مشرق ایکسکلوزیوآج کا کالم
’’لبوبو گڑیا‘‘ اور پاکستانی جمہوریت
عوام مہنگائی سے مر رہی ہو، بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیئے زیور بیچ رہی ہو، پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں، پانی بھرنے کیلئے کلومیٹر کی لائنیں لگی ہوں لیکن ہمارے محبوب سیاستدان، ان تمام پریشانیوں سے بے نیاز جب بھی کسی چینل کی سکرین پر ابھریں گے تو آپکو مسکراتے ہوئے اور پر امید ملیں گے

’’لبوبو گڑیا‘‘ اور پاکستانی جمہوریت
کوئی زیادہ دور کی بات نہیں 2019 میں ایک چینی کمپنی نے 131 سنٹی میٹرقد کی ’’لبوبو‘‘ نامی گڑیا تخلیق کرکے مارکیٹ میں لانچ کی جسے سوشل میڈیا اور نامور شخصیتوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں اس گڑیا نے 2024 میں ہونے والی فروخت کا ریکارڈ 15 فیصد زائد منافع کے ساتھ 2025 میں توڑ دیا اس آمدنی کا 40 فیصد حصہ بین الاقوامی فروخت سے ہوا۔ 2025 میں بیجنگ میں ہونے والی ایک نیلامی میں پانچ فٹ چار انچ قد کی یہ گڑیا ایک لاکھ پچاس ہزارتین سو چوبیس امریکن ڈالرز میں فروخت ہوئی اور اس کے بعد تو جیسے اسکی قیمت کو پر لگ گئے۔ دو ہزار انیس سے آج تک اس کے تقریباً تین سو مختلف ایڈیشن مارکیٹ میں آچکے ہیں۔ نرم فر سے بنی ہوئی اس گڑیا کی مانگ کا یہ حال ہے کہ یار لوگوں نے اس کی دو نمبرکاپی بھی بنا ڈالی ہے اور یہی ہی نہیں بلکہ اس دونمبر لبوبو نے اصلی لبوبو کی سیل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ تو خیر اس نے چھوڑنا ہی تھا کیونکہ اصل اصل اور نقل نقل ہوتی ہے، دونمبر گڑیا کی قیمت بھی دو نمبر اور قد بھی چھوٹا ہے اور پھر اصل لبوبو ڈیڑھ لاکھ میں خریدنا ہر ایک کے بس کی بات بھی تو نہیں ہے۔
پاکستان کو ہی دیکھ لیں جہاں لبوبو کی ایک کاپی لپوپو کے نام سے ساڑھے آٹھ ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ ہے کوئی بات کرنے والی؟ کھانے کو روٹی نہیں لیکن ڈرائنگ روم کی شیلف میں لبوبو ضرور رکھنی ہے چاہے وہ قطعی نہ ہلے جلے نہ کوئی کام کرے۔ اگر ایسی ہی آخر آگئی ہے تو وطن عزیز میں سیاستدانوں کا بھلا کال پڑا ہے؟ اینٹ اکھیڑیں تو نیچے سے ایک نواں نکور لبوبو جیسا سیاستدان نکل آتا ہے۔ جو مفت کی اینٹرٹینمنٹ بھی مہیا کرتا ہے۔ جو ساڑھے آٹھ ہزار(پاکستانی قیمت) آپ نے اس کوجھی گڑیا پر خرچ کرنے ہیں انہیں گھر میں راشن ڈالنے یا بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے استعمال کر لیں اور اگر ان خرچوں کیلئے آپکے پاس اضافی پیسے ہیں تو ان سے کسی غریب مسکین کی مدد کر دیں۔ کم از کم دعائیں تو ملتی رہیں گی۔ پاکستانیوں کو ہمیشہ سے ہی الٹی سیدھی چیزیں جمع کرنے کا خبط رہا ہے۔ سیدھی تو ویسے بہت کم ہوتی ہیں جبکہ زیادہ تر الٹی چیزیں ہی ہوتی ہیں مثلاً سازشی تھیوریاں، ہومیو پیتھک سیاستدان اور باقی تو چھوڑیں گذشتہ چند سالوں سے عوام نے نقلی شیروں سے مایوس ہوکر اصلی شیر بھی پالنے شروع کر دیئے ہیں۔ کوئی ایکڑ دو ایکڑ کی عالیشان کوٹھی یا فارم ہاؤس کا مالک ہو، درجن بھر خدمتگار ہوں، گاڑیوں اور ڈالوں کی لائن لگی ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن قدیمی محلوں کے پانچ دس مرلے کے مکانوں میں رہ کر چھت پر دھوپ میں سڑنے کیلئے شیر کو باندھ دینا اور پھر بھول جانا بھلا کیسا شوق ہے۔ ایسے میں پھر شیر نے زچ ہو کر بلبلاتے ہوئے چھت سے چھلانگ مار کرنیچے کرشن نگر کی گلیوں اور جھنگی سیداں کے بازاروں میں ہی مٹر گشت کرنی ہے۔ شوق آپکا اور اس خونی جانور کو قابو کرتے پھریں محکمہ حیوانیات والے۔ واہ بھی واہ۔
یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر پھر کسی وقت بات ہوگی لیکن فی الوقت تو بات لبوبو کی ہو رہی ہے۔ ہماری قوم بھی وکھری ٹائپ کی ہے کوئی چیز بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو پہلا سوال ہوتا ہے، بھلا کر کے وکھا، کڈھ کے وکھا۔ انہیں جب تک کر کے نہ دکھائیں یا کڈھ (نکال) کر نہ دکھائیں یہ ہرگز نہیں مانتے۔ الٹا اس منفی کام کو زیادہ زور شور سے کرتے ہیں جبتکہ انہیں ہاتھ نہ لگ جائیں۔ انکی تسلی کیلئے لبوبو اور ایک سیاستدان کی خصوصیات کا موازنہ کر کے دکھا دیتے ہیں۔ لبوبو ایک ابلی ہوئی آنکھوں اور شیطانی مسکراہٹ والی بلا ہے جو ہماری دوکانوں، ہمارے گھروں، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ ہمارے خیالات پر بھی حاوی ہو چکی ہے۔ پہلی نظر میں اسے دیکھیں تو یہ بظاہر ایک بے ضرر، شرارتی مسکراہٹ کی مالک، کھڑے بالوں والی لچکدار مگر بے جان گڑیا ہے لیکن غور سے دیکھنے پر آپکو لبوبو اور پاکستانی سیاست کا بہت گہرا تعلق نظر آئے گا۔ ہماری جمہوریت نے بھی محیرالعقول اور ناقابل یقین گڑیاں اپنی شیلف پر سجائی ہوئی ہیں جن کی پیکنگ زرق برق، چھیڑیں تو چھوئی موئی اور آخر میں نکمی جو کسی کام کی نہیں ہیں اور اہمیت سجاوٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ میں نے سیاستدانوں کو لبوبو سے تشبیہہ دے دی۔ جی ہاں میں یہی کر سکتا ہوں کیونکہ میں لبوبو کو تو سیاستدانوں سے نہیں ملا سکتا۔ آخر ایک ڈیڑھ لاکھ کی گڑیا کو کسی ہم پلہ کار آمد شے سے تو ملایا جانا چاہیے۔ سیاستدانوں کو تو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ میں نے انہیں لبوبو سے ملا دیا۔
آپ سب سے پہلے لبوبو کی مسکراہٹ کو ہی لیجئے۔ یہ ٹریفک میں پھنسی ہو، کسی بچے کے بیگ میں ٹھنسی ہو، پالتو بلی کے غضب کا نشانہ بنی ہو یا فرش پر گری ہوئی پائی جائے، ہمیشہ مسکراتی ہوئی ملے گی۔ اب اپنے پیارے سیاستدانوں کو لیجئے۔ عوام مہنگائی سے مر رہی ہو، بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیئے زیور بیچ رہی ہو، پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں، پانی بھرنے کیلئے کلومیٹر کی لائنیں لگی ہوں لیکن ہمارے محبوب سیاستدان، ان تمام پریشانیوں سے بے نیاز جب بھی کسی چینل کی سکرین پر ابھریں گے تو آپکو مسکراتے ہوئے اور پر امید ملیں گے، مہنگائی جلد ختم ہونے کی خبر سناتے ملیں گے لیکن مسکراہٹ چہرے پر سجی رہے گی۔ شاید انکی پاور بیٹریاں امید کے جنریٹر پر چارج ہوتی ہیں۔
نازکی اس لب کی کیا کہیے کے مصداق لبوبو اور ہماری اتحادی حکومتیں ایک جیسی نازک ہیں۔ لبوبو کی نازکی کا اس سے اندازہ لگائیں کی ادھر آپ نے اس کو مخالف سمت میں موڑا اور ادھر یہ چٹخی۔ خدا لگتی کہیے کہ کیا ہماری کولیشن حکومتیں اس سے مختلف ہیں؟ پالیسی پر معمولی سا اختلاف ہوا، کابینہ میں وزارتیں ایک سے لیکر دوسرے کو دیں یا عدم اعتماد کا خطرہ سر پر منڈلایا نہیں کہ اتحاد یہ جا وہ جا۔ رہ گئی بیچاری عوام تو وہ گئی تیل لینے۔ ان کی چھینا جھپٹی شروع ہوگئی نئے اتحاد کیلئے اور انہی خارش زدہ وزارتوں کیلئے جو کسی اور کی اترن تھیں۔ انکی لڑائی اور ان بچوں کی لڑائی میں کیا فرق رہ جاتا ہے جو ٹوٹی اور پھٹی لبوبو گڑیا کیلئے لڑتے ہیں۔
پاکستانی جمہوریت اور لبوبو میں مماثلتیں تو اور بھی بہت ہیں لیکن انہیں لکھنا شروع کر دیں تو جگہ کم پڑ جائے گی۔ بطورعلامت یہ لبوبو کا ظالمانہ حسن ہے کہ اس کی شرارتی مسکراہٹ میں ہمیں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ ہماری حیثیت کھلونوں سے کھیلنے والے ان بچوں کی سی ہے جو ظاہری چمک دمک، پیکنگ اور لش پش پر جاتے ہیں جنہوں نے کبھی یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ جو لبوبو ہمیں دی گئی ہے کیا اس کا کھیل کے علاوہ کوئی اور مصرف بھی ہے؟ جمہوریت کا اصل مقصد گورننس، انصاف، بنیادی حقوق کی فراہمی اور ترقی ہوتا ہے لیکن پیارے پاکستان میں یہ محض کھلونے جمع کرنے کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ آپکو لبوبو کے مختلف ڈیزائن پاکستانی سیاست میں شیلف پر سجے نظر آئیں گے اور جو آپکو شیلف پر نظر نہ آئے سمجھ جائیں کہ وہ لبوبو نہیں ہے۔
سہیل پرواز
ہیوسٹن، ٹیکساس
نوٹ: کالم نگار کی اجازت کے بغیر پانچواں کالم کسی پرنٹ اور سوشل میڈیا ویب سائٹ پر شیئر کرنے کی اجازت نہیں۔






