تاریخ کے اوراق

زہر کے دریا سے آب حیات پینے والے سید الشہدا

‎ ‎ہر دور کے یزید کے سامنے جھکنے کی بجائے کلمہ حق کے ساتھ کھڑے ہونا ہی مومن کا فرض ہے۔ شہادت کے راستے پر بزدلی کے پھاٹک لگا کر یزید کے ظلم سہنا حیات مومن نہیں ہے

81 / 100 SEO Score

زہر کے دریا سے آب حیات پینے والے سید الشہدا

‎تحریر:  ظفر اقبال ظفرکے
‎سیدنا حسین ؓ ددھیال کی طرف سے بنو ہاشم اور سیدنا علی مرتضیٰؓ کے فرزند ارجمند ہیں اور ننھیال کی طرف سے بضعتہ رسول ﷺ سیدہ نساء العالمین فاطمۃ الزہرہ (رضی اللہ عنہا) کے گوہر انمول اور اہل بیت نبوی ﷺ کے روشن چراغ ہیں نجیب الطرفین ہاشمی ہیں خاندان عرب میں حسبی نسبی حیثیت سے اپنے عہد میں شرف و بلندی و عظمت میں نمایاں نام سیدنا حسین ؓ کا ہے آپ کی ولادت ۵ شعبان ۴ھ میں ہوئی۔
‎حضرت حسین ؓ کی شہادت سمجھ ہی تب آتی ہے جب آپ کی حیات مبارکہ کو سمجھا جائے غم شہادت اپنی جگہ معتبر اہمیت رکھتا ہے مگر حیات حسین ؓ ہماری آخرت کی تیاری کا اہم راستہ ہے واقعہ شہادت درس استقامت ہے تو حیات مبارکہ راہنما اصول ہے۔ اسوۂ حسینی دراصل اسوۂ رسول کا عکس کامل ہے۔
سیدنا حسین ؓمذہبی علوم و کمالات کے علاوہ اس عہد عرب کے مروجہ علوم و فنون میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے فن خطابت سیر و رجال کے کتب میں موجود ہے مدینہ سے کربلا کے سفر میں اور میدان کربلا میں جو خطبات آپ ؓ نے ارشاد فرمائے وہ فصاحت و بلاغت اور خطابت کے بہترین شاہکار ہیں۔ اسی طرح آپ ؑکے ملفوظات کلمات طیبات اور حکیمانہ مقولے اخلاق و حکمت کا عظیم سبق ہیں۔
‎آپؓ انتہائی عابد و زاہد تھے، عبادت در حقیقت دل کی پاکیزگی روح کی صفائی اور عمل کے اخلاص کی غرض و عایت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نماز ،زکوٰۃ، روزہ، حج اور حقوق العباد کی بجا آوری میں پیش پیش رہتے تھے۔ آپ ؓ  مجلس میں وقار و متانت کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ آپ ؑ حد درجہ متواضع تھے ادنیٰ اشخاص سے بے تکلف ملتے تھے۔ ایک دفعہ کسی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں کچھ فقراء کھانا کھا رہے تھے۔ آپؑ کو دیکھ کر انہوں نے آپؓ کو مدعو کیا۔
ان لوگوں نے کہا کہ اے فرزند رسول ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیں۔ ان کی درخواست پر آپ فوری سواری سے اترے اور کھانے میں شرکت کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا، میں نے تماری دعوت قبول کی ہے تم بھی میری دعوت قبول کرو، ان کو گھر لے جاکر کھانا کھلایا۔ ایثار وحق پرستی آپؓ کی کتاب فضائل اخلاق کا نہایت جلی عنوان تھا۔ آپؓ مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ آپ ؓنے جو جہاد کیے وہ اسلام کی تاریخ کے روشن کارنامے ہیں اور انہی سرابیوں سے دین حق کا باغ آرائے نبوت کے ہاتھوں سرسبز و شاداب ہوا۔ چنانچہ آپؓ نے اسلامی غزوات میں بھی شرکت فرمائی، ۰۳ ھ میں افریقہ، خراساں، طرابلس، جراں اور طبرستان کی جنگوں میں مجاہدانہ شریک ہوئے۔
غزوہ قسطنطنیہ جو ۱۵ ھ میں پیش آیا اس میں آپؓ نے بہادی کے جوہر دیکھائے اور جرات و غریمت کی تاریخ رقم کی۔ سخاوت میں آپ ؓ کی مثال نہیں ملتی خاندانی روایات کے موافق حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی سائل مدنیہ کی گلیوں میں گومتا ہوا آپؓ کے در پر پہنچا، دروازے پر دستک دیتے ہوئے اشعار کی صورت میں اپنی حاجت پیش کرنے لگا، آپؓ اس وقت نماز میں مصروف تھے، اپنی نماز میں تخفیف کرکے باہر تشریف لائے، دیکھا سائل پہ فقر و فاقہ کے آثار تھے۔ فوری گھر لوٹے اپنے غلام قنبر کو آواز دی وہ حاظر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہمارے نفقہ میں سے تمہارے پاس کیا کچھ باقی ہے؟ اس نے عرض کی کہ دو صد درہم ہیں اور آپؓ نے حکم دے رکھا ہے کہ اسے ہمارے اہل خانہ پر صرف کیا جائے،  یہ سن کر آپؓ نے فرمایا کہ وہ درہم لاؤ ہمارے اہل خانہ کی بہ نسبت زیادہ حق دار شخص آ گیا ہے، پھر وہ درہم سائل کو سونپ دئیے۔ آپ  ؓ مہمانوں کی خدمت کرتے۔ چاہنے والوں کو دیتے۔ اپنوں کو بخشش کرتے۔ محتاج کی حاجت پوری کرتے۔ سائل کو محروم نہ کرتے۔ ننگوں کو کپڑا پہناتے۔ بھوکے کو کھانا کھلاتے۔ قرضدار کا قرض ادا کرتے اور کمزور کی مدد کرتے فرماتے۔ یتیم پر مہربانی کرتے۔ ضرورت مند کی اعانت کرتے۔ جہاں آپؓ کے ہاتھ میں مال آتا مستحق میں تقسیم کرڈالتے۔ حاجیوں کو پانی پلاتے۔
عہد کی پاسداری میں آپ کی مثال نہیں ملتی۔ آپؓ تمام صحابہ کا احترام فرمایا کرتے تھے۔ سید نا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن ؓ سرور دوعالم  ﷺ کے ساتھ سینہ سے سر مبارک تک مشابہ تھے اور سیدنا حسین ؓ سینے سے لے کر قدموں تک زیادہ مشابہ تھے حضور  ﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسین ؓ جنت کے پھول ہیں جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ میرے لیے دنیا میں خوشبو ہیں۔ جس نے ان سے پیار کیا اس نے مجھ سے پیار کیا۔
جس نے ان کے ساتھ بغض رکھا اس نے مجھ سے رکھا۔حسین ؓ مجھ سے ہے میں حسین ؓ سے ہوں اور نبی کریم  ﷺ نے فرمایا حسن ؓ کے لیے میری ہیبت میری سرداری جرات سخاوت میرا ورثہ ہے۔
‎حجاز کے سادات کا یزید کی بیعت سے صاف انکار تھا۔ امیر معاویہ ؓ کی زندگی میں تو یہ معاملہ یہیں تک رہا کہ شام و عراق کے عام لوگوں نے یزید کی بیعت قبول کر لی اور دوسرے حضرات نے جب یہ دیکھا کہ یزید پر مسلمانوں نے بڑی تعداد مجتمع ہو گئی مگر اہل مدینہ اور خصوصاََ سیدنا حسین ؓ، سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ، سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ، بیعت یزید کے انکار پر ثابت قدم رہے اور کسی کی پراہ کئے بغیر حق بات کا اعلان کرتے رہے کہ یزید ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کو مسلمانوں کا خلیفہ بنایا جائے۔
یہاں تک کہ امیر معاویہؓ کی وفات ہو گئی اور یزید بن معاویہ نے ان کی جگہ لے لی حق کی سر بلندی کے مقصد کی اہمیت نے آپؓ کو خطرات کا مقابلہ کرنے پر مجبور کیا اور زی الحجہ ۰۶ھ کی تیسری تا آٹھویں تاریخ کو آپ مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔
‎اس وقت یزید کی طرف سے مکہ کا حاکم عمرو بن سعد العاص مقرر تھا ان کو جب آپ ؓ کے آنے کی خبر ملی تو چند آدمی راستے میں ان کو روکنے کے لیے بھیجے، سیدنا حسین ؓ نے واپسی سے انکار فرمایا اور آگے بڑھ گئے۔ عراق و کوفہ کے مسلمانوں کو باطل کی غلامی سے نجات اور حق کی فضا بخشنے پر اپنا ایمان اور زمہ داری بے چین کئے ہوئے تھے۔ یزید کی تمام تکلیفوں، مشکلوں، سازشوں کا صبر و حکمت سے سامنا کرتے ہوئے دس محرم سے پہلے اپنے تمام اہل بیت اور ساتھیوں کو جمع کیا ان کے سامنے حمد و ثنا  کے بعد یہ تقریر کی۔
‎میں اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں کسی اور کے ساتھیوں کو زیادہ وفادار نہیں سمجھتا اور نا کسی کے اہل کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا سمجھتا ہوں اللہ تم لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے مجھے یقین ہے کل جنگ ضرور ہوگی اسی لیے میں بخوشی واپس جانے کی اجازت دیتا ہوں تم لوگ اپنے شہر دیہاتوں میں چلے جاؤ رات ہو چکی ہے ایک ایک اونٹ لے لو یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یزید کے
