

نبضِ حالات!
وردی کا وقار یا عوام پر اختیار؟
پنجاب میں حالیہ دنوں پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی جانب سے عوام کے ساتھ ناروا رویوں، غیر ضروری چالانوں، سخت لہجے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق خبریں اور عوامی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر اخبارات تک، شہریوں کی ایک بڑی تعداد یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا قانون کی عملداری کے نام پر عوام کو ذہنی اذیت دینا بھی ریاستی اختیار میں شامل ہو چکا ہے؟
بلاشبہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ہیلمٹ، لائسنس، نمبر پلیٹس اور روڈ سیفٹی کے اصول معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ پنجاب ٹریفک پولیس کی جانب سے لاکھوں چالان اور اربوں روپے جرمانے وصول کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں، جنہیں حکام قانون نافذ کرنے کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا قانون صرف عوام کے لیے ہے؟ اگر ایک عام شہری کو معمولی غلطی پر سختی، تضحیک یا دھمکی کا سامنا کرنا پڑے جبکہ بااثر افراد قانون سے بالاتر دکھائی دیں، تو پھر عوام کے دلوں میں قانون کا احترام نہیں بلکہ خوف اور نفرت جنم لیتی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر متعدد شہریوں نے شکایت کی کہ بعض مقامات پر بغیر واضح وجہ گاڑیاں روکی جاتی ہیں، سخت رویہ اپنایا جاتا ہے، اور شہریوں سے ایسے بات کی جاتی ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ یہ صورتحال نہ صرف پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
حکومت پنجاب نے خود بھی حالیہ مہینوں میں “لوگوں دوست پولیسنگ” اور خوش اخلاقی کی تربیت شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ہزاروں اہلکاروں کو شہریوں سے مہذب انداز میں پیش آنے کی تربیت دی گئی۔ یہ ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ صرف تربیتی بیانات کافی نہیں، عملی احتساب ناگزیر ہے۔
وردی ریاست کی طاقت کی علامت ضرور ہے، لیکن اس طاقت کا مقصد عوام کو تحفظ دینا ہے، خوفزدہ کرنا نہیں۔ اگر کسی وارڈن یا پولیس اہلکار کی زبان، رویہ یا اختیار شہری کی عزت نفس کو مجروح کرے تو یہ قانون کی عملداری نہیں بلکہ اختیار کا غلط استعمال کہلائے گا۔
حکومت پنجاب، آئی جی پنجاب اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ:
– عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے شفاف نظام بنایا جائے۔
– اختیارات کے ناجائز استعمال پر فوری کارروائی ہو۔
– باڈی کیمرہ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
– قانون کا اطلاق امیر و غریب سب پر یکساں ہو۔
– شہریوں کی عزت نفس کو پولیسنگ کا بنیادی اصول بنایا جائے۔
ایک مہذب ریاست کی پہچان صرف سخت قوانین نہیں بلکہ انصاف، برداشت اور انسانی احترام ہوتا ہے۔ اگر عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو قانون کی رٹ بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ پنجاب میں “خوف کی پولیسنگ” کے بجائے “اعتماد کی پولیسنگ” کو فروغ دیا جائے، کیونکہ ریاست کی اصل طاقت عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، صرف وردی میں نہیں۔ حکومت وقت کو حالات کی نبض کو دیکھنا بہت ضروری ہے ایسا نہ کہ کہیں بہت دیر ہو جائے۔
نبضِ حالات!
نبضِ حالات!






