Site icon MASHRIQ URDU

غلطی یا قتل؟ چکوال میں نو سالہ بچی کی موت

غلطیغلطی یا قتل؟ چکوال میں نو سالہ بچی کی موت

نبضِ حالات — شہزاد عابد خان
“چکوال میں گولی نہیں چلی، نظام فیل ہوا — ہانیہ کی موت کس کے کھاتے میں؟” 
پاکستان میں اکثر سچ ایک لفظ کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے—“غلطی”۔
چکوال میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی ایک لفظ کے سائے میں کھڑا ہے۔ پولیس نے مان لیا کہ فائرنگ انہی کی طرف سے ہوئی، یہ بھی تسلیم کر لیا کہ گاڑی کو غلط سمجھا گیا، مگر سوال وہی ہے جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے: کیا یہ صرف غلطی تھی، یا ایک ایسا جرم جسے ریاست اپنی ہی زبان میں نرم بنا رہی ہے؟
آسٹریلیا سے آیا ایک پاکستانی خاندان، جو اپنے وطن میں چند دن سکون کے گزارنا چاہتا تھا، اچانک ایک ایسے منظر کا حصہ بن گیا جس کا انجام ایک معصوم بچی کی موت پر ہوا۔ نو سالہ ہانیہ احمد—ایک نام، جو اب صرف ایک خبر نہیں رہا، بلکہ ایک سوال بن چکا ہے۔ وہ سوال جو ہر ماں باپ سے پوچھ رہا ہے: کیا اس ملک میں آپ کے بچے محفوظ ہیں؟
ایک لمحے کی “غلطی”، ایک زندگی کا خاتمہ
واقعے کی تفصیلات اب واضح ہو چکی ہیں۔ خاندان پہلے ہی ڈاکوؤں کا نشانہ بن چکا تھا۔ وہ خوفزدہ ہو کر وہاں سے نکل رہے تھے کہ پولیس نے انہیں مشتبہ سمجھ لیا۔ گولیاں چلیں، اور وہ گولیاں ڈاکوؤں کو نہیں، ایک بے گناہ خاندان کو لگیں۔ نتیجہ—ایک بچی کی موت، باپ اور بھائی زخمی۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے اب اس فائرنگ کو تسلیم کر لیا ہے۔
یعنی اب یہ کوئی “مبینہ” واقعہ نہیں رہا، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
مگر کیا صرف یہ مان لینا کافی ہے؟
وردی اور اختیار: حد کہاں ختم ہوتی ہے؟
پاکستان میں پولیس کو طاقت دی گئی ہے تاکہ وہ عوام کی حفاظت کرے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں طاقت اور احتساب کے درمیان توازن ختم ہو جائے۔
یہ سوال بہت سادہ ہے:
اگر ایک پولیس اہلکار کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صرف شک کی بنیاد پر گولی چلا دے، تو پھر ایک عام شہری کی جان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
کیا کوئی SOP نہیں؟
کیا کوئی تربیت نہیں کہ پہلے شناخت کی جائے، پھر کارروائی ہو؟
یا پھر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نظام میں انسانی جان کی قیمت ہی کم ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب صرف بیانات سے نہیں، عمل سے دیے جاتے ہیں—اور بدقسمتی سے وہ عمل کم ہی نظر آتا ہے۔
“غلطی” کا لفظ—ایک ڈھال؟
پاکستان میں جب بھی کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے، ایک لفظ فوری طور پر سامنے آتا ہے: “غلطی”۔
یہ لفظ بظاہر معصوم لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ڈھال بن چکا ہے۔
پولیس فائرنگ میں شہری مارا جائے → “غلطی”
ہسپتال میں مریض مر جائے → “غلطی”
عمارت گر جائے → “غلطی”
سوال یہ ہے کہ اگر ہر چیز غلطی ہے، تو پھر جرم کیا ہے؟
کیا ایک نو سالہ بچی کی جان لینا بھی صرف ایک “انسانی غلطی” ہے؟
یا یہ ایک ایسی غفلت ہے جسے قانون کی زبان میں جرم کہا جاتا ہے؟
اوورسیز پاکستانی: سرمایہ یا صرف نعرہ؟
یہ واقعہ ایک اور تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے—اوورسیز پاکستانیوں کا مقام۔
ہر حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو “قومی ہیرو” کہتی ہے۔ ان کی ترسیلات زر پر فخر کیا جاتا ہے، انہیں سرمایہ کاری کی دعوت دی جاتی ہے، مگر جب وہ اس ملک میں قدم رکھتے ہیں تو کیا انہیں وہی تحفظ ملتا ہے جس کا وعدہ کیا جاتا ہے؟
ایک خاندان جو آسٹریلیا جیسے محفوظ ملک سے آیا، یہاں آ کر ڈاکے کا شکار ہوا، پھر پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے—اور یہ پیغام خطرناک ہے۔
انصاف کا نظام: روایت یا حقیقت؟
ہر ایسے واقعے کے بعد ایک ہی سلسلہ شروع ہوتا ہے:
اہلکار معطل
انکوائری کا اعلان
اعلیٰ حکام کا نوٹس
اور پھر… خاموشی۔
کیا اس بار کچھ مختلف ہوگا؟
کیا اس بچی کے والدین کو انصاف ملے گا؟
یا یہ کیس بھی فائلوں کے بوجھ تلے دب جائے گا؟
پاکستان میں انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، وقت کے ساتھ بھی دیا جاتا ہے—اور اکثر وقت انصاف کو دفن کر دیتا ہے۔
عوام کہاں کھڑے ہیں؟
اس واقعے پر عوام کا ردعمل شدید ہے، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی بے بسی بھی نظر آتی ہے۔ لوگ غصے میں ہیں، مگر انہیں یقین نہیں کہ کچھ بدلے گا۔
یہی وہ خطرناک مقام ہے جہاں معاشرے کا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔
جب عوام یہ مان لیں کہ ریاست انہیں تحفظ نہیں دے سکتی، تو پھر ریاست کی ساکھ صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہے۔
اصل سوال: ذمہ داری کون لے گا؟
یہ کالم کسی جذباتی نعرے کے لیے نہیں، بلکہ ایک سیدھا سوال پوچھنے کے لیے ہے:
کیا پولیس اہلکار صرف معطلی سے بری ہو جائیں گے؟
کیا کسی افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟
کیا اس واقعے کو “غلطی” کہہ کر بند کر دیا جائے گا؟
یا پھر پہلی بار ایسا ہوگا کہ ایک معصوم جان کے بدلے نظام خود کو بدلے گا؟
فیصلہ ابھی باقی ہے
ہانیہ احمد اب اس دنیا میں نہیں رہی، مگر اس کی موت ایک امتحان بن گئی ہے—ریاست کے لیے، نظام کے لیے، اور ہم سب کے لیے۔
یہ امتحان اس بات کا ہے کہ ہم ایک اور واقعے کو “قسمت” کہہ کر بھلا دیتے ہیں، یا اسے ایک موڑ بنا کر اپنے نظام کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیونکہ اگر آج بھی ہم نے اسے صرف “غلطی” مان کر آگے بڑھ گئے، تو کل کسی اور ہانیہ کی باری ہوگی۔
اور شاید اس بار سوال پوچھنے والا بھی کوئی نہ ہو۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے… کیا یہ صرف ایک غلطی تھی، یا ایک ایسا جرم جسے ہم ماننے سے ڈر رہے ہیں؟

‎پاکستان: عوام کی ریاست یا طاقتوروں کی جاگیر؟

Exit mobile version