قومی خبریں

عمران خان کی سوشل میڈیاپروائرل تصویراصلی قرار

عمران خان 2 چیزیں کبھی نہیں چھوڑتے ایک اللہ اور ایک ورزش،علیمہ خان

59 / 100 SEO Score

عمران خانعمران خان کی سوشل میڈیا پر وائرل تصویر اصلی قرار.انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا ٹاک کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا جو جو جج انصاف آئین اور قانون مطابق نہیں کر سکتا وہ جگہ خالی کر دے،جو جو بانی کی رہائی چاہتا ہے۔ہماری ٹیم کا حصہ ہے،علیمہ خان گروپ اور بشری بی بی گروپ ایجنسیوں کا پھیلایا پروپیگنڈا ہے، شیر افضل مروت کو سنجیدہ لینے والوں پر حیرانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا یے، بانی کی ایک تصویر سوشل میڈیا آئی ہے،پرانی مگر لگتا ہے اصل تصویر ہے،میڈیا بھی اس کی تصدیق کرے۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ پر بھی ایجنسیوں کے ساتھ روابط کے الزام لگے ہیں، سوال پر جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کس ایجنسی کا؟ ایم آئی کا آئی ایس آئی کا؟، یہ ساری ہماری اپنی ایجنسیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سب کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہوں جس کا دل کرتا ہے میرا نام لے، ہماری ملاقات نہیں کرواتے، پانی پھینک دیتے ہیں، یہ کچھ بھی کرلیں ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جو شیر افضل مروت کو seriously سنتے ہیں مجھے ان پر ترس آتا ہے، آج میں نے جج کو کہا کہ یہ جو میرے خلاف گواہی دے رہے ہیں یہ تو سپاہی ہیں یہ قرآن پر جھوٹی گواہی دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تو سزا پائیں گے یہ تو قربانی کے بکرے ہیں، اصل وہ لوگ جو گواہی دینے پر ان کو مجبور کرتے ہیں، عمران خان نے تحریک انصاف ۔ انصاف ، آئین قانون اور جمہوریت کے لئے بنائی، عمران خان ڈھائی سالوں سے ان تین چیزوں کے لیے جیل میں قید ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان 2 چیزیں کبھی نہیں چھوڑتے ایک اللہ اور ایک ورزش، بند بھی کرتے ہیں تو وہ سیل میں بھی ورزش کر لیتے ہیں، اڈیالہ جیل بھائی سے ملاقات ہمارا آئینی قانونی اخلاقی حق ہے، کسی کو بھی پانچ روز سے زائد اکیلا بند کرنا انٹرنیشنل قوانین میں ٹارچر کہلاتا ہے، ہم منگل کو ملاقات کے لئے دوبارہ جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی 3 چیزوں آئین بالا دستی،26ویں ،27ویں ترامیم،شفاف الیکشن پر سمجھوتہ،ڈیل نہیں کرے گا،عدالتوں میں روز اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button