتنے لوگ واقعی مخلص ہوتے ہیں؟
اکثر لوگ محبت نہیں، منفعت تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں تعلقات کو کردار کے بجائے فائدے کے ترازو میں تولا جا رہا ہے۔ انسان کی خوبیوں سے پہلے
اس کی حیثیت دیکھی جاتی ہے، اس کے اخلاق سے پہلے اس کی طاقت کو پرکھا جاتا ہے، اور اس کے دل سے پہلے اس کے وسائل کو دیکھا جاتا ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ جوں جوں تعلیم عام ہوئی، ڈگریاں بڑھتی گئیں، عہدے بلند ہوتے گئے، ویسے ویسے اخلاص کی کمی بھی محسوس ہونے لگی۔ علم بڑھا، مگر حکمت کم ہو گئی۔ معلومات بڑھیں، مگر انسانیت سکڑتی چلی گئی۔
یہ جہالت کی ایک نئی شکل ہے؛ ایسی جہالت جو کتابوں کے صفحات میں نہیں بلکہ دلوں کی تنگی میں چھپی ہوئی ہے۔
لیکن زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مفاد وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر دائمی سکون نہیں دے سکتا۔
دنیا کے ہر تعلق کو اگر مفاد کے ترازو میں تولا جائے تو شاید کوئی رشتہ باقی نہ بچے۔ ماں کی محبت، باپ کی قربانی، استاد کی محنت، دوست کی وفاداری اور ایک مخلص انسان کی دعائیں — یہ سب مفاد سے کہیں بلند نعمتیں ہیں۔
کبھی فرصت کے چند لمحے نکال کر اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کیجیے:
میں نے کتنے لوگوں کو صرف اس لیے اہمیت دی کہ وہ میرے کام آ سکتے تھے؟
اور کتنے لوگوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مجھے ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا تھا؟
پھر اپنے دل سے پوچھیے کہ آپ کی زندگی کے سب سے خوبصورت تعلقات کون سے ہیں؟
وہ جو مفاد کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے؟
یا وہ جو اخلاص کے سائے میں پروان چڑھے تھے؟
جواب یقیناً اخلاص کے حق میں ہوگا۔
کیونکہ مفاد کا رشتہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، مگر اخلاص کا رشتہ وقت گزرنے کے ساتھ اور مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
دنیا کی نگاہ میں کامیابی دولت، شہرت اور اثر و رسوخ کا نام ہو سکتی ہے، لیکن رب کے ہاں اصل قدر اخلاص، نیک نیتی اور اعلیٰ اخلاق کی ہے۔
اس لیے تعلقات بنائیے، مگر مفاد کے لیے نہیں۔محبت کیجیے، مگر غرض کے بغیر۔خدمت کیجیے، مگر صلے کی امید کے بغیر۔
کیونکہ زندگی کے ترازو میں مفاد ہمیشہ شور مچاتا ہے، مگر آخرکار وزن اخلاص کا ہی بھاری نکلتا ہے۔
✍️ اختتامیہ
”دنیا کے بازار میں مفاد کی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن رب کے ہاں اخلاص ہی وہ دولت ہے جس کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہتا ہے


