کیا حراسمنٹ صرف چھونا ہے؟؟؟
ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی جسمانی حد عبور نہ کرے، جب تک کوئی واضح جنسی رویہ سامنے نہ آئے… تب تک حراسمنٹ نہیں ہوتی۔

کیا حراسمنٹ صرف چھونا ہے؟؟؟
ہم نے حراسمنٹ کو بہت محدود کر دیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ
جب تک کوئی جسمانی حد عبور نہ کرے،
جب تک کوئی واضح جنسی رویہ سامنے نہ آئے…
تب تک حراسمنٹ نہیں ہوتی۔
مگر کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا ایک انسان کو روزانہ ذہنی دباؤ میں رکھنا حراسمنٹ نہیں؟
کیا اسے بار بار نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دینا حراسمنٹ نہیں؟
کیا اسے سب کے سامنے ذلیل کرنا، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا
حراسمنٹ نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ حراسمنٹ صرف جسمانی نہیں ہوتی…
یہ ذہنی، انتظامی اور پیشہ ورانہ بھی ہوتی ہے۔
کام کی جگہوں پر ایک خاموش کلچر جنم لے چکا ہے۔
جہاں نہ کوئی ہاتھ اٹھتا ہے
نہ کوئی واضح جرم نظر آتا ہے…
مگر ایک انسان آہستہ آہستہ ٹوٹتا جاتا ہے۔
کبھی دباؤ کے ذریعے
کبھی تضحیک کے ذریعے
کبھی غیر یقینی مستقبل کے خوف کے ذریعے۔
یہی نفسیاتی حراسمنٹ ہے۔
حالیہ دنوں میں میڈیا کے بعض حلقوں میں ایسے الزامات بھی سامنے آئے
جن میں کہا گیا کہ کچھ نیوز رومز میں ملازمین کو شدید پیشہ ورانہ دباؤ
سخت رویوں اور مسلسل دھمکی آمیز ماحول کا سامنا رہا۔
بعض ذرائع کے مطابق ایک مرحوم میڈیا ورکر کے بارے میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا
کہ وہ نوکری کے حوالے سے عدم تحفظ
بار بار کی جواب طلبی
اور نکالے جانے کی دھمکیوں کے دباؤ میں کام کر رہے تھے۔
ان دعوؤں کی حتمی تصدیق اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے…
مگر سوال یہ ہے:
اگر ایسے بیانات بار بار سامنے آ رہے ہیں
تو کیا انہیں محض اتفاق کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
انتظامی حراسمنٹ کی ایک اور شکل بھی ہے۔
جب ایک افسر:
- بلاجواز شوکاز جاری کرے
- جانبدارانہ انکوائریاں کرے
- کچھ افراد کی غلطیوں پر پردہ ڈالے
- اور کچھ کو نشانہ بنائے
تو یہ صرف مینجمنٹ نہیں رہتی…
یہ ناانصافی بن جاتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اصول ختم ہو جاتے ہیں
اور ذاتی پسند و ناپسند قانون بن جاتی ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور مسئلہ جڑا ہوا ہے
کام کا غیر متناسب بوجھ۔
ایک شخص کو کئی افراد کا کام دینا
ناممکن ڈیڈ لائنز مقرر کرنا
اور پھر اس سے کارکردگی کا حساب لینا…
یہ پیشہ ورانہ تقاضہ نہیں
بلکہ ایک ایسا دباؤ ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو توڑ دیتا ہے۔
اور اب ایک نئی شکل، ڈیجیٹل حراسمنٹ۔
دفتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے
مگر واٹس ایپ ختم نہیں ہوتی۔
رات کے وقت آنے والی کالز
چھٹی کے دن پیغامات
اور ہر وقت دستیاب رہنے کی توقع…
یہ سب ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہے ہیں
جہاں ملازم کا ذاتی وقت تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
یہ سب کچھ ہو رہا ہے…
مگر سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ
اس پر بات نہیں ہو رہی۔
لوگ خاموش ہیں۔
کیونکہ نوکری کا خوف ہے
کیونکہ متبادل نہیں
کیونکہ سسٹم کے خلاف کھڑا ہونا آسان نہیں۔
سوال یہ نہیں کہ حراسمنٹ کیا ہے…
سوال یہ ہے کہ ہم اسے کہاں تک ماننے کے لیے تیار ہیں؟
کیا ہم اسے صرف جسمانی حد تک محدود رکھیں گے؟
یا یہ تسلیم کریں گے کہ
مسلسل دباؤ
تضحیک
دھمکیاں
جانبداری
اور غیر انسانی کام کا بوجھ بھی
حراسمنٹ کی ہی شکلیں ہیں؟
اور اگر یہ سب واقعی ہو رہا ہے…
تو پھر ایک اور سوال بھی ہے:
کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف جا رہے ہیں
جہاں انسان کی عزت سے زیادہ
اس کی کارکردگی اہم ہو گئی ہے؟
یا شاید اس سے بھی آگے…
جہاں کارکردگی کے نام پر
انسان کو خاموشی سے ختم کیا جا رہا ہے؟




