آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو

‎پاکستان: عوام کی ریاست یا طاقتوروں کی جاگیر؟

پاکستان ایک خواب تھا ایک ایسا خواب جس میں عوام کی حاکمیت، انصاف کی بالادستی اور ایک خودمختار ریاست کا تصور شامل تھا

66 / 100 SEO Score

عوام کی ریاست

پاکستان: عوام کی ریاست یا طاقتوروں کی جاگیر؟

 

تحریر: شہزاد عابد خان
پاکستان ایک خواب تھا ایک ایسا خواب جس میں عوام کی حاکمیت، انصاف کی بالادستی اور ایک خودمختار ریاست کا تصور شامل تھا۔ مگر 1947 سے 2024 تک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا یہ خواب کبھی حقیقت بن سکا، یا پاکستان رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو گیا جہاں اقتدار عوام کے بجائے طاقتور حلقوں کے گرد گھومتا رہا؟

‎قیام پاکستان کے فوراً بعد ریاستی ڈھانچہ کمزور تھا، مگر امید مضبوط تھی۔ محمد علی جناح کی وفات اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد یہ امید سیاسی عدم استحکام میں بدلنے لگی۔ آئین بنانے میں تاخیر، بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور بیوروکریسی کا بڑھتا ہوا اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتدار آہستہ آہستہ عوامی نمائندوں کے ہاتھوں سے نکل رہا تھا۔ 1958 میں پہلا مارشل لا لگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت اس سے پہلے ہی کمزور کی جا چکی تھی۔

‎ایوب خان کا دور پاکستان کی تاریخ کا ایک دلچسپ مگر متنازع باب ہے۔ ایک طرف ترقی، صنعت کاری اور انفراسٹرکچر کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا۔ کیا ترقی جمہوریت کی قیمت پر حاصل کی جا سکتی ہے؟ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ اسی دور میں طاقت کا وہ توازن قائم ہوا جس میں فوج صرف دفاعی ادارہ نہ رہی بلکہ ریاستی پالیسیوں کا اہم مرکز بن گئی۔

‎پھر آیا 1971—پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ۔ سقوطِ ڈھاکہ کو اگر صرف بھارتی سازش قرار دیا جائے تو یہ حقیقت سے فرار ہوگا۔ بھارت نے کردار ادا کیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اکیلا پاکستان توڑ سکتا تھا؟ 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان نے واضح مینڈیٹ دیا، مگر اقتدار منتقل نہ ہوا۔ طاقت کے استعمال نے سیاسی بحران کو جنگ میں بدل دیا۔ نتیجہ: پاکستان دو لخت ہو گیا۔

‎یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر عوام کے فیصلے کو تسلیم کر لیا جاتا تو کیا تاریخ مختلف ہوتی؟

‎کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ یہ ایک جائز اور اصولی مؤقف ہے، مگر اس کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی موجود ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ کیا کشمیر کا مسئلہ بعض اوقات داخلی طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا؟ کیا قومی سلامتی کے نام پر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں سویلین بالادستی ہمیشہ ثانوی حیثیت اختیار کرتی رہی؟

‎کارگل کا واقعہ اس سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ کیا اس قسم کے فیصلے مکمل طور پر منتخب حکومتوں کی مشاورت سے ہوتے رہے یا بعض اوقات طاقت کے دیگر مراکز بھی اہم کردار ادا کرتے رہے؟ یہ سوالات آج بھی مکمل طور پر جواب طلب ہیں۔

‎افغان جہاد پاکستان کی تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن موڑ تھا۔ امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مل کر سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ کے بدلے میں پاکستان کو مالی امداد ملی، مگر اس کے ساتھ ہی اسلحہ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت بھی آئی۔ سوویت یونین ٹوٹ گیا، مگر پاکستان کے اندر ایک ایسا سماجی و سکیورٹی بحران پیدا ہوا جس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔

‎نائن الیون کے بعد ایک بار پھر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونا شاید اس وقت کی مجبوری تھی، مگر اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے۔ ہزاروں پاکستانی جانوں سے گئے، معیشت کو نقصان پہنچا اور داخلی امن بری طرح متاثر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ میں پاکستان نے اپنی شرائط پر حصہ لیا یا عالمی دباؤ کے تحت فیصلے کیے؟

‎یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا، مگر مشکل سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کا فائدہ کس کو زیادہ ہوا؟ کیا پاکستان مضبوط ہوا یا مزید انحصار کا شکار؟

