
یاجوج ماجوج کا خروج عمل پزیر ہو چکا؟ (دوسرا حصہ)

قرآن کریم کے مندرجہ بالا آیات اور حضرت علامہ اقبال ؒ کے اس شعر کو سامنے رکھیں ساتھ میں آپﷺ کی حدیث مبارکہ جس میں یاجوج ماجوج کے دیوار میں سوراخ بنائے جانے کا ذکر ہے تو یہ بات سمجھنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ یاجوج ماجوج کھل چکے اور وہ آج دنیا میں عام انسانوں کے ساتھ گل مل کر زندگی گزار رہے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ وہ ہر اونچائی سے دوڑتے چلے آئیں گے۔ سورۃ کہف میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے دیوار بنانے کے ذکر کے ساتھ کچھ یوں فرمایا ہے کہ
”اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں“ (آیت۔94) چونکہ یاجوج اور ماجوج نے آخر الزماں میں زمین پر فساد برپا کرنا تھا تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء کے مطابق ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کے ساتھ جنگ نہیں کی بلکہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک دیوار بنا دی یہاں قرآن کریم میں ذکر موجود ہے کہ
”کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے ریزہ ریزہ کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔“ (سورۃ کہف آیت نمبر 98) اب ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی منشاء ہے کہ یاجوج اور ماجوج کا خروج قرب قیامت میں ہوگا۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی بستی ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانبیاء میں ذکر فرمایا کہ
”جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا اس کا واپس آنا ناممکن ہے جب تک یاجوج ماجوج کھول نہ دیئے جائیں گے“ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام پر عذاب کا ذکر کیا ہے جن میں قوم نوح، قوم لوط، ثمود و عاد ان جیسی اور بہت سی اقوام کا ذکر ہے جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا،ان تمام بستیوں کو اُن کے باسیوں سمیت تباہ و برباد کر دیا گیا مگر سورۃ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے جس بستی کا ذکر فرمایا ہے اس کے لیے کہا ہے کہ
وہ دوبارہ آباد نہیں ہو سکتے مطلب بستی کو تو تباہ کیا گیا مگر اس کے باسیوں کو مکمل طور پر برباد نہیں کیا گیا بلکے آنے والے دور کے لیے نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا گیا وہ کون لوگ ہیں جن کو برباد کیا گیا مگر صفحہ ہستی سے مٹایا نہیں گیا۔
بنی اسرائیل کے بارے اللہ تعالیٰ کریم میں فرما چکا کہ
”اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کردیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح کے تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بد حالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں“ (سورۃ لاعراف آیت 24)
بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اُن کی بد اعمالیوں کی سزا دی اور اُن پر بخت نصر کی شکل میں عذاب نازل کیاجس نے اُن کی بستی ”مقدس یروشلم“ کو تباہ و برباد، ہیکل سلیمانی کو مسمار، لاکھوں یہودیوں کا قتل عام اور لاکھوں کو قید کرکے ساتھ لے گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کے مطابق تو پھر یاجوج اور ماجوج کو تو پوری دنیا پر چھا جانا اور بلندیوں سے انہیں دنیا میں گھس آنا چاہیے تھا۔ یہ یاجوج اورماجوج کون ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جسے حضرت علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں حل کیا ہے اور چشمِ مسلم کو کہا ہے کہ قرآن کے لفظ ”ینسلون“ کی‘تفسیر دیکھ لے۔ یہ کون ہیں؟ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ
”اللہ نے بنی آدم کو دس حصوں میں تقسیم کیا۔ ان میں نو حصے یا جوج ماجوج بنائے اور ایک حصہ باقی سارے لوگ“ (مستدرکِ حاکم)۔ یعنی یہ بنی آدم میں سے ہیں، پھر فرمایا ”اگر انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ لوگوں پر ان کے معاش میں فساد پھیلائیں” (طبرانی) یعنی اس دنیا کا سودی نظام، کارپوریٹ کلچر اور کمیونسٹ معیشت سب ان کے فساد کی علامتیں ہیں۔
یہ کب سے آزاد ہونا شروع ہوئے؟ یہاں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ روایت جو سیدہ زینبؓ بنت جحش سے مروی ہے اس کو سامنے رکھیں۔ احادیث کے مطابق حضرت آدم کی اولاد میں نو حصے یاجوج ماجوج بنائے گئے اور ایک حصہ باقی سارے لوگ، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن پاک کی آیت کو سامنے رکھتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
”اے ایمان والو یہود و نصاری کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا“(سورۃ المائدہ آیت 51)
قرآن کے اس قانون کو سامنے رکھیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جیسوں کو دوست بناؤ گے ویسے ہو جاؤ گے۔ مطلب اگر یہود کو دوست بناؤ گے تو یہودی کہلاؤ گے اور اگر نصاریٰ کو دوست بناؤ گے تو نصاریٰ کہلاؤ گے، اگر ہم یاجوج ماجوج کو دوست بنائیں گے تو کیا ہم یاجوج ماجوج نہیں کہلائیں گے؟ اس آیت کو اگر اس انداز سے دیکھیں گے تو ہاجوج ماجوج کی تعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آج دنیا کی معیشت پر کس کا کنٹرول ہے وہ کون ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں سودی نظام رائج کر رکھا ہے آج پوری دنیا پر کس کی حکمرانی ہے آپ جس جانب دیکھیں گے آپ کو صیہونی ہی نظر آئیں گے۔
صیہونی مطلب اشکنازی یہودی جنہیں جرمنی کے یہودی بھی کہا جاتا ہے ایسے یہود جو عہد روم میں یورپ اور جرمنی کی جانب ہجرت کرگئے تھے۔ لفظ اشکناز عہد نامہ قدیم کے انجیلی کردار اشکنازبن گومر بن خافط بن یافٹ بن نوحسے لیا گیا ہے۔ یہود و عیسائی کی الہامی کتب عہد نامہ قدیم کے پیدائش کی کتاب، باب 10میں بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے تھے۔ تو کیا اشکنازی یہودی اسی لڑی میں سے ہیں جن کو یاجوج ماجوج کہا جاتا ہے؟ اب دیکھتے ہیں کہ اشکنازی کی تاریخ کیا ہے۔
قدیم شام میں ابتدا سے ہی اشکنازیوں کی تاریخ پراسراریت میں لپٹی چلی آ رہی ہے اور یہود کی ایک الگ برادری کے طور ان کے ابھرنے پر بہت سی قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔ اٹلی اور جنوبی یورپی علاقوں کے راستے قدیم شام سے ان کے انخلا کا نظریہ یہود میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور مشہور رہاہے۔تاریخی دستاویزات اور نوشتے جنوبی یورپ میں یہود کی موجودگی کی قبل از مسیحی دور کی تصدیق کرتے ہیں۔
گیارہویں صدی عیسوی تک اشکنازی دنیا کی کل یہودی آبادی کا تقریباً 3 فیصد تھے، جبکہ 1931ء کے اپنے عروج کے دنوں میں دنیا کی کل یہودی آبادی کا 92% شمار کیے گئے۔ ہولوکاسٹ سے تھوڑا عرصہ قبل تک یہود کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ستاسٹھ لاکھ تھی۔ اشکنازیوں کی عصری آبادیاتی شماریات وقت کے ساتھ متغیر ہوتی رہتی ہیں جو کم و بیش ایک کروڑ سے ایک کروڑ بارہ لاکھ کے درمیان میں رہی۔
سرجیو ڈیلا پرگولا نے سپین اور پرتگال کے وہ یہود (سفاردی) جنہیں 1492ء میں بے دخل کیا گیا اور (مزراہی) صہیونیت پر یقین رکھنے والے یہود کو سرسری حساب میں شمار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اشکنازی دنیا کی کل یہودی آبادی کا 74 فیصد سے کم ہیں۔
اس وقت اسرائیلی ریاست میں اشکنازی یہود یوں کی آبادی زیادہ ہے اگر آپ دیکھیں تو اسرائیل سے باہر بسنے والے آرتھوڈاکس یہودی اسرائیل کو یہودی ریاست ماننے سے انکاری ہے حالیہ دنوں میں فلسطین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اکثر آرتھوڈاکس یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی ریاست کے خلاف مظاہر ہ کرتے نظرآئیں گے۔
2006ء کے ایک مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اشکنازی یہود ایک واضح، یکسان جینیاتی ذیلی جماعت ہے۔ حیران کن طور پر ماخذ کی جگہ سے قطح نظر، اشکنازی یہود کو ایک ہی جینیاتی دستہ میں ڈالا جاسکتا ہے، یعنی اس سے قطع نظر کہ اشکنازی یہود کا بانی پولستان، روس، ہنگری، لتھووانیا یا کسی بھی دوسری تاریخی یہودی آبادی کی طرس سے آیا ان کا تعلق ایک ہی نسلی جماعت ہے۔
اب دیکھنا یہ کہ کیا آیا اشکنازی یہود ہی یاجوج ماجوج سے تعلق رکھنے والے وہ قبائل ہیں جن کا قرآن اور عہد نامہ قدیم میں ذکر ہے اگر یہ وہ ہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یاجوج ماجوج کا خروج عمل پزیر ہو چکا ہے اب دنیا میں ان کے اثر و رسوخ پر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا یہ ہر اونچائی سے اترتے ہوئے نظر آتے ہیں؟
جاری ہے۔۔۔۔۔
یاجوج ماجوج، اسرائیل و دجال شناخت اور یروشلم سے تعلق (پہلا حصہ)