لوگ مجھے ہی تلاش کریں گے میرے بعد کسی کی تلاش نا ہو گی دشمن مجھے ہی قتل کرنا چاہتا ہے۔
‎اس تقریر کے بعد جانثاروں کی جوابی تقریریں ہوئیں جس میں آپؓ کے صاحبزادے، بھائیوں، بھتیجوں اور عبداللہ بن جعفر ؓ کے دونوں صاحبزادوں نے پُر جوش پُر درد تقریریں کیں متفقہ طور پر جن جذبات کا اظہار کیا گیا وہ یہ تھے۔
‎آپ تنہا لڑ کر اللہ کی راہ میں اپنی جان دیں اور ہم جان کے خوف سے بھاگ جائیں اور زندہ رہیں اللہ ہم کو یہ دن نہ دیکھائے، یہ ہم سے ناممکن ہے ہماری نسلی شرافت اور غیرت کے منافی ہے ہم کیا منہ دیکھائیں گے اور کیا جواب دیں گے ہم سے پوچھاجائے گا ہم اپنے آقا اپنے سردار کو چھوڈ کر آئے ہم یہ کس منہ سے کہیں گے کہ ہم جنگ میں شریک نہیں ہوئے نہ اُنؓ کے لیے تیر چلایا نا تلوار کا وار کیا خدا کی قسم ہم لوگ آپؓ سے جُدا نہیں ہوں گے ہم اپنی جان مال اہل و عیال سب آپؓ پر قربان کر دیں گے جو حشر آپؓ کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا آپؓ کے بعد ہمارا جینا بیکار ہے ان کے بعد اور ساتھیوں نے بھی تقریریں کیں جو ارادت و جان نثاری کے جوش میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
‎اس کے بعد میدان کربلا میں جو قیامت ٹوٹی اس کو لکھنے کا حوصلہ میرے پاس نہیں ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ دنیا سے محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ یزید کا دل دنیا کی محبت کے لیے ہوس کی زنجیر سے جکڑا تھا۔ اس لیے وہ شہرت و اقتدار میں اندھا ہوا۔ انجام سے غافل ہو کر آل رسول ﷺ سے غداری کے عوض یزید کی ناپاک حکومت تین برس چھ ماہ رہی ربیع الاول چوبیس ہجری کو ملک شام کے شہر ہمس کے علاقے حوارین میں انتالیس سال کی عمر میں مر گیا۔
‎وہ تخت ہے کس قبر میں وہ تاج کہاں ہے
‎اے خاک بتا زور یزید آج کہاں ہے
‎یزید کی چند برس دنیا و آخرت کی عبرت زدہ حکومت کا خاتمہ زلت و رسوائی کا حقدار ٹھہری۔ مگر حسین ؓ آج بھی پوری انسانیت کے دلوں ہر حکومت کر رہے ہے یہ راج تاقیامت قائم رہے گا حسینیت اور یزیدیت کی جنگ تا قیامت حق و باطل کا فرق رکھنے کو جاری رہے گی۔
‎  سیدنا حسین ؓ کی شہادت کا واقعہ ہمیں اس چیز کا خصوصیت سے درس دیتا ہے کہ جس چیز کو آپ نے باطل سمجھا اس کے آگے ڈٹ گئے، استقامت کا پہاڑ بن گئے۔ آپؓ سے جرات و بہادی کا درس ملتا ہے۔ قربانی و جان نثاری کا سبق ملتا ہے اس گھمسان کی لڑائی میں کسمپری کے عالم میں آپؓ یاد اللہ سے غافل نہیں رہے صوم و صلوٰتہ کے پابند رہے، صبر کا دامن نہیں چھوڑا اُمت محمدیہ ﷺ کے آغاز دنیا سے لے کر اختتام دنیا تک تمام شہدا کے سر کا تاج ہیں اور حق کے لیے جان قربان کرنے کو ابدی زندگی کا آغاز قرار دے گئے۔
‎بے شک حسین ؓ وہ شہید ہیں جن پر خود شہادت کو ناز ہے۔
آپؓ سے پیار و محبت و وفا کا ثبوت اور یقین اسی بات میں ہے کہ آپ ؓ کے نقش قدم پر زندگی گزاری جائے اور باطل کو تسلیم کرنے کی بجائے شہادت کو ترجع دی جائے۔ ظلم سہہ کر جو حق سامنے آتا ہے وہ تاقیامت اثر رکھتا ہے۔ خدا کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا مگر حضرت امام حسین ؑ پر جو بوجھ ڈالا وہ ان کی روحانی طاقت کے اعتبار سے تھا۔ اپنا سر کٹوا کر حق کا سر تاقیامت بلند کر دینا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر دور کے یزید کے سامنے جھکنے کی بجائے کلمہ حق کے ساتھ کھڑے ہونا ہی مومن کا فرض ہے۔ شہادت کے راستے پر بزدلی کے پھاٹک لگا کر یزید کے ظلم سہنا حیات مومن نہیں ہے اللہ کریم ہمیں عمل حسینی کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

عقیدہ درست انسان چست شیطان سست

کے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button