آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو
اسلامی ریاست کا تصور اور پاکستان
"ظالم، خائن یا غاصب" کا قطعی حکم لگانا الگ مسئلہ ہے؛ یہاں ہم یہ جانچیں گے کہ اسلامی حکمرانی کے مطلوبہ اصولوں کے مقابلے میں پاکستان کے موجودہ ریاستی نظام اور حکومتی طرزِ عمل میں کہاں کہاں نمایاں خلا یا خلاف ورزی کے شواہد موجود ہیں

اسلامی ریاست کا تصور اور پاکستان
شہزاد عابد خان کے قلم سے۔۔۔۔
میں اس موضوع کو جذباتی یا جماعتی وابستگی کے بجائے قرآن، صحیح احادیث، پاکستان کے آئینی اصول اور موجودہ قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ کسی مخصوص حکمران یا حکومت پر شرعی طور پر "ظالم، خائن یا غاصب” کا قطعی حکم لگانا الگ مسئلہ ہے؛ یہاں ہم یہ جانچیں گے کہ اسلامی حکمرانی کے مطلوبہ اصولوں کے مقابلے میں پاکستان کے موجودہ ریاستی نظام اور حکومتی طرزِ عمل میں کہاں کہاں نمایاں خلا یا خلاف ورزی کے شواہد موجود ہیں۔
پاکستان کا آئین خود اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتا ہے اور قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ حصہ بناتا ہے، اس میں عدل، مساوات، آزادی، رواداری، سماجی انصاف، اقلیتوں کے حقوق اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی کے اصول شامل ہیں۔
1۔ اسلامی ریاست کی بنیادی بنیاد: اقتدار امانت ہے
قرآن کا اصول ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ”
(النساء 4:58)
ترجمہ: "یعنی اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔”
اسلامی ریاست میں وزارت، اسمبلی، پولیس، عدلیہ، سرکاری خزانہ، ضلعی انتظامیہ، حتیٰ کہ ایک معمولی سرکاری عہدہ بھی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
حکمران کے بارے میں یہی حدیث واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے۔
پاکستان میں مسئلہ کہاں ہے؟
جب سیاسی عہدے عوامی خدمت کے بجائے اقتدار، اثرورسوخ، خاندان، جماعتی وفاداری یا ذاتی مفاد کا ذریعہ بن جائیں تو یہ اسلامی تصورِ امانت سے ٹکراتا ہے۔
یہ صرف موجودہ حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی بیماری ہے۔
2۔ عدل: اسلامی ریاست کا سب سے بڑا ستون
قرآن کہتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ”
(النحل 16:90)
ترجمہ: "اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”
(النساء 4:135)
اور دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹائے:
"کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
(المائدہ 5:8)
پاکستان میں عملی امتحان
اسلامی معیار یہ ہے کہ:
حکومت کے حامی کو بھی وہی قانون ملے جو مخالف کو۔
طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو۔
سیاسی مخالف کے خلاف قانون انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔
پولیس طاقتور کے دباؤ میں نہ آئے۔
عدالتیں آزاد ہوں۔
مقدمہ ثابت ہونے سے پہلے کسی کو مجرم نہ سمجھا جائے۔
گرفتاری، تشدد یا حراست قانون کے مطابق ہو۔
یہاں پاکستان کا ریکارڈ تشویش ناک ہے۔ Freedom House کی 2026 رپورٹ نے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور due process دونوں کو انتہائی کم اسکور دیا ہے۔
ہیومن رائٹ واچ نے بھی 2025 کے حوالے سے من مانی حراست، ماورائے عدالت ہلاکتوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور شہری آزادیوں کے مسائل رپورٹ کیے۔
اسلامی اصول کے اعتبار سے یہ ایک بنیادی کمزوری ہے۔
3۔ قانون کی نظر میں سب برابر
