Site icon MASHRIQ URDU

حراