مشرق ایکسکلوزیومشرق اردو ادب
ایک مظلوم لڑکی کی درد بھری داستان
شادی دو دلوں اور خاندانوں کا ملن ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی وہی رشتہ کسی لڑکی کے لیے امتحان بن جاتا ہے ۔ جب شوہر نشے کا عادی ہو ، ہاتھ اٹھائے اور ظلم کی ہر حد پار کرے تو اس لڑکی کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں ۔ خاموشی سے ٹوٹ جانا یا خود کو بچانے کے لیے کھڑا ہونا۔


ایک مظلوم لڑکی کی درد بھری داستان
نوشی حنیف
شادی دو دلوں اور خاندانوں کا ملن ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی وہی رشتہ کسی لڑکی کے لیے امتحان بن جاتا ہے ۔ جب شوہر نشے کا عادی ہو ، ہاتھ اٹھائے اور ظلم کی ہر حد پار کرے تو اس لڑکی کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں ۔ خاموشی سے ٹوٹ جانا یا خود کو بچانے کے لیے کھڑا ہونا۔
زیر نظر کہانی ایک ایسی ہی بیٹی کی ہے جس نے تشدد برداشت کیا اور خود کے لیے کھڑے ہونے کا مشکل ترین فیصلہ کیا ۔ عائشہ جو کہ ایک غریب گھر کی پڑھی لکھی اور معاملہ فہم بیٹی تھی کی شادی نعیم نامی ایک *ایسے* شخص سے کی گئی جو نشے کا عادی تھا ۔ اس نے عائشہ کی زندگی کو تماشا بنا دیا ۔ نشے کی لت صرف ایک شخص کو تباہ نہیں کرتی ، پورے خاندان کا سکون برباد کر دیتی ہے۔
جب شوہر نشے میں ہو تو اس کا رویہ انتہائی جارحانہ ہو جاتا ہے ۔ گالی دینا اور مار پیٹ کرنا اس کا معمول بن جاتا ہے عائشہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ اس نے سوچا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا کہ شادی کے بعد صبر کرنا ہی پڑتا ہے لیکن اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد بڑھتا گیا۔ جب عزت نفس روز کچلی جائے تو خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا ۔ سمجھ بوجھ رکھنے والی بیٹی فورا *میکے* میں شکایت نہیں کرتی ۔ وہ رشتہ بچانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے.
معمولی شکایات پر درگزر کرتی ہے اور والدین کو بتانے سے گریز کرتی ہے ۔ وہ امید رکھتی ہے کہ معاملات سدھر جائیں گے لیکن عائشہ والا معاملہ اس کے برعکس تھا اس پر ظلم اتنا بڑھ گیا کہ حقائق چھپانا اس کے بس میں نہ رہا ۔ جب معلوم ہونے پر اس کے گھر والے عائشہ کے شوہر سے بات کرنے کے لیے گئے تو لڑکے نے شرط عائد کر دی کہ عائشہ میرے گھر والوں سے معافی مانگے تو وہ اسے رکھنے کے لیے تیار ہے ۔ یہ شرط حقیقت کے برعکس *تھی* ، معافی ظلم کرنے والا مانگے ، نہ کہ مظلوم لڑکی۔ عائشہ کے گھر والوں نے جواب دیا ۔ حالات واضح ہو گئے کہ مسئلہ عائشہ میں نہیں ، خاوند کے تلخ رویے اور گندی ذہنیت میں تھا ۔
مختصر یہ کہ شادی کے صرف دو ماہ بعد عائشہ کے خلع کا فیصلہ ہو گیا جو بظاہر اتنا اسان نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ معاشرہ سوال اٹھاتا ہے ۔ رشتے دار طعنے دیتے ہیں کہ اتنی جلدی کیا ہو گیا ۔ لڑکی میں ہی ضرور کوئی کمی ہوگی ۔ لوگوں *کے* ایسے جملے بیٹیوں کے دلوں کو چیر دیتے ہیں ۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مجبوری میں خلع حاصل کرنا کمزوری نہیں ، خود کو ظلم سے بچانے کا قانونی اور شرعی حق ہے جو اسلام نے عورت کو دیا ہے ۔ تاکہ وہ ظلم سے نجات حاصل کر سکے ۔عائشہ نے سمجھا کہ اگر اج وہ چپ رہی تو کل کو یہی ظلم میرے شوہر کا معمول بن جائے گا ۔ *لہذا* اس نے خود کو ظلم سے بچانے کے لیے خلع کا راستہ چنا ۔ ہمارے ہاں بیٹی کو اکثر کہا جاتا ہے کہ صبر سے کام لو گی تو تمہارا گھر بچ جائے گا ۔ لڑکے نشہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ خلع لو گی تو لوگ کیا کہیں گے ؟ یہ جملے ظالم کو مضبوط اور مظلوم کو مزید کمزور کرتے ہیں سچ یہ ہے کہ نشے کا عادی جب تک علاج کا مصمم ارادہ نہ کر لے، وہ سدھر نہیں سکتا ، مزید یہ کہ جب تک قانون اور اس کا خاندان اسے نہ روکیں ، وہ رکتا نہیں ۔