اسلامی نظام میں بادشاہ، وزیر، جرنیل، جج، جاگیردار، تاجر اور غریب شہری سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔
نبی ﷺ نے اس اصول کو انتہائی واضح انداز میں بیان کیا کہ پچھلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کے لیے قانون الگ اور کمزور کے لیے الگ تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
"میرے آدمی کو بچاؤ، مخالف کو پکڑو” اسلامی حکومت نہیں۔
پاکستان میں سیاسی وابستگی کے مطابق قانون کے اطلاق پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ Freedom House کے مطابق فوجی اثرورسوخ، سیاسی مخالفین کے ساتھ ریاستی سلوک اور عدالتی عمل پاکستان کے rule of law کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں۔
4۔ حکمران کا احتساب
اسلامی حکومت میں حکمران خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا۔
حضرت عمرؓ کے دور کی مثالیں اسلامی سیاسی فکر میں اسی لیے اہم ہیں کہ خلیفہ خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتا تھا۔
اسلامی اصول یہ ہے:
جتنا بڑا عہدہ، اتنی بڑی جواب دہی۔
پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ احتساب اکثر غیر سیاسی اور مستقل ادارہ جاتی اصول کے بجائے سیاسی کشمکش کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک حکومت کے دور میں جس شخص کے خلاف احتساب ہوتا ہے، دوسری سیاسی صورتحال میں وہی عمل مختلف انداز سے دکھائی دیتا ہے۔
اسلامی نظام میں احتساب کا معیار ہونا چاہیے:
شخص نہیں، جرم
جماعت نہیں، قانون
عہدہ نہیں، ثبوت
5۔ کرپشن اور رشوت
قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
"آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اسے حکام تک پہنچاؤ کہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ گناہ کے ذریعے کھا جاؤ۔”
(البقرہ 2:188)
رسول اللہ ﷺ نے سرکاری عہدے دار کو ملنے والے "تحفے” تک کو خطرناک قرار دیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ یہ سرکاری مال ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے، تو نبی ﷺ نے پوچھا کہ اگر وہ اپنے والدین کے گھر بیٹھا ہوتا تو کیا اسے یہ تحفہ ملتا؟
یہ اسلامی حکمرانی میں conflict of interest کے تصور سے بھی آگے کی سخت احتیاط ہے۔
اسی طرح رشوت دینے اور لینے دونوں کی مذمت آئی ہے۔
پاکستان کا مسئلہ
ٹرانپریسی انٹرنیشنل 2025 کے سی پی آئی میں پاکستان کا اسکور 27/100 اور درجہ 136/182 تھا۔
اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہر پاکستانی افسر یا ہر حکمران کرپٹ ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی نظام میں بدعنوانی ایک سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے۔
6۔ اقربا پروری اور میرٹ
قرآن کا اصول:
"امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو۔”
(النساء 4:58)
یعنی سرکاری عہدہ قابلیت، دیانت اور اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اگر:
رشتہ داری
سیاسی وابستگی
ذاتی تعلق
سفارش
دولت
برادری
جاگیردارانہ اثر
میرٹ سے زیادہ اہم ہو جائیں تو یہ اسلامی اصولِ امانت کے خلاف ہے۔
یہ مسئلہ صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں؛ پاکستان کے مختلف صوبائی اور مقامی نظام میں بھی سفارش اور سیاسی اثرورسوخ کی شکایات ایک پرانا مسئلہ ہیں
7۔ شوریٰ اور عوام کی شرکت
قرآن مسلمانوں کی صفت بیان کرتا ہے:
"وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ”
"ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔”
(الشوریٰ 42:38)
اسلامی ریاست میں عوام محض ٹیکس دینے والی مخلوق نہیں؛ ان کی رائے، مشاورت اور سیاسی شرکت اہم ہے۔
پاکستان کا آئین بھی ریاستی اختیار کو منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرنے اور جمہوریت، آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں کی بات کرتا ہے۔
پاکستان میں خلا
مسئلہ انتخابات کے وجود سے زیادہ انتخابات کے آزاد، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہونے کا ہے۔
حالیہ آزاد کشمیر انتخابات میں بھی بعض حلقوں میں تاخیر، تشدد، دھاندلی کے الزامات اور انٹرنیٹ بندش جیسے مسائل رپورٹ ہوئے۔ گو کہ حکومت نے الزامات سے اختلاف کیا ہے لیکن یہ واقعات انتخابی اعتماد کے مسئلے کو ظاہر کرتے ہیں۔
8۔ آزادیٔ اظہار اور حکمران پر تنقید
اسلامی سیاسی روایت میں حکمران کو تنقید سے بالاتر نہیں بنایا گیا۔
قرآن کہتا ہے:
"وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا”
اور قرآن و سنت میں حق بات کہنے کی بڑی تاکید ہے۔
اسلامی حکومت کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کی تعریف کرنا فرض اور حکومت پر تنقید کرنا جرم ہو۔
پاکستان میں سب سے واضح خلا آزادیٔ اظہار، صحافت، سیاسی اختلاف اور انٹرنیٹ آزادی کے میدان میں نظر آتا ہے۔ عالمی تنظیموں نے بھی پاکستان میں سال 2025 کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادیٔ اظہار، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور وکلا پر دباؤ کے حوالے سے شدید تشویش ظاہر کی۔
حال ہی میں غیر ملکی میڈیا سے متعلق نئی پابندیوں پر بھی صحافتی آزادی کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے۔
9۔ عدلیہ کی مکمل آزادی
قرآن کا تقاضا ہے کہ فیصلہ عدل سے ہو۔
اسلامی ریاست میں جج حکمران کا ملازم نہیں بلکہ قانون اور اللہ کے سامنے جواب دہ شخص ہے۔
پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بھی عدلیہ کی آزادی کا اصول موجود ہے۔ لیکن پاکستان میں عدلیہ پر سیاسی، انتظامی اور طاقتور اداروں کے اثرات کے الزامات ایک مستقل مسئلہ رہے ہیں۔
مزید یہ کہ 2026 میں 27ویں آئینی ترمیم پر Amnesty International نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے۔
اسلامی معیار سے یہ انتہائی اہم سوال ہے:
کیا جج ہر طاقتور شخص کے خلاف بھی اسی آزادی سے فیصلہ کر سکتا ہے جس آزادی سے کمزور کے خلاف؟
اگر جواب "نہیں” ہو تو اسلامی معیار میں خرابی ہے۔
10۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
اسلامی حکومت میں ریاستی طاقت کا مقصد:
جان، مال، عزت اور حقوق کی حفاظت ہے۔
نہ کہ سیاسی مخالف کو دبانا۔
اگر پولیس:
سیاسی انتقام
جھوٹے مقدمات
تشدد
غیر قانونی گرفتاری
جبری اعتراف
رشوت
طاقتور کے تحفظ
کے لیے استعمال ہو تو یہ اسلامی ریاست کے مقصد سے متصادم ہے۔
ھیومن رائٹ واچ نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسوب سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، من مانی حراست اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی نشاندہی کی ہے۔
11۔ انسانی جان کی حرمت
قرآن:
"جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔”
(المائدہ 5:32)
ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کی جان کی حفاظت ہے۔
لہٰذا اسلامی ریاست میں:
دہشت گردی ناقابل قبول ہے
ماورائے عدالت قتل ناقابل قبول ہے
پولیس مقابلے کے نام پر قتل ناقابل قبول ہے
سیاسی قتل ناقابل قبول ہے
فرقہ وارانہ قتل ناقابل قبول ہے
ہجوم کے ہاتھوں قتل بھی ناقابل قبول ہے
ریاست کو دہشت گردی کے خلاف سخت ہونا چاہیے، لیکن ریاستی طاقت بھی شریعت اور قانون کے تابع ہونی چاہیے۔
12۔ اقلیتوں کے حقوق
یہ بہت اہم نکتہ ہے۔
قرآن:
"دین میں کوئی جبر نہیں۔”
(البقرہ 2:256)
پاکستان کے آئین کی قراردادِ مقاصد بھی اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر آزادانہ عمل اور اپنی ثقافت کی ترقی کی ضمانت دیتی ہے۔
اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہری:
جان کا تحفظ
مال کا تحفظ
عزت کا تحفظ
عبادت کی آزادی
قانونی تحفظ رکھتے ہیں۔
پاکستان میں اقلیتوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں، لیکن عملی سطح پر مذہبی تشدد، توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال، جبری تبدیلیٔ مذہب کے الزامات اور مذہبی عدم برداشت جیسے مسائل موجود ہیں۔
لہٰذا قانون کا وجود اور قانون کا منصفانہ نفاذ دو الگ چیزیں ہیں۔
13۔ غریبوں کا حق
اسلامی ریاست صرف سڑکیں بنانے والی حکومت نہیں۔
قرآن میں زکوٰۃ کے مستحقین واضح کیے گئے:
الفقراء، المساکین…
(التوبہ 9:60)
اور ریاست کا مقصد یہ ہے کہ دولت صرف امیروں کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔
"تاکہ مال تمہارے مالدار لوگوں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔”
(الحشر 59:7)
پاکستان کا مسئلہ
پاکستان میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، خوراک، صحت، تعلیم اور رہائش کے مسائل اسلامی ریاست کے welfare principle کو چیلنج کرتے ہیں۔
14۔ تعلیم
اسلامی تہذیب میں علم بنیادی قدر ہے۔
قرآن کی پہلی وحی ہی:
"اقْرَأْ” — پڑھو
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ غریب اور امیر دونوں کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔
پاکستان کے آئین میں بھی تعلیم اور سماجی بہبود سے متعلق ریاستی ذمہ داریاں موجود ہیں۔ وزارتِ انسانی حقوق کے آئینی خلاصے کے مطابق Article 37 تعلیم، سماجی انصاف اور سستی و فوری انصاف سمیت متعدد ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے۔
پاکستان میں:
سرکاری اسکولوں کا معیار
دیہی علاقوں کی محرومی
بچوں کا اسکول سے باہر ہونا
طبقاتی تعلیمی نظام
اسلامی تصورِ مساوات کے لیے بڑے سوال ہیں۔
15۔ صحت
اسلامی ریاست میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی welfare responsibility کا حصہ ہے۔
پاکستانی آئینی اصول بھی ریاست کو بنیادی ضروریات، طبی امداد اور سماجی و معاشی بہبود کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اگر غریب آدمی بیماری کی وجہ سے اپنا گھر بیچنے پر مجبور ہو اور امیر کو بہترین علاج ملے تو یہ مساواتِ انسانی کے اسلامی تصور کے خلاف ایک سنگین سماجی خلا ہے۔
16۔ ٹیکس کا نظام
اسلامی ریاست میں بیت المال کا نظام امانت اور عدل پر قائم ہونا چاہیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ اور ٹیکس وصولی دونوں میں ساختی عدم توازن موجود ہے۔
اسلامی اصول کے مطابق ٹیکس یا ریاستی مالی بوجھ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کمزور آدمی بنیادی ضروریات سے محروم اور طاقتور طبقہ نظام سے بچ نکلے۔
17۔ بیت المال اور عوامی دولت
یہ اسلامی حکومت کا نہایت حساس معاملہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سرکاری اہلکار کے لیے معمولی سے معمولی عوامی مال چھپانے کو بھی خیانت قرار دیا۔
