مشرق ایکسکلوزیو

جادو بھری آنکھیں: فلمی گانوں کا آئینہ آنکھیں… نین… نظر

"اللہ کی بنائی ہوئی نعمتوں میں اگر کسی ایک چیز کو سب سے حسین، سب سے پُراسرار اور سب سے قیمتی کہا جائے — تو وہ آنکھیں ہیں۔"

86 / 100 SEO Score
جادو بھری آنکھیں: فلمی گانوں کا آئینہ آنکھیں… نین… نظر
فلمی
عبدالباسط
 فلمی تحریر: عبدالباسط خان
"اللہ کی بنائی ہوئی نعمتوں میں اگر کسی ایک چیز کو سب سے حسین، سب سے پُراسرار اور سب سے قیمتی کہا جائے — تو وہ آنکھیں ہیں۔”
انسانی جسم میں اگر کسی ایک عضو
 کو سب سے زیادہ بیان کیا گیا ہے، تو وہ ہے — آنکھ۔
 یہ وہ واحد احساسات کا مرکز ہے، جس کے بےشمار رنگ، کیفیتیں، نام اور تشبیہیں ہیں۔
کبھی یہ کنول کی طرح نازک،
 کبھی جھیل جیسی گہری،
 کبھی اشکبار، کبھی شرابی،
 کبھی سنسان، کبھی ویران،
 کبھی جادو جگاتی، کبھی گھائل کرتی ہیں،
 کبھی گستاخ، کبھی مہربان،
 کبھی اٹھتی، کبھی جھکتی نظر؛
"کبھی کوئی آنکھوں میں اترجاتا ہے، کبھی وہی نظر سے گر جاتا ہے ۔”
 کبھی بھری بھری، تو کبھی سونی سونی؛
 کبھی انکار، کبھی اقرار۔
 کبھی راز چھپاتی ہیں، کبھی راز عیاں کرتی ہیں،
 کبھی سوال بن کر ابھرتی ہیں، اور کبھی جواب بن کر تھم جاتی ہیں۔
 اور بعض اوقات، کچھ کہے بغیر ہی سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔
"جیسے آنکھوں کی کیفیتیں بدلتی ہیں، ویسے ہی ان کے رنگ بھی اپنے اندر الگ الگ کہانیاں سمیٹے ہوتے ہیں۔”
کالی آنکھیں جیسے رات کی گہرائی،
کتھئی آنکھیں جیسے خزاں کی خاموش شام،
نیلی آنکھیں جیسے چمکتا آسمان یا گہرا سمندر،
سبز آنکھیں جیسے برسات کے بعد نکھرا جنگل،
کبھی سرمئی آنکھیں جیسے دھند میں چھپی کوئی ادھوری بات،
گلابی آنکھیں جیسے شرم و حیا میں ڈوبا خواب…
شاعروں، مصوروں، فنکاروں اور نغمہ نگاروں نے ہر دور میں آنکھوں کو اپنا موضوع بنایا۔
 کیونکہ آنکھیں صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ دل کا دروازہ ہوتی ہیں۔
 اکثر دل کی بات زبان سے پہلے، انہی آنکھوں سے ظاہر ہوتی ہے۔
آنکھوں میں ہر جذبہ بولتا ہے:
 کبھی خوشی، کبھی غم،
 کبھی حیرت، کبھی اجنبیت،
 کبھی انتقام، کبھی مہربانی،
 کبھی تشکر، کبھی محبت،
 کبھی مستی، کبھی معصومیت،
 کبھی اعتماد، کبھی بےوفائی،
 کبھی خودسپردگی، اور کبھی سوگ—
 یہ سب ایک لمحے میں آنکھوں کے پردے پر ابھرتے اور مدھم ہوتے رہتے ہیں۔
خوبصورتی کی دنیا میں بھی آنکھوں کا مقام بےمثال ہے۔
 اگر چہرے کے باقی خدوخال عام ہوں، مگر آنکھیں خوبصورت ہوں،
 تو وہی آنکھیں پوری شخصیت کو نکھار دیتی ہیں۔
 اور اگر چہرہ حسین ہو، مگر آنکھوں میں کشش نہ ہو،
 تو ساری خوبصورتی پھیکی لگتی ہے۔
شاید اسی لیے فلم، شاعری، غزل اور نغمگی میں آنکھ کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے—
 کیونکہ آنکھیں صرف دیکھتی نہیں، دلوں کو چھوتی ہیں۔
محبوب کے چہرے کا سب سے پراثر اور طاقتور حصہ یہی آنکھیں ہوتی ہیں۔
 جن پر سب سے زیادہ گیت تخلیق ہوئے۔
 اور جب تک یہ دنیا باقی ہے، آنکھوں پر شاعری، موسیقی اور جذبات کی روشنی بکھرتی رہے گی۔
یہ فلمی نغمے صرف حسن کی تعریف نہیں کرتے،
 بلکہ محبوب کی اداسی، خاموشی، مسکراہٹ، وعدے، قربانی، اور بےوفائی —
