آج کا کالم
تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف معرکہ حق باطل میں اہل ایران نے عملاً ثابت کر دیا ہےکہ ایران عالم مشرق کا جینیوا بن چکا اور کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے

تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا
اصغر علی کھوکھر
اہل ایران خاص طور پر وہاں کے صاحبان اقتدار شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی تربت پر آ کر ایسے ہی دعائیں نہیں مانگتے اور سلوٹ نہیں مارتے ، در حقیقت اقبال لاہوری کی لاثانی اور لافانی فکر ، اقبال کے علم ، حلم ، تدبر اور تفکر کے قائل ہو چکے ہیں ۔ وہ فکر اقبال کی اہمیت کو نہ صرف سمجھ چکے ہیں بلکہ حالیہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف معرکہ حق باطل میں اہل ایران نے عملاً ثابت کر دیا ہےکہ ایران عالم مشرق کا جینیوا بن چکا اور کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ حالیہ جنگ میں ایران نے وقت کے شیطان ثلاثہ پریہ ثابت کر دیا ہے کہ
مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
یاب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ ‘لا تَخَفْ’
اور یہ کہ اس معرکہ حق و باطل میں یہ بھی ثابت ہو چکا کہ عالم اسلام آج بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقوامِ عالم کی رہنمائی کرتے ہوئے دنیا میں قیام امن سمیت تمام سماجی و معاشی اور سیاسی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے عالم اسلام متحد ہو جائے تاکہ اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں عملاً مضبوط اور متحرک نظر آئے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام دشمن قوتیں مالی اعتبار سے جتنی مضبوط اور جدید سامان حرب وضرب سے لیس ہیں اس، اس سے کہیں بڑھ کر معاملات طے کرنے میں عیار اور پرلے درجے کی مکار ہیں ۔ اس تناظر میں ملت اسلامیہ کو جہاں مستحکم حکمت عملی سے کام لینا چاہیے وہاں پوری اسلامی دنیا سے دین ملا جسے اقبال نے فی سبیل اللہ فساد قرار دیا ہے سے نجات حاصل کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارا ماضی اور حال گواہ ہیں کہ مسلمانوں میں جعفر از بنگال اور صادق از دکن ایسے غداروں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی۔ عصر حاضر میں اس کی بڑی مثال خود ایران ہے جہاں بیگانوں سے کہیں زیادہ اپنے آستین کے سانپوں نے نا قابل تلافی جانی اور مالی نقصان پہنچایا ۔ اس ضمن میں بالخصوص ایران ، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی وغیرہ کی حکومتوں کا اولین فرض ہے کہ وہ امہ سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دین اور ضمیر فروشوں پر گہری نظر رکھیں ۔ یاد رہے کہ ایسے لوگ بھیس بدل کر ہماری صفوں میں ہی بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ایسے غداروں کا صفایا کیے بغیر کھلی اسلام دشمن قوتوں کی شر انگیزیوں سے سو فیصد محفوظ رہنا ممکن نہیں ۔
عالمی سطح کی سروے رپورٹوں کے مطابق ایران سے شکست خوردہ ٹرمپ صرف بوکھلاہٹ کا شکار ہی نہیں، تواتر سے اوٹ پٹانگ اور بےبنیاد بیانات دینے سے باز نہیں آ رہا ۔ یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا پالا ایک حقیقی توحید پرست اور غیور قوم سے پڑا ہے وہ اوچھی سے حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ۔ ٹرمپ کی یہ ناپسندیدہ روش صرف ایران ہی نہیں، ٹرمپ کے قریبی حواریوں کے علاوہ پوری دنیا کے لئے ناقابل برداشت اور ناپسندیدہ فعل ہے ۔ اس تناظر میں اقوام عالم خاص طور پر پاکستان جو کہ ایران اور امریکا کے مابین جنگ رکوانے اور خطے میں مستقل قیام امن کے لیے سہولت کار بہترین کردار ادا کر رہا ہے کو چاہیے کہ وہ ٹرمپ کو غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے باز رکھنے پر آمادہ کرے تاکہ قیام کی کوششوں کو نقصان نہ پہنچنے پائے ۔ اس نوعیت کی کوشش عالم اسلام کا اجتماعی فریضہ ہے، اکیلے پاکستان یا ایران کا ہی کام نہیں ۔ کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا خواب اسی صورت حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب امت مسلمہ خلوص نیت سے ایک پرچم تلے جمع ہوکر باطل قوتوں کے مقابلے میں آہنی دیوار بن جائے ۔