لہٰذا اسلامی معیار میں:
سرکاری گاڑی
سرکاری زمین
سرکاری خزانہ
ترقیاتی فنڈ
سرکاری ٹھیکہ
بیرون ملک سرکاری دورہ
سرکاری مراعات
سب امانت ہیں۔
یہاں پاکستان کا بنیادی مسئلہ کرپشن سے زیادہ accountability culture کا ہے۔
18۔ سودی معیشت
یہ اسلامی ریاست کے تجزیے کا ایک بہت اہم پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن سود کے بارے میں انتہائی سخت حکم دیتا ہے:
"اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا۔”
(البقرہ 2:275)
اور سود کے معاملے میں:
"اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان”
(البقرہ 2:279)
پاکستان کی معیشت میں conventional banking اور سودی مالیاتی نظام کا بڑا حصہ موجود ہے۔
لہٰذا اگر سوال یہ ہو کہ:
کیا پاکستان کا موجودہ معاشی نظام مکمل اسلامی معاشی نظام ہے؟
تو جواب واضح طور پر نہیں ہوگا۔
یہ پاکستان کے اسلامی ریاست کے دعوے اور عملی معاشی نظام کے درمیان سب سے نمایاں structural gaps میں سے ایک ہے۔
19۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم
اسلام دولت رکھنے سے منع نہیں کرتا؛ لیکن:
ذخیرہ اندوزی
ناپ تول میں کمی
ناجائز منافع
رشوت
اجارہ داری
عوامی وسائل پر قبضہ
کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا
قرآن ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو سخت تنبیہ کرتا ہے:
"وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ”
(المطففین 83:1)
پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع اور market manipulation کے مسائل اسلامی اقتصادی عدل کے لیے اہم چیلنج ہیں۔
20۔ حکمرانوں کا عیش و آرام
اسلامی حکمران کے لیے اصل معیار یہ نہیں کہ وہ غریبوں جیسا لباس لازماً پہنے؛ بلکہ یہ ہے کہ عوام کے مال کو ذاتی عیش کا ذریعہ نہ بنائے۔
اسلامی حکمرانی میں حکمران کا طرزِ زندگی عوامی وسائل سے غیر معمولی طور پر ممتاز ہو جائے اور دوسری طرف عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہاں پاکستان کے سیاسی طبقے کے لیے بڑا سوال ہے:
کیا عوامی عہدہ خدمت ہے یا مراعات کا ذریعہ؟
21۔ خاندان اور موروثی سیاست
اسلام میں خاندان کی بنیاد پر کسی کو محض اس وجہ سے حکمرانی کا حق نہیں ملتا کہ وہ کسی حکمران کا بیٹا، بیٹی یا رشتہ دار ہے۔
اصل معیار:
اہلیت + امانت + عدل + قابلیت
ہے۔
پاکستان میں سیاسی خاندانوں کا مسلسل اقتدار میں رہنا اسلامی تصورِ اہلیت کے ساتھ ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے۔
لیکن یہ بھی واضح رہے کہ سیاسی خاندان میں پیدا ہونا بذاتِ خود شرعی جرم نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ عہدہ میرٹ، آزاد انتخاب اور عوامی اعتماد سے ملا یا ذاتی وراثت سمجھ کر۔
22۔ فرقہ واریت
قرآن:
"اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو۔”
(آل عمران 3:103)
اسلامی ریاست کو:
فرقہ وارانہ قتل
مذہبی نفرت
مساجد پر حملے
اقلیتوں پر حملے
تکفیری سیاست
کو روکنا چاہیے
پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی انتہا پسندی ایک بڑا ریاستی چیلنج رہے ہیں۔
لہٰذا اس پہلو میں ریاستی اقدامات موجود ہیں، لیکن مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
23۔ عورتوں کے حقوق
اسلامی ریاست میں عورت:
جان
عزت
وراثت
نکاح میں رضامندی
ملکیت
تعلیم
انصاف
کے حقوق رکھتی ہے۔
پاکستان کے آئین میں بھی خواتین کے حقوق اور قومی زندگی میں شرکت کے اصول موجود ہیں۔
لیکن:
خواتین کو وراثت سے محروم کرنا
گھریلو تشدد
کم عمری کی شادی
workplace harassment،
تعلیم کی کمی
honor crimes
اسلامی اصول کے خلاف ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون صرف کتاب میں نہ ہو بلکہ عملی تحفظ بھی فراہم کرے۔
24۔ بچوں کے حقوق
اسلامی ریاست میں بچے کی:
جان
تعلیم
خوراک
صحت
عزت
محفوظ بچپن
کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں child labour، بچوں کی تعلیم سے محرومی اور غذائی مسائل اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔
25۔ قیدیوں کے حقوق
اسلامی ریاست میں مجرم کو سزا دی جا سکتی ہے، مگر:
ظلم نہیں کیا جا سکتا۔
یعنی:
تشدد
جبری اعتراف
غیر قانونی حراست
قید میں غیر انسانی سلوک
اسلامی اصول کے خلاف ہیں۔
پاکستان کے criminal justice system میں custodial abuse، زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد اور fair trial کے مسائل بار بار سامنے آتے ہیں۔ Human Rights Watch نے بھی fair-trial اور detention کے حوالے سے متعدد خدشات درج کیے ہیں۔
26۔ ریاستی طاقت اور اختلافِ رائے
اسلامی ریاست میں بغاوت اور دہشت گردی سے نمٹنا ریاست کا حق ہے، لیکن پرامن اختلاف اور مسلح بغاوت ایک چیز نہیں۔
اگر کوئی شخص:
حکومت پر تنقید کرے، احتجاج کرے یا پالیسی سے اختلاف کرے
تو اسے صرف اختلاف کی وجہ سے دشمن سمجھنا اسلامی شوریٰ اور عدل کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔
27۔ گمشدگیاں اور جبری حراست
اسلامی اصول میں کسی انسان کو بغیر قانونی وجہ غائب کر دینا یا اس کے خاندان کو لاعلم رکھنا انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔
ریاست کو:
ثبوت + قانون + عدالت
کے راستے پر چلنا چاہیے۔
جبری گمشدگیوں کے حوالے سے پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے تشویش ظاہر کی ہے۔ HRCP نے 2025 میں بھی enforced disappearances اور خوف کے ماحول کا ذکر کیا۔
28۔ میڈیا پر ریاستی کنٹرول
اسلامی نظام میں جھوٹ پھیلانا بھی درست نہیں اور حکومت پر تنقید روکنا بھی درست نہیں۔
صحیح راستہ:
سچ + ذمہ دار صحافت + آزاد احتساب
ہے۔
ریاست کو جھوٹی خبر کے خلاف قانون استعمال کرنا چاہیے، مگر "حکومت کے خلاف خبر” اور "جھوٹی خبر” کو ایک چیز نہیں بنانا چاہیے۔
پاکستان میں اس حوالے سے واضح خلا موجود ہے۔
29۔ معیشت اور قرض
اسلامی ریاست کا مقصد صرف GDP بڑھانا نہیں بلکہ:
حلال روزگار + عدل + بنیادی ضروریات + دولت کی منصفانہ گردش
ہے۔
پاکستان کا بیرونی اور اندرونی قرض، fiscal pressure، مہنگائی، بجلی کے بلند اخراجات اور محدود tax base ریاست کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہیں۔
30۔ مقامی حکومت
اسلامی حکمرانی میں عوام کے مسائل کا حل ان کے قریب ہونا چاہیے۔
پاکستان میں مقامی حکومتیں نسبتاً کمزور رہی ہیں۔
یہ اسلامی تصورِ شوریٰ، عوامی خدمت اور مقامی جواب دہی کے لیے اہم سوال ہے۔
31۔ ریاست کا مذہب کے ساتھ تعلق
یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
اسلامی ریاست صرف اسلامی نعرے لگانے سے اسلامی نہیں بنتی۔
اسلامی ریاست کی شناخت صرف:
اسلامی نام،
مساجد،
مذہبی تقریبات،
اسلامی قوانین کے اعلانات
سے نہیں ہوتی۔
بلکہ اصل امتحان یہ ہے:
کیا غریب کو انصاف ملتا ہے؟
کیا طاقتور کو قانون کا خوف ہے؟
کیا سرکاری مال امانت سمجھا جاتا ہے؟
کیا اقلیت محفوظ ہے؟
کیا مظلوم کی آواز سنی جاتی ہے؟
کیا جج آزاد ہے؟
کیا حکمران کا احتساب ہوتا ہے؟
اگر یہ چیزیں نہیں تو محض مذہبی نعرہ اسلامی حکمرانی کا متبادل نہیں۔
32۔ پاکستان کا آئین خود کیا کہتا ہے؟
یہ سب سے دلچسپ بات ہے کہ پاکستان کے آئینی اصول اور اسلامی حکمرانی کے کئی بنیادی اصول ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔
پاکستان کے آئین میں:
اسلام ریاستی مذہب ہے؛
قراردادِ مقاصد آئین کا حصہ ہے؛
قانون کے تحفظ کا حق ہے؛
بنیادی حقوق موجود ہیں؛
مساوات کا اصول ہے؛
مذہبی آزادی کا اصول ہے؛
سماجی انصاف کا تصور ہے؛
ریاست کو معاشی و سماجی بہبود کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
مسئلہ زیادہ تر اصول لکھنے سے زیادہ ان کے نفاذ میں ہے۔
تو پھر سب سے بڑے خلاف ورزی والے شعبے کون سے ہیں؟
اگر تمام پہلوؤں کو جمع کریں تو میری غیر جانب دار درجہ بندی میں پاکستان کو سب سے بڑے سوالات ان میدانوں میں درپیش ہیں:
اسلامی اصول پاکستان میں صورتِ حال
عدل: سنگین خلا
قانون کی بالادستی: سنگین سوالات
عدلیہ کی آزادی: شدید تشویش
سیاسی مساوات: کمزور
آزاد انتخابات : اعتماد کا بحران
آزادیٔ اظہار : نمایاں پابندیاں
کرپشن سے پاک نظام: بڑا ساختی مسئلہ
سرکاری مال کی امانت: کمزور احتساب
اقلیتوں کا تحفظ : آئینی ضمانت، عملی مسائل
غریبوں کی کفالت: ناکافی
تعلیم: بڑا خلا
صحت : بڑا خلا
خواتین کے حقوق: قانونی پیش رفت، عملی مسائل
بچوں کے حقوق: بڑا خلا
سود سے پاک معیشت: موجودہ نظام اسلامی معیار پر پورا نہیں اترتا
شوریٰ: موجود، مگر عملی طور پر کمزور
مقامی حکومت: کمزور
رشوت : اسلامی اصول سے واضح تصادم
سیاسی انتقام: مسلسل الزام اور ادارہ جاتی مسئلہ
ریاستی تشدد/غیر قانونی حراست: سنگین انسانی حقوق کے خدشات
زیادہ درست تجزیہ یہ ہے:
پاکستان کا آئینی تصور بڑی حد تک اسلامی اصولوں کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ریاستی عمل ان اصولوں کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
پاکستان کے آئین کی قراردادِ مقاصد خود اللہ کی حاکمیت، منتخب نمائندوں کے ذریعے اختیار، جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف، قرآن و سنت کے مطابق زندگی، اقلیتوں کے حقوق اور عدلیہ کی آزادی کا وعدہ کرتی ہے۔
لہٰذا پاکستان کا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
"کیا پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ ہے؟”
بلکہ اصل سوال یہ ہے:
"کیا ریاست اپنے اختیار کو اللہ کی امانت سمجھ کر عدل، شوریٰ، مساوات، امانت، احتساب، انسانی جان و مال کی حفاظت، غریب کی کفالت، اقلیتوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے؟”
اور اس معیار پر دیکھا جائے تو پاکستان میں کئی شعبوں میں واضح اور سنجیدہ خلا موجود ہے۔
ساتھ ہی انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حکومت کی درست سمت میں کی جانے والی کوششوں کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے—مثلاً آئینی بنیادی حقوق، سماجی پروگرام، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، بعض معاشی اصلاحات اور حالیہ مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اقدامات۔ ورنہ تجزیہ تنقید تو بن جائے گا مگر تحقیق نہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی اصول "آئینی دعوے” کی سطح پر نسبتاً مضبوط ہیں، مگر "ادارہ جاتی عمل، مساوی نفاذ اور احتساب” کی سطح پر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن و سنت کا معیار پاکستان کی موجودہ حکمرانی کو سب سے زیادہ چیلنج کرتا ہے۔