اس موقع پر ماں باپ اور بہن بھائیوں کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے اگر وہ بیٹی کو حوصلہ دیں کہ تم اکیلی نہیں ہو تو وہ بہادر بن کر کھڑی ہو جاتی ہے اگر طعنے ملیں کہ جلد بازی کیوں کی برداشت کر لیتی تو بیٹی اندر سے ٹوٹ جاتی ہے ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ باپ کے گھر سے ڈولی اٹھتی ہے اور شوہر کے گھر سے جنازہ، اس بات نے بہت سی بیٹیوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ وہ شوہروں کے ظلم سہتی *رہتی* ہیں لیکن گھر والوں سے شکایت نہیں کرتیں اور اگر کوئی *بیٹی ہمت ہار جائے* تو خودکشی کر لیتی ہے اگر کوئی ہمت کر کے اپنے شوہر سے قانونی طریقے سے علیحدگی کا فیصلہ کر لے اور گھر واپس آ جائے تو گھر والوں کے طعنے مار دیتے ہیں ۔ عائشہ کو بھی گھر واپسی کے بعد اسانی نہ تھی۔
ابتدا میں ماں باپ نے سہارا دیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے گلے لگانے والے بھی طعنے دینے لگے کہ ہماری ناک کٹ گئی ہے ۔ اب تم سے کون کرے گا شادی ؟ برداشت کر لیتی تو بہتر تھا ۔ ایسے طعنے ذہنی تشدد سے کم نہیں ہوتے ۔ وقتی سہارا ملتا تو ہے لیکن ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ یہاں وہ قبولیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے ۔طعنے سن کر انسان پہلے ٹوٹتا ہے پھر غصے میں اتا ہے اور اخر میں ہوش سنبھالنے کی فکر کرتا ہے ۔ عائشہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ شروع میں اسے لگا کہ شاید غلطی اسی کی ہے ۔ اس کی راتیں روتے گزریں۔
وہ لوگوں کی نظروں سے بچنے لگی ۔ ایک دن اس نے خود سے سوال کیا کہ کیا میری غلطی یہ ہے کہ میں نے ظلم برداشت کرنے سے انکار کیا تھا ۔ یہی سوال زندگی میں اس کے لیے موڑ بن گیا ۔ وہ سمجھ گئی کہ لوگ تو باتیں کرتے رہیں گے مگر زندگی تو اسی نے گزارنی ہے ۔ خلع کے بعد زندگی ختم نہیں ہوجاتی ۔ ایک نیا باپ شروع ہو جاتا ہے ۔ پہلا قدم : اپنا تحفظ اور ذہنی سکون کو یقینی بنانا ۔ والدین کا گھر اس وقت سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتا ہے ۔
دوسرا قدم : نفسیاتی سہارا لینا جسمانی تشدد دماغی صحت کو متاثر کرتا ہے ۔ ایسے مواقع پر کونسلنگ ضروری ہوتی ہے ۔
تیسرا *قدم* : قانونی راستہ اختیار کرنا اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ۔
چوتھا قدم : خود کو دوبارہ کھڑا کرنا ۔ تعلیم ، ہنر یا کام — جو بھی ممکن ہو اس لئے کہ خود مختار بننا ضروری ہوتا ہے ۔ بار بار دھوکہ کھانے کے بعد دل میں ایک تلخی سی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس بیٹی کو بھی شادی سے نفرت ہو گئی جو کہ یہ فطری عمل ہے ۔ ایک رشتہ جو کہ سکون دینے کے لیے تھا وہی زخم دے تو دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن نفرت ہمیشہ کے لیے کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسے سمجھ ائی کہ مسئلہ شادی کے فیصلے میں نہیں ، غلط شخص کے انتخاب میں تھا۔
اب وہ شادی سے ڈرتی تو ہے مگر زندگی سے نہیں ۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر کبھی دوبارہ رشتہ بنے بھی تو صرف عزت اور برابری کی بنیاد پر بننا چاہیے ۔ سچا سہارا وہی ہوتا ہے جو طعنوں کا باعث بننے کے بچائے ہاتھ تھام لے ۔ یہ کہانی ناکامی کی نہیں ، ہمت کی ہے ۔ ایک بیٹی نے دو ماہ میں سمجھ لیا تھا کہ ظالم کے ساتھ زندگی بسر کرنا عقل مندی نہیں۔
اس نے تشدد برداشت کیا ۔ طعنے سہے لیکن خود کو کھونے سے بچا لیا ۔ شادی کا مقصد سکون کا حصول ہوتا ہے ، نہ کہ قید ۔ جہاں سکون ختم ہو جائے وہاں رشتے کو نئے سرے سے دیکھنا ہی عقل مندی ہے ، کمزوری نہیں اور سب سے بڑی جیت یہ ہے کہ اب وہ کسی کی محتاج نہیں بلکہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔






