آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو
کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا وقت
اب جب کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی خواہش کے مطابق تہران عالم مشرق کا جینیوا بن چکا تو پھر اب عالم اسلام کی طرف سے کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کے لیے وقف ضائع کئے بغیر ایسے اقدامات اٹھائے جانے چاہییں

کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا وقت
اصغر علی کھوکھر
اب جب کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی خواہش کے مطابق تہران عالم مشرق کا جینیوا بن چکا تو پھر اب عالم اسلام کی طرف سے کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کے لیے وقف ضائع کئے بغیر ایسے اقدامات اٹھائے جانے چاہییں جن سے دنیا امن کا گہوارہ بن جائے کہ اگر مسلم ممالک نے یہ وقت بھی ضائع کر دیا تو شکست خوردہ قوتوں کو پھر جلد یا دیر سے سر اٹھانے کا وقت مل سکتا ہے ۔ چنانچہ مستقبل میں کوئی بھی برا وقت آنے سے قبل ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ تمام نسلی ، لسانی ، مزہبی یا علاقائی تنازعات کو پس پشت ڈال کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تاکہ باطل قوتوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ حکمت و دانائی سے کر سکیں ۔
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران نے جس ہمت ، حوصلے اور قومی جذبے سے جنگ لڑی اور جیتی ، یہ عصر حاضر میں تاریخ عالم کا ایک سنہری باب ہے جو بالخصوص وقت کے شیطان ثلاثہ کو ہمیشہ ازبر رہے گا ۔اس جنگ میں ایران نے جہاں دو ایٹمی طاقتوں امریکہ ، اسرائیل اور ان کے حواریوں کو دھول چٹائی بلکہ تگنی کا ناچ نچایا وہاں متعدد عرب ریاستوں پر یہ احسان بھی کیا کہ ان میں قائم امریکی اڈوں سے بھی ان کو نجات دلا دی تاکہ وہ مستقبل میں امریکی غلامی سے آزاد رہیں ۔ اب یہ عرب ریاستوں پر منحصر کہ وہ آگے چل کر ایران کے احسان مند رہ کر اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں اس کا دست و بازو بنتے ہیں یا احسان فراموش بن کر امریکہ اور اسرائیل کی گود میں دوبارہ جا بیٹھتے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ عرب ریاستیں دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ نہ صرف کھڑے رہیں بلکہ اگر وہ امریکہ اور اسرائیل سے بوجوہ خوف زدہ ہیں تو ایران سے اسی طرز کا دفاعی معاہدہ کرلیں جس طرح سعودی عرب نے پاکستان سے ماضی قریب میں کیا ہے ۔
وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ملت اسلامیہ جسم واحد بن جائے تاکہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین سمیت جہاں جہاں مسلمان امریکہ ، اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کے جبر کا شکار ہیں وہاں وہاں عالم اسلام ایک جھنڈے تلے متحد ہو کر باطل قوتوں کا مقابلہ کرے ۔ یاد رہے اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے ہمیں سب سے پہلے دین ملا سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے دین حق جو نبی خاتم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا، اس پر عمل پیرا ہونا ہو گا ۔ اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ ایران کو امریکہ کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابی پر پورا عالم اسلام بارگاہ الٰہی میں اجتماعی سجدہ شکر ادا کرے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید کامیابیوں سے نوازتا رہے اور یہ کہ دنیا میں قیامامن اسی صورت ممکن ہے جب ہم دفاعی جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں کہ شکست خوردہ دشمن سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنی عیارانہ اور مکارانہ فطرت سے کام لیتے ہوئے وقت کے فاتح اسلامی جمہوریہ ایران پر پھر حملہ آور نہ ہو جائے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کا حامی و ناصر ہو ۔امین ثم آمین یا رب العالمین ۔




