بجٹ 2026: وعدے، دعوے اور عوام کی ٹوٹتی امیدیں
کیا اس بار بجٹ واقعی عوام کو ریلیف دے گا یا مہنگائی کا ایک اور طوفان آنے والا ہے؟ "نبضِ حالات" میں پڑھیں ایک ایسا کالم جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔

بجٹ 2026: وعدے، دعوے اور عوام کی ٹوٹتی امیدیں
پاکستان میں بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا، یہ امیدوں، خدشات، وعدوں اور اندیشوں کا ایک ایسا سالانہ میلہ ہے جس میں حکومت کامیابیوں کے جھنڈے لہراتی ہے اور عوام اپنی جیبیں ٹٹولتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس بار ان کے حصے میں کیا آیا ہے۔ جون کا مہینہ آتے ہی سرکاری ایوانوں میں ترقی، استحکام، معاشی بحالی اور روشن مستقبل کے دعوے گونجنے لگتے ہیں جبکہ بازاروں، چائے خانوں اور گھروں میں ایک ہی سوال گردش کرتا ہے:
"اس بار کیا مہنگا ہوگا؟”
اس مرتبہ بھی منظر کچھ مختلف نہیں۔ حکومت معاشی استحکام کی بات کر رہی ہے، وزراء اعداد و شمار کے ذریعے کامیابیوں کے قصے سنا رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت میں بہتری کے اشارے دے رہے ہیں۔ مگر عام آدمی کے ذہن میں سوال یہ ہے کہ اگر واقعی حالات بہتر ہو رہے ہیں تو پھر اس بہتری کا عکس اس کی زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر بجٹ سے پہلے عوام کو ریلیف کی امید دلائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، سرمایہ کاری بڑھے گی اور عام آدمی کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ لیکن اکثر ایسا ہوا کہ بجٹ پیش ہونے کے چند ہفتوں بعد بجلی، گیس، پٹرول، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔ عوام کو احساس ہوا کہ جن اعداد و شمار کو ترقی کہا جا رہا تھا وہ ان کی زندگی سے بہت دور کی چیز تھی۔
اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسی ہی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان اب بھی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت چل رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور اخراجات پر کنٹرول پر زور دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی توانائی کی قیمتوں کو لاگت کے مطابق رکھنے کی بات ہو رہی ہے، جس کا مطلب اکثر عوام کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر معیشت کو درست کرنا ضروری ہے تو اس کا بوجھ ہمیشہ ایک ہی طبقے پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟
کیا اس بار بھی تنخواہ دار طبقہ نئے ٹیکسوں کی زد میں آئے گا؟ کیا ایک مرتبہ پھر رجسٹرڈ کاروبار اور سفید پوش ملازمین ہی مالیاتی نظم و ضبط کی قیمت ادا کریں گے جبکہ طاقتور طبقات اپنے مفادات کا تحفظ کر لیں گے؟ بعض معاشی ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ مجوزہ بجٹ میں محصولات بڑھانے کا دباؤ زیادہ تر انہی طبقات پر پڑ سکتا ہے جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔
ایک اور سوال عوام کے ذہن میں شدت سے موجود ہے۔
کیا حکومت اپنے اخراجات کم کرے گی؟
کیا وزراء، مشیروں، سرکاری پروٹوکول، غیر ملکی دوروں، سرکاری گاڑیوں اور مراعات میں کمی آئے گی؟
کیا پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور ریاستی اداروں کے اخراجات پر بھی اسی شدت سے نظر ڈالی جائے گی جس شدت سے عام آدمی کے بجلی کے بل پر نظر رکھی جاتی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ قربانی کا مطالبہ ہمیشہ عوام سے کیا جاتا ہے۔ مزدور سے کہا جاتا ہے کہ حالات مشکل ہیں۔ سرکاری ملازم سے کہا جاتا ہے کہ خزانہ محدود ہے۔ پنشنر سے کہا جاتا ہے کہ وسائل کم ہیں۔ لیکن جب عوام حکمران طبقے کی زندگی دیکھتے ہیں تو انہیں کہیں بھی بحران دکھائی نہیں دیتا۔
سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے کیونکہ گزشتہ برسوں میں مہنگائی نے ان کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا بجٹ میں صرف سرکاری ملازمین کا ذکر ہوگا یا اس مزدور کا بھی جو روزانہ اجرت پر کام کرتا ہے؟ کیا اس کسان کا بھی خیال رکھا جائے گا جو بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود اپنی فصل کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا؟ کیا اس ریڑھی بان، دکاندار اور فیکٹری ورکر کے لیے بھی کوئی خبر ہوگی جو کسی سرکاری پے اسکیل کا حصہ نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ نچلے اور متوسط طبقے نے اٹھایا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا سب سے شدید اثر عام گھرانوں پر پڑتا ہے اور خوراک کی مہنگائی ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنتی ہے۔
پھر توانائی کا مسئلہ ہے۔
عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا بجلی مزید مہنگی ہوگی؟
کیا گیس کے نرخ بڑھیں گے؟
کیا پٹرولیم مصنوعات پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا؟
کیا پانی کے نرخوں میں اضافہ ہوگا؟
یہ سوال اس لیے پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ ماضی میں ہر بجٹ کے بعد عوام کو کسی نہ کسی شکل میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس ساری صورتحال میں حکومت کے اتحادی جماعتوں کا کردار بھی اہم ہے۔ اقتدار میں شریک سیاسی قوتیں کیا صرف وزارتوں اور اختیارات کے تحفظ تک محدود رہیں گی یا وہ عوامی مفاد کے لیے بھی کوئی مؤثر آواز بلند کریں گی؟ کیا پارلیمنٹ میں یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ معاشی اصلاحات کا بوجھ یکساں طور پر تقسیم کیوں نہیں ہوتا؟ کیا مراعات یافتہ طبقے بھی اسی قربانی میں شریک ہوں گے جس کا مطالبہ عوام سے کیا جاتا ہے؟
شاید اصل مسئلہ بجٹ نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔
عوام نے کئی دہائیوں سے ایسے بجٹ دیکھے ہیں جن میں وعدے زیادہ اور نتائج کم تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ بس ایک سال اور مشکل برداشت کر لیں، پھر حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر ایک اور سال آیا، پھر ایک اور بجٹ، پھر ایک اور وعدہ۔
آج بھی پاکستانی عوام معاشی معجزے نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس ملک میں قربانی کا معیار سب کے لیے ایک جیسا ہوگا؟ کیا اشرافیہ بھی وہی تکلیف محسوس کرے گی جو ایک مزدور، ایک استاد، ایک کلرک، ایک پنشنر اور ایک دکاندار برسوں سے محسوس کر رہا ہے؟
بجٹ 2026 تقریر ختم ہو جائے گی، میزیں بج جائیں گی، حکومتی بنچوں سے داد بھی مل جائے گی اور اپوزیشن تنقید بھی کر لے گی۔ مگر اصل فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں ہوگا۔
اصل فیصلہ تو عوام کریں گے۔
وہ اپنے بجلی کے بل کو دیکھ کر کریں گے۔
وہ پٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر کریں گے۔
وہ سبزی والے کی دکان پر قیمت پوچھ کر کریں گے۔
اور پھر طے کریں گے کہ یہ بجٹ واقعی امیدوں کا پیامبر تھا یا مایوسیوں کا ایک اور باب۔
فیصلہ بہرحال انہی کے ہاتھ میں ہے۔