 سب کچھ انہی آنکھوں کے توسط سے کہہ جاتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ آنکھیں وہ واحد چیز ہیں جو نہ صرف دیکھتی ہیں، بلکہ دکھا بھی دیتی ہیں — اور یہی انہیں قدرت کی سب سے عظیم صناعی بناتی ہے۔
فلمی دنیا کے بےشمار نغمے اس بات کا ثبوت ہیں کہ آنکھیں ہمیشہ سے شاعری، فلم اور جذباتی اظہار کا سب سے حسین استعارہ رہی ہیں۔
نیچے دیے گئے چند مشہور فلمی گیت اس بات کا ثبوت ہیں۔
فلمی"تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے”
فلمی” آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل”
فلمی"آنکھوں سے جو اتری ہے دل میں "
فلمی"چھلکائے جام آئیے آپ کی آنکھوں کے نام”
فلمی"دیکھا ہے تیری آنکھوں میں پیار ہی پیار”
فلمی"ان آنکھوں کی مستی کے مستانے کے مستانے ہزاروں”
فلمی” آنکھوں میں ہم نے آپ کہ”
فلمی"تیری آنکھوں میں ہم نے کیا دیکھا”
فلمی"آپ کی آنکھوں میں کچھ مہکے ہوئے”
فلمی"جادو بھری آنکھوں والی سنو”
فلمی"جادو تیری نظر خوشبو تیرا بدن”
فلمی"ایسی آنکھیں نہیں دیکھی ایسا کاجل نہیں دیکھا”
یہ چند فلمی گیت میں نے آنکھ، نظر اور نین سے متعلق چُنے ہیں — جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں۔
 اگر میں آنکھوں پر بنے تمام گانوں کا احاطہ کرتا، تو یہ تحریر واقعی بہت طویل ہو جاتی، کیونکہ ایسے گیتوں کی فہرست بےحد وسیع ہے — جن کی شروعات ہی آنکھوں سے ہوتی ہے یا جن میں آنکھیں مرکزی استعارہ ہوتی ہیں۔
زلفوں کا جادو: فلمی گیتوں اور شاعری کا آئینہ
 تحریر: عبدالباسط خان
میں تمہاری زلف میں پھول کی جگہ
اپنی نظم لگانا چاہتا ہوں
میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس پھول کی طرح
کیسے مہک اٹھتی ہے
ایک ہفتے سے گلاب تمہاری زلف میں لگا ہوا ہے اور مرجھایا نہیں
یقینا میری نظم بھی تا ابد تازہ رہنے
والی ہے
ــ ملھار پیرزادو فلمی
زلف… ایک ایسی نعمت جو بظاہر کسی حِس کا کام نہیں دیتی۔
 نہ یہ آنکھوں کی طرح دیکھتی ہے،
 نہ کانوں کی طرح سنتی ہے،
 نہ زبان کی طرح بولتی ہے،
 نہ ناک کی طرح محسوس کرتی ہے۔
 مگر پھر بھی، حسن کے تاج میں جو سب سے خوبصورت، پُراسرار اور دل موہ لینے والا نگینہ ہے — وہ زلف ہی ہے۔
زلف کو اللہ نے شاید صرف جمالیاتی حسن کے لیے تخلیق کیا ہے۔
 یہ چہرے کو فریم کرتی ہے، اس میں نرمی، دلکشی اور کشش کا رنگ بھرتی ہے۔
 کبھی رخساروں پر بکھرتی ہوئی،
 کبھی پیشانی کو چھپاتی ہوئی،
 کبھی شانوں پر جھولتی ہوئی گھٹا،
 کبھی کان کے پیچھے سمٹتی ہوئی زلف —
 ایک مکمل تصویر کو مکمل ترین بناتی ہے۔
"زلفوں کا کوئی ضروری کام نہیں، مگر ان کا وجود حسن کی ایک مکمل تشریح ہے۔”
 یہ وہ حسن ہے جو خاموشی سے بات کرتا ہے، اور اپنے بکھرنے سے دلوں کو باندھ لیتا ہے۔
اگر آنکھیں دل کا آئینہ ہیں،
 تو زلفیں رات کی وہ سیاہی ہیں جو دل کو بے چین کرتی ہیں۔
 آنکھوں نے اگر پہلی نظر میں عاشق بنا دیا،
 تو زلفوں نے اسی عاشق کو اپنی گِرہ میں اُلجھا دیا۔
ادب، شاعری، فلم اور غزل کی دنیا میں،
 اگر آنکھوں کے بعد کسی ایک چیز کو سب سے زیادہ چاہا گیا،
 تو وہ محبوب کی زلفیں ہیں۔
زلفیں…
 کبھی بکھرتی، کبھی سنورتی،
کبھی الجھے کبھی لہرائے
 کبھی چہرہ چھپا لیتی ہیں، کبھی پردہ ہٹا دیتی ہیں،
 کبھی رات کی گھٹا بن جاتی ہیں،
