بلوں کی سیاست اور بجلی میں جلتے عوام

"بلوں کی سیاست اور بجلی میں جلتا عوام”
پاکستان میں بجلی کا بل اب صرف بجلی کے استعمال کی قیمت نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا مالیاتی طوفان بن چکا ہے جس میں عام آدمی کی جیب، سانس اور سکون تینوں بہہ جاتے ہیں۔ ہر ماہ جب ایک مزد
ور، سرکاری ملازم یا چھوٹا دکاندار بجلی کا بل ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے سامنے صرف یونٹس کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ ٹیکسوں، سرچارجز، ایڈجسٹمنٹس اور فیسوں کی ایک لمبی فہرست کھڑی ہوتی ہے، جو اس کے بجٹ کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔
بجلی کے بل میں شامل جی ایس ٹی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA)، کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، ایکسائز ڈیوٹی، انکم ٹیکس، اضافی ٹیکس، مزید ٹیکس، ٹی وی لائسنس فیس اور مختلف سرچارجز نے بجلی کو بنیادی ضرورت سے بڑھا کر ایک عیاشی بنا دیا ہے۔ سرکاری وضاحت یہ دی جاتی ہے کہ یہ ٹیکس قومی خزانے، بجلی کے شعبے کے قرضوں اور ادارہ جاتی اخراجات کے لیے ضروری ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آخر ان تمام بوجھوں کا مرکز ہمیشہ غریب اور متوسط طبقہ ہی کیوں بنتا ہے؟
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک ایسا بوجھ ہے جو ہر ماہ عوام کے اعصاب پر نیا وار کرتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو جائے تو اس کا پورا اثر عوام کے بل پر منتقل کر دیا جاتا ہے، مگر جب قیمتیں کم ہوں تو ریلیف نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر پچھلے خساروں کی وصولی بھی صارفین سے کی جاتی ہے۔ گویا بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی نااہلی، لائن لاسز، چوری اور ناقص پالیسیاں بھی عوام ہی ادا کریں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک غریب آدمی، جو بمشکل اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرتا ہے، وہ بھی ٹی وی لائسنس فیس ادا کرنے پر مجبور ہے، چاہے اس کے گھر میں ٹی وی موجود ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح انکم ٹیکس جیسے معاملات میں بھی عام صارف الجھن اور بوجھ کا شکار رہتا ہے۔
آج پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ ایسے میں بجلی کے بلوں میں شامل یہ درجنوں ٹیکس عوام کی قوتِ خرید کو مزید تباہ کر رہے ہیں۔ ایک مزدور کی آدھی تنخواہ بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی جاتی ہے، جبکہ باقی رقم سے وہ پورا مہینہ گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ گھروں میں فاقے بڑھ رہے ہیں، ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور سفید پوش طبقہ خاموشی سے ٹوٹ رہا ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل ٹیکس لگانا معیشت کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ عوام کو کمزور کرتا ہے۔ جب لوگوں کی قوتِ خرید ختم ہو جائے، کاروبار سکڑ جائیں اور گھریلو اخراجات برداشت سے باہر ہو جائیں تو معیشت کا پہیہ بھی سست پڑ جاتا ہے۔ ریاست کا فرض صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو جینے کے قابل ماحول دینا بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکسوں اور فیسوں کا فوری جائزہ لیا جائے، فیول ایڈجسٹمنٹ اور اضافی سرچارجز کو محدود کیا جائے اور کم آمدنی والے طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ کیونکہ اگر بنیادی سہولتیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں تو پھر صرف اندھیروں میں اضافہ ہوتا ہے، روشنی میں نہیں۔





