مشرق ایکسکلوزیو

توجہ کی محرومی: ایک خاموش سماجی المیہ

اسٹیج پر کھڑے وہ بچے بظاہر کامیاب تھے۔ ان کے ہاتھوں میں انعامات تھے، گلے میں میڈلز، اور چہروں پر وہ مسکراہٹ جو کسی کامیابی کے بعد فطری طور پر آتی ہے

85 / 100 SEO Score

توجہتوجہ کی محرومی: ایک خاموش سماجی المیہ

تحریر: فرزانہ شہزاد

اسٹیج پر کھڑے وہ بچے بظاہر کامیاب تھے۔ ان کے ہاتھوں میں انعامات تھے، گلے میں میڈلز، اور چہروں پر وہ مسکراہٹ جو کسی کامیابی کے بعد فطری طور پر آتی ہے۔ مگر اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو اس منظر میں ایک عجیب سی ادھوری کیفیت بھی موجود تھی—ایک خاموش خلا، جسے شاید خود وہ بچے بھی پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے تھے۔
یہ خلا تھا توجہ کا۔
وہ بچے بار بار ہال میں بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی نظریں کسی ایک لمحے کی تلاش میں تھیں—ایک نظر، ایک مسکراہٹ، ایک جملہ جو ان کی محنت کو تسلیم کر لے۔ مگر اسٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا معاشرہ کسی اور ہی مصروفیت میں الجھا ہوا تھا۔
ہر شخص کی توجہ اپنے سے بڑے عہدے، زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت یا کسی اہم مہمان کی طرف مرکوز تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے توجہ بھی ایک درجہ بندی کا حصہ بن چکی ہو، جہاں ہر فرد اپنی نظریں اوپر رکھنے پر مجبور ہے۔
اس دوڑ میں سب سے نیچے وہی رہ گئے جو اس لمحے کے اصل مرکز تھے، بچے۔
یہ منظر محض ایک تقریب کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک گہری بیماری کی علامت ہے۔ ہم نے کامیابی کی تعریف تو سکھا دی، مگر کامیابی کو محسوس کروانے کا ہنر کھو دیا ہے۔
بچوں کے لیے کامیابی صرف انعام حاصل کرنا نہیں ہوتی، بلکہ اس کامیابی کا دیکھا جانا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ایک بچہ اس وقت مکمل طور پر خوش ہوتا ہے جب کوئی اس کی محنت کو تسلیم کرے، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے محسوس کرائے کہ وہ اہم ہے۔
بدقسمتی سے، ہم نے اس بنیادی انسانی ضرورت کو نظر انداز کر دیا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں بدلتے جا رہے ہیں جہاں توجہ ایک قیمتی کرنسی بن چکی ہے، اور ہر کوئی اسے حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مگر اس دوڑ میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ توجہ صرف حاصل کرنے کی چیز نہیں، بلکہ دینے کی ذمہ داری بھی ہے۔
بچوں کے ساتھ یہ محرومی زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ایک بچہ جو بار بار نظر انداز ہوتا ہے، آہستہ آہستہ یہ ماننے لگتا ہے کہ وہ اہم نہیں ہے۔ اس کے اندر اعتماد کی جگہ ایک خاموش کمی جنم لیتی ہے، جو وقت کے ساتھ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک معاشرہ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ بغیر کسی شور کے، بغیر کسی اعلان کے۔
آج کے دور میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے توجہ کو ایک مقابلے میں بدل دیا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے دیکھا جائے، سراہا جائے، فالو کیا جائے۔ اس ماحول میں حقیقی، خالص اور براہِ راست توجہ کی قدر مزید کم ہو گئی ہے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو سہولیات فراہم کرنا ہی کافی ہے۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک بچے کے لیے سب سے بڑی ضرورت کسی مہنگی چیز کی نہیں، بلکہ ایک سچے لمحے کی ہوتی ہے—جہاں اسے مکمل توجہ دی جائے۔
اسٹیج پر کھڑے وہ بچے دراصل ہم سے یہی مانگ رہے تھے۔
ایک نظر…
ایک لمحہ…
ایک احساس کہ وہ اہم ہیں۔
مگر ہم سب اپنی نظریں اوپر رکھنے میں اتنے مصروف تھے کہ نیچے دیکھنا بھول گئے۔
یہی ہماری اصل ناکامی ہے۔
اور شاید یہی ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی خاموش محرومی بھی۔
کہ یہاں ہر کوئی توجہ چاہتا ہے، مگر توجہ دینے والا کوئی نہیں۔
توجہ

رنگا، بلا اور ہم: قاتل بدل گئے، سوال نہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button