آج کا کالممشرق ایکسکلوزیو

رنگا، بلا اور ہم: قاتل بدل گئے، سوال نہیں

دو بچے گیتا چوہڑا اور سنجے چوپڑا گھر سے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ قاتل کلجیت سنکھ رنگا اور جسبیر سنکھ بلا پکڑے گئے، عدالت نے سزائے موت سنائی، اور بالآخر پھانسی دے دی گئی

86 / 100 SEO Score

رنگارنگا، بلا اور ہم: قاتل بدل گئے ہیں، سوال نہیں

✍️ شہزاد عابد خان
نبضِ حالات
1978 کی وہ شام اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، مگر اس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
دو بچے گیتا چوہڑا اور سنجے چوپڑا گھر سے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔
قاتل کلجیت سنکھ رنگا اور جسبیر سنکھ بلا پکڑے گئے، عدالت نے سزائے موت سنائی، اور بالآخر پھانسی دے دی گئی۔
کہانی یہاں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کہانیاں کبھی ختم ہوتی ہیں؟
اگر ہم سچ کا سامنا کریں تو جواب ہے: نہیں۔
کیونکہ آج پاکستان میں بھی ہر چند دن بعد کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جو ہمیں اسی خوف، اسی بے بسی اور اسی سوال کی طرف لے جاتا ہے۔
کبھی کسی بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل…
کبھی اغوا کے بعد لاش برآمد…
کبھی دن دیہاڑے درندگی…
خبریں بدل جاتی ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، نام بدل جاتے ہیں۔
مگر کہانی وہی رہتی ہے۔
یہاں ایک تلخ حقیقت ہے جس سے ہم اکثر نظریں چرا لیتے ہیں:
رنگا اور بلا صرف دو افراد نہیں تھے،
وہ ایک سوچ تھی۔
وہ سوچ جو انسان کو درندہ بنا دیتی ہے۔
اور یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں جرم کے بعد ایک ریاست حرکت میں آئی،
تحقیقات ہوئیں، ملزمان پکڑے گئے، مقدمہ چلا، اور سزا دی گئی۔
اور یہاں؟
یہاں اکثر کہانی یوں ہوتی ہے۔
ایف آئی آر کے لیے دربدر ٹھوکریں
پولیس کی سستی یا بے حسی
بااثر افراد کا دباؤ
عدالتوں میں سالہا سال تاخیر
اور کبھی کبھی… انصاف قبر تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے۔
یہ بات تلخ ضرور ہے مگر حقیقت ہے کہ پاکستان میں انصاف کا نظام صرف کمزور نہیں، بلکہ عام آدمی کے لیے اکثر ناقابلِ رسائی محسوس ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قانون موجود ہے یا نہیں
سوال یہ ہے کہ کیا قانون حرکت میں آتا بھی ہے یا نہیں؟
پھانسی سے ایک رات پہلے رنگا اور بلا کی کیفیت کا فرق ہمیں ایک اور سبق دیتا ہے۔
ایک مجرم سکون سے سو گیا…
اور دوسرا پوری رات بے چین رہا۔
یہ صرف دو افراد کی نفسیات نہیں
یہ اس بات کی علامت ہے کہ جرم کے بعد بھی انسان کے اندر کہیں نہ کہیں ایک جنگ جاری رہتی ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے:
کیا ہمارا معاشرہ بھی کبھی بے چین ہوتا ہے؟
یا ہم صرف چند دن شور مچاتے ہیں، اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں؟
قصور، چکوال، لاہور، کراچی…
ایسے کتنے شہر ہیں جہاں ننھے جنازے اٹھے،
مگر نظام نہیں بدلا۔
ہر واقعے کے بعد ہم کہتے ہیں:
"اب نہیں، اب بس!”
مگر کچھ دن بعد…
پھر وہی خاموشی، وہی بے حسی، وہی معمول۔
یہ کالم کسی ایک واقعے کا نوحہ نہیں،
یہ ایک مسلسل المیے کی داستان ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:
جرم صرف مجرم نہیں کرتا،
جرم ایک کمزور نظام بھی کرتا ہے،
جرم ایک خاموش معاشرہ بھی کرتا ہے۔
آج اگر ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سزاؤں کی بات نہیں کرنی ہوگی، بلکہ نظام کو بدلنا ہوگا:
فوری اور شفاف انصاف
پولیس کی اصلاحات
بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات
اور سب سے بڑھ کر… اجتماعی شعور
ورنہ سچ یہی ہے کہ:
رنگا اور بلا تو 1982 میں پھانسی چڑھ گئے،
مگر ان کی کہانی آج بھی زندہ ہے
ہر اس خبر میں، ہر اس چیخ میں، ہر اس ماں کی آنکھ میں
جو اپنے بچے کا انتظار کرتی ہے۔

