Site icon MASHRIQ URDU

ہسپتال، خوف اور غصہ: عوام کے درمیان بڑھتی خلیج



ہسپتال، خوف اور غصہ: عوام کے درمیان بڑھتی خلیج

تحریر: شہزاد عابد خان

پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں صرف مریض نہیں مرتے، اعتماد بھی مرتا ہے۔

کبھی کسی ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹر پر حملہ ہوتا ہے، کبھی مریض کے لواحقین توڑ پھوڑ کرتے ہیں، کبھی کسی لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے، کبھی کوئی ڈاکٹر اغوا ہو جاتا ہے اور کبھی سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں جن میں مریض اور اس کے لواحقین کو سرکاری ہسپتال کے ملازمین کے سامنے بے بس کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ سلسلہ رک کیوں نہیں رہا؟

اس لیے کہ ہم علامات کا علاج کر رہے ہیں، بیماری کا نہیں۔

پاکستان میں جب کوئی شخص سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی شکست خوردہ ہوتا ہے۔ اس کے پاس نجی ہسپتال کے اخراجات اٹھانے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس کا مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتا ہے۔ اس کی جیب خالی اور اعصاب جواب دے چکے ہوتے ہیں۔

پھر وہ ایک ایسے نظام میں داخل ہوتا ہے جہاں لمبی قطاریں ہیں، بیڈ کم ہیں، ڈاکٹر کم ہیں، دوائیں کم ہیں، مشینیں خراب ہیں اور جواب دہی تقریباً ناپید ہے۔

ایسے میں اگر مریض مر جائے تو غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر موت طبی غفلت ہوتی ہے؟

بالکل نہیں۔

پاکستان بھر میں ہونے والے سرویز بتاتے ہیں کہ تین چوتھائی سے زیادہ ڈاکٹرز اپنی ملازمت کے دوران تشدد یا جارحیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ بیشتر واقعات میں حملہ آور مریضوں کے لواحقین تھے۔ بہت سے ڈاکٹر ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے جبکہ بعض نے پیشہ چھوڑنے تک پر غور کیا۔ یہ اعدادوشمار کسی ایک شہر یا ہسپتال کے نہیں بلکہ ایک قومی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی تمام شکایات غلط ہیں؟

یہ بھی حقیقت نہیں۔

نشتر ہسپتال ملتان میں مریض کے لواحقین سے نامناسب رویے پر ڈاکٹر کے خلاف کارروائی ہوئی۔ لاہور جنرل ہسپتال میں ملازم معطل ہوا۔ میو ہسپتال سمیت کئی سرکاری اداروں سے متعلق ایسی ویڈیوز سامنے آتی رہی ہیں جن میں مریضوں کے ساتھ غیر مناسب رویے کے الزامات لگتے رہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں انسانی وقار سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سمجھتا ہے کہ اس پر غیر انسانی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

مریض سمجھتا ہے کہ اسے انسان نہیں بلکہ بوجھ سمجھا جا رہا ہے۔

اور دونوں کسی حد تک درست ہوتے ہیں۔

یہ ایک ایسا میدان جنگ بن چکا ہے جہاں دونوں مورچوں پر زخمی لوگ کھڑے ہیں۔

ایک طرف وہ نوجوان ڈاکٹر ہے جو چھتیس گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی کر چکا ہے۔

دوسری طرف وہ مزدور ہے جس کا بچہ وینٹی لیٹر پر پڑا ہے۔

دونوں غصے میں ہیں۔

دونوں تھکے ہوئے ہیں۔

دونوں بے بس ہیں۔

اور دونوں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔

اس سارے منظر میں سب سے حیران کن کردار حکومت کا ہے جو اکثر غائب نظر آتی ہے۔

صحت کا بجٹ کم۔

عملہ کم۔

سکیورٹی کم۔

احتساب کم۔

اور توقعات آسمان سے باتیں کرتی ہوئی۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب نظام ناکام ہوتا ہے تو اس کا غصہ سب سے پہلے سفید کوٹ پر نکلتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کبھی ڈاکٹر قتل ہوتا ہے، کبھی نرس تشدد کا شکار ہوتی ہے، کبھی پیرامیڈک مار کھاتا ہے اور کبھی مریض کے لواحقین ذلت اور بے بسی کی داستان بن جاتے ہیں۔

پاکستان کو آج صرف نئے ہسپتال نہیں چاہئیں۔

پاکستان کو ایک نیا سماجی معاہدہ چاہیے۔

ایسا معاہدہ جس میں مریض کو عزت ملے۔

ڈاکٹر کو تحفظ ملے۔

غفلت پر فوری سزا ملے۔

جھوٹے الزامات پر بھی کارروائی ہو۔

اور سب سے بڑھ کر صحت کو سیاسی نعروں کے بجائے ریاستی ترجیح بنایا جائے۔

ورنہ آنے والے برسوں میں ہسپتال علاج گاہوں سے زیادہ میدان جنگ دکھائی دیں گے۔

اور اس جنگ میں جیت کسی کی نہیں ہوگی۔

‎کیا حراسمنٹ صرف چھونا ہے؟؟؟

 

Exit mobile version