 کبھی خوشبو بن کر دل کو چھو جاتی ہیں۔
محبوب کی زلفوں کو کبھی گھٹا سے تشبیہ دی گئی،
کبھی جادو سے
 کبھی ریشم، کبھی دام، کبھی قفس،
 اور کبھی صرف ایک لمحہ — جس میں زندگی قید ہو گئی ہو۔
زلفوں کا بھی اپنا ایک جہاں ہے —
جیسے آنکھوں کے رنگ، زلفوں کے بھی انداز جداگانہ ہوتے ہیں۔
کبھی کالی رات جیسی سیاہ،
کبھی سنہری دھوپ جیسی چمکتی ہوئی،
کبھی بھوری شام کی مانند دھیمی دھیمی۔
کبھی یہ زلفیں ریشم کی طرح نرم و ملائم،
کبھی گھنیری چھاؤں جیسی پُرسکون،
کبھی گھنگریالی، جو شوخی کا پیغام دیتی ہیں،
اور کبھی لمبی، لہراتی ہوئی — جو خاموشی سے سحر طاری کر دیتی ہیں۔
زلفوں کی ایک حرکت،
 کبھی کسی عاشق کو شاعر بنا دیتی ہے،
 کبھی کسی نظم کو گیت،
 اور کبھی کسی لمحے کو یاد۔
فلمی نغموں میں زلفوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے
 کہ "زلفوں” پر سیکڑوں لازوال گانے لکھے گئے ہیں۔
 یہ گانے صرف زلفوں کی تعریف نہیں کرتے،
 بلکہ ان میں چھپی شرارت، جادو اور محبت کا پیغام سناتے ہیں۔
محبوب کی زلفیں وہ داستان ہیں جو خاموشی سے بولتی ہیں، اور بند آنکھوں میں سپنے بن جاتی ہیں۔
زلف پر بنے میری پسند کےکچھ مشہور گانے
” تیری زلفوں سے جدائی تو نہیں "
فلم : جب پیار کسی سے ہوتا ہے 1961
"آنچل میں سجا لینا کلیاں "
فلم : پھر وہی دل لایا ہوں 1963
” یہ جھیل سی گہری آنکھیں”
فلم : کشمیر کی کلی 1964
 ” پکارتا چلا ہوں میں گلی گلی بہار کی”
فلم : میرے صنم 1965
” یہ زلف اگر کھل کے بکھر”
فلم : کاجل 1965
” لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم
فلم : سوال 1966
” تمہاری زلف کے سائے میں شام”
فلم : نونہال 1967
” یہ ریشمی زلفیں”
فلم : دو راستے 1969
” میرے دل میں آج کیا ہے
فلم : داغ 1973
” چہرہ ہے یا چاند کھلا ہے”
 فلم : ساگر 1985
” کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ "
نصرت فتح علی خان 1989
” بکھری زلفوں کو سجانے کی "
فلم : تڑی پار 1993
” حسن جاناں کی تعریف ممکن نہیں”
نصرت فتح علی خان 1996
"کالی ناگن کے جیسی زلفیں تیری کالی کالی”
فلم : من 1999
” کہیں زلف کا بادل او ہو”
فلم : بادشاہ 2017
یہ چند فلمی نغمے میری ذاتی پسند سے چنے گئے ہیں۔
زلف وہ استعارہ ہے جو تقریباً ہر فلم میں، کسی نہ کسی منظر، گانے یا جذبات میں موجود ہوتا ہے۔
اکثر فلمی گیتوں میں زلف کا ذکر "انترا” یا دوسرے مصرع میں آتا ہے، جیسے یہ کوئی راز ہو جو باتوں باتوں میں کھلتا ہے۔
لفظ "بال” اگرچہ کم استعمال ہوتا ہے، مگر زلف، بال، گیسو،لٹ، گیسوئے دراز… یہ سب ہر دور کی فلمی شاعری اور سینما کے پردے پر حسن کا لازمی جزو رہے ہیں۔
زلف پر میرا پسندیدہ گیت
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
اب آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے پسندیدہ فلمی "زلفی گانے” ضرور ذہنوں میں تازہ کریں،
کہ حسن کی یہ بکھری ہوئی داستانیں ہر دل میں کوئی نہ کوئی سرور جگاتی ہیں۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا:
جادو بھری آنکھیں: فلمی گانوں کا آئینہ آنکھیں… نین… نظر

نصرت فتح علی خان مرحوم کی 28 ویں برسی پر خصوصی تحریر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button