دوسرا پہلو

پھانسی سے ایک رات پہلے دو قاتل ایک ہی جیل میں، ایک ہی انجام کے منتظر تھے۔
ایک نے معمول کے مطابق کھانا کھایا، سو گیا، جیسے اگلے دن کوئی خاص بات نہ ہونے والی ہو۔
دوسرا پوری رات جاگتا رہا، کوٹھڑی میں چکر لگاتا رہا، بڑبڑاتا رہا، بے چین رہا، شاید خوف سے، شاید پچھتاوے سے، یا شاید موت کے احساس سے۔
یہ تھے رنگا اور بلا۔
1978 میں بھارت کے دو معصوم بہن بھائیوں کے قتل نے پورے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ قاتل پکڑے گئے، مقدمہ چلا، سزائے موت سنائی گئی اور بالآخر 1982 میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
آج پاکستان میں عیشال فاطمہ، زینب، ثناء یوسف اور بے شمار دوسرے نام ہمارے اجتماعی ضمیر پر دستک نہ دے رہے ہوتے۔
حقیقت یہ ہے کہ رنگا اور بلا مر گئے، مگر وہ سوچ نہیں مری جو انسان کو درندہ بناتی ہے۔
چند روز قبل جھنگ کی نوجوان طالبہ عیشال فاطمہ کی پراسرار موت نے پورے ملک کو ہلا دیا۔ سوشل میڈیا پر دعوے، الزامات، ویڈیوز، افواہیں اور جذباتی مہمات چلتی رہیں۔ پولیس نے گرفتاریاں کیں، تحقیقات شروع ہوئیں۔  آج بھی عوام کے ذہن میں سوالات موجود ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور انصاف کا انجام کیا ہوگا۔
اس سے پہلے قصور کی زینب تھی، جس کی لاش نے پورے ملک کو رلا دیا تھا۔ اس کیس نے یہ ثابت کیا کہ بعض اوقات درندے ہمارے درمیان ہی چل پھر رہے ہوتے ہیں، اور ہم انہیں پہچان بھی نہیں پاتے۔
پھر رانی پور کی کمسن فاطمہ تھی، جس کی موت نے جاگیردارانہ طاقت، کمزور قانون اور غریب کی بے بسی کو بے نقاب کیا۔
اور پھر ثناء یوسف جیسی کہانیاں ہیں جہاں سوشل میڈیا کی چکاچوند، جنون اور بیمار ذہنیت ایک نئی شکل میں سامنے آتی ہے۔
ہم ہر واقعے کے بعد ایک ہی سوال پوچھتے ہیں:
"پولیس کہاں تھی؟”
"عدالت کہاں تھی؟”
"ریاست کہاں تھی؟”
یہ سوال اپنی جگہ درست ہیں۔
پولیس کی نااہلی، سیاسی دباؤ، ناقص تفتیش اور برسوں پر محیط عدالتی کارروائیاں ایک حقیقت ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔
لیکن کیا سارا قصور صرف پولیس اور عدالت کا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس سے ہم اکثر بھاگ جاتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ ہمارے گھروں میں کیا ہو رہا ہے؟
کیا ہم اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں یا صرف انہیں موبائل فون، انٹرنیٹ اور مکمل آزادی دے کر مطمئن ہو گئے ہیں؟
کیا ہم اپنے بیٹوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ عورت احترام کے قابل انسان ہے یا صرف ایک شے؟
کیا ہم اپنی بیٹیوں کو اعتماد دے رہے ہیں یا صرف خوف؟
کیا ہم اپنے بچوں کے دوستوں، ان کی آن لائن سرگرمیوں، ان کے ذہنی رجحانات اور ان کے روزمرہ معمولات سے واقف بھی ہیں؟
سوشل میڈیا نے دنیا کو جوڑا بھی ہے اور توڑا بھی ہے۔
آج ایک تیرہ یا چودہ سال کا بچہ ایسے مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جس کا تصور بھی چند دہائیاں پہلے ممکن نہیں تھا۔