‎پاکستان کی سیاست بھی ایک عجیب دائرے میں گھومتی رہی۔ نواز شریف اور زرداری خاندان اس سیاست کے اہم کردار رہے۔ ان کے ادوار میں ترقیاتی منصوبے ضرور بنے موٹرویز، بجلی کے منصوبے، آئینی اصلاحات—مگر ساتھ ہی کرپشن، اقربا پروری اور خاندانی سیاست کے الزامات بھی لگتے رہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے کچھ کیا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک ایسا نظام قائم کر سکے جو شخصیات سے بالاتر ہو؟

‎پھر عمران خان آئے ایک امید، ایک بیانیہ، ایک وعدہ۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، ریاست مدینہ کا تصور دیا اور ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کرانے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں احساس پروگرام، صحت کارڈ اور کچھ سماجی اصلاحات قابلِ ذکر رہیں۔ کورونا کے دوران حکمت عملی کو بھی سراہا گیا۔

‎لیکن کیا عمران خان اس نظام کو بدل سکے جس کے خلاف وہ آئے تھے؟

‎یہاں تصویر کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔ معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل، ٹیم کی بار بار تبدیلی، سیاسی محاذ آرائی، اداروں کے ساتھ کشیدگی—یہ سب ان کے دور کا حصہ رہے۔ بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت ابتدا میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے قائم ہوئی، اور جب تعلقات خراب ہوئے تو نظام بھی ان کے خلاف ہو گیا۔

‎یہ سوال صرف عمران خان کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے: کیا پاکستان میں کوئی بھی وزیر اعظم واقعی مکمل اختیار رکھتا ہے؟

‎پاکستان کی عدلیہ اور میڈیا کا کردار بھی اس بحث سے الگ نہیں۔ عدلیہ نے بعض اوقات فوجی اقدامات کو قانونی جواز دیا، جبکہ میڈیا کبھی طاقتور حلقوں کے ساتھ کھڑا نظر آیا اور کبھی ان کے خلاف۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے لیے سچ اور بیانیے میں فرق کرنا مشکل ہوتا گیا۔

‎اور سب سے اہم سوال: عوام کہاں کھڑے ہیں؟

‎پاکستان کا عام شہری اس پورے نظام میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ وہ ٹیکس دیتا ہے، مہنگائی برداشت کرتا ہے، بجلی کے بل بھرتا ہے، مگر بدلے میں اسے نہ معیاری تعلیم ملتی ہے، نہ صحت، نہ انصاف۔ ہر حکومت وعدے کرتی ہے، ہر حکومت امید دیتی ہے، مگر نظام وہی رہتا ہے۔

‎کیا انتخابات واقعی عوام کی رائے کی مکمل عکاسی کرتے ہیں؟ یا وہ بھی ایک ایسے عمل کا حصہ ہیں جس میں کچھ حدود پہلے سے طے ہوتی ہیں؟

‎یہ سوالات خطرناک ضرور ہیں، مگر ناگزیر بھی۔

‎پاکستان کی تاریخ پڑھتے ہوئے انسان کبھی کبھی حیران رہ جاتا ہے۔ یہاں ہر بحران کے بعد ایک نیا بیانیہ جنم لیتا ہے، مگر سوالات وہی رہتے ہیں۔

‎1971 میں ملک ٹوٹ گیا، مگر ذمہ دار کون تھا؟

‎افغان جہاد میں ہم کود پڑے، مگر فائدہ کس کو ہوا؟

‎دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ستر ہزار سے زائد پاکستانی جانوں کی قربانی دی گئی، مگر امن آج بھی مکمل طور پر واپس کیوں نہیں آیا؟

‎اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد آئی، قرضے آئے، پیکیجز آئے، مگر پاکستان آج بھی آئی ایم ایف کے دروازے پر کیوں کھڑا ہے؟

‎یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب قوم کو آج تک مکمل طور پر نہیں مل سکے۔

‎ڈان لیکس کا تنازع ہو، پانامہ کا ہنگامہ ہو، منتخب وزرائے اعظم کی برطرفیاں ہوں یا سیاسی جماعتوں کی اچانک عروج و زوال کی داستانیں، پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ایک ایسا باب موجود رہا ہے جو عوام کے سامنے پوری طرح کبھی نہیں کھلا۔

‎کبھی ایک سیاسی جماعت "محب وطن” قرار پاتی ہے اور چند برس بعد "سیکیورٹی رسک” بن جاتی ہے۔ کبھی ایک سیاست دان ریاست کا پسندیدہ چہرہ ہوتا ہے اور پھر اچانک ریاستی بیانیے کا سب سے بڑا ناقد بن جاتا ہے۔ نواز شریف، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور عمران خان چاروں کی سیاسی زندگیوں میں یہ اتار چڑھاؤ مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔

‎یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بیشتر سیاست دان دودھ کے دھلے نہیں تھے۔ خاندانی سیاست، کرپشن کے الزامات، اقربا پروری، اختیارات کا غلط استعمال اور اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں پاکستانی سیاست کا مستقل حصہ رہی ہیں۔ لیکن دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے: اگر سیاست دان اتنے ہی نااہل اور کرپٹ تھے تو پھر سات دہائیوں سے ان کے متبادل کے طور پر پیش کیے جانے والے نظام عوام کو کیا دے سکے؟

‎ملک نے ایوب خان دیکھا، ضیاء الحق دیکھا، پرویز مشرف دیکھا، مگر کیا آج پاکستان جنوبی کوریا، ملائیشیا یا ترکی جیسی ترقی یافتہ ریاست بن سکا؟

‎اگر جواب نفی میں ہے تو پھر سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں، ان تمام طاقتور حلقوں سے بھی بنتا ہے جو خود کو ہمیشہ ریاست کا اصل محافظ قرار دیتے رہے ہیں۔

‎امریکہ کے ساتھ تعلقات کا باب بھی کم دلچسپ نہیں۔ سرد جنگ ہو، افغان جہاد ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان نے بارہا امریکی مفادات کے لیے فرنٹ لائن کردار ادا کیا۔ بدلے میں امداد ملی، اسلحہ ملا، سفارتی حمایت ملی۔ مگر کیا پاکستان ایک خودمختار اور معاشی طور پر مضبوط ریاست بن سکا؟ یا ہم امداد سے امداد اور قرض سے قرض تک کا سفر کرتے رہے؟

‎شاید اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان میں پالیسی کا تسلسل کبھی پیدا نہیں ہو سکا۔ ہر نیا حکمران پچھلے کو غدار، نااہل یا کرپٹ ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ ادارے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرتے ہیں۔ عوام کو مکمل سچ کبھی نہیں بتایا جاتا۔ اور جب تاریخ لکھی جاتی ہے تو ہر دور اپنا الگ بیانیہ تخلیق کر لیتا ہے۔

‎آج پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔

‎ایک راستہ وہ ہے جہاں عوام صرف ووٹ ڈالیں مگر فیصلے کہیں اور ہوں۔

‎اور دوسرا راستہ وہ ہے جہاں ریاست کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام کو اصل حاکم تسلیم کریں۔

‎یہ کالم کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا۔

‎ہم صرف چند سوال قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔

‎کیا سقوطِ ڈھاکہ صرف بیرونی سازش تھی؟

‎کیا افغان جہاد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے اپنے مفاد میں تھی یا دوسروں کے؟

‎کیا سیاسی انجینئرنگ نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا یا بچایا؟

‎کیا ہر بار عوام کے ووٹ کا احترام ہوا؟

‎اور سب سے اہم سوال:

‎پاکستان واقعی عوام کی ریاست ہے یا اب بھی طاقتور طبقات کے درمیان تقسیم شدہ اقتدار کی ایک ایسی کہانی، جس کا سب سے بڑا کردار عوام ہیں مگر سب سے کم اختیار بھی انہی کے پاس ہے؟

‎پاکستان کی تاریخ ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے: جب تک اقتدار اور جواب دہی ایک ہی جگہ پر نہ ہوں، نظام نہیں بدلتا۔ جب تک فیصلے کرنے والے عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہوں، ترقی محض ایک نعرہ رہتی ہے۔

‎یہ کالم کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔ یہ صرف آئینہ دکھاتا ہے۔

‎کیا پاکستان واقعی عوام کی ریاست ہے؟

‎یا پھر ایک ایسا ملک جہاں اقتدار کے اصل مراکز کہیں اور ہیں اور عوام صرف تماشائی؟

ہسپتال، خوف اور غصہ: عوام کے درمیان بڑھتی خلیج

عوام کی ریاست

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button