تشدد، فحاشی، نفرت، بلیک میلنگ، جعلی تعلقات، آن لائن شکاری، نشے کی ترغیب، اخلاقی انتشار — سب کچھ ایک اسکرین کے فاصلے پر موجود ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی تو اپنے بچوں کے ہاتھ میں دے دی، مگر شعور اور نگرانی نہیں دی۔
ہم نے آزادی تو دی، مگر ذمہ داری نہیں سکھائی۔
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں۔
جرائم صرف عدالتوں میں پیدا نہیں ہوتے۔
جرائم کی جڑیں گھروں، گلیوں، سکولوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور معاشرتی رویوں میں ہوتی ہیں۔
ایک قاتل جیل میں پیدا نہیں ہوتا۔
وہ پہلے ایک بچہ ہوتا ہے۔
پھر ایک نوجوان بنتا ہے۔
پھر آہستہ آہستہ اس کی سوچ، اس کے رویے اور اس کے اعمال اسے اس مقام تک لے جاتے ہیں جہاں انسانیت ختم اور درندگی شروع ہو جاتی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ غربت، بے روزگاری، منشیات اور قانون کی کمزوری جرائم کو بڑھاتی ہیں۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف غربت جرائم کی وجہ نہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے تمام غریب مجرم ہوتے اور تمام امیر فرشتے۔
اصل بحران اخلاقی زوال کا ہے۔
اصل بحران کردار کا ہے۔
اصل بحران اس سوچ کا ہے جس میں ہر شخص اپنی آزادی تو چاہتا ہے مگر اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتا۔
رنگا اور بلا کی کہانی ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ دو قاتل کیسے پھانسی چڑھے۔
وہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ایک معاشرہ اگر وقت پر جاگ نہ سکے تو اس کے بچے قیمت ادا کرتے ہیں۔
آج پاکستان میں بھی ہر ماں کے دل میں وہی خوف ہے جو 1978 میں گیتا اور سنجے چوپڑا کے والدین کے دل میں پیدا ہوا تھا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ نام بدل گئے ہیں۔
شہر بدل گئے ہیں۔
خبریں بدل گئی ہیں۔
مگر خوف نہیں بدلا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف پولیس، عدالت اور حکومت سے سوال نہ کریں۔
ایک سوال خود سے بھی کریں۔
جب اگلا سانحہ ہوگا تو کیا ہم پھر چند دن سوشل میڈیا پر غصہ نکال کر خاموش ہو جائیں گے؟
یا اس بار اپنے گھروں، اپنی تربیت، اپنی اقدار، اپنے تعلیمی نظام اور اپنی اجتماعی ذمہ داری کا بھی جائزہ لیں گے؟
کیونکہ سچ یہ ہے کہ اگر معاشرہ خود بیمار ہو جائے تو صرف پھانسیاں اسے صحت مند نہیں بنا سکتیں۔
رنگا اور بلا کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
مگر آج بھی ہمارے درمیان بے شمار نئے رنگا اور بلا پیدا ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم انہیں پہچاننے اور روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

انصاف یا اذیت؟ عدالتوں میں سسکتی ریاست کی کہانی

رنگا
رنگا
رنگا
رنگا
مشرق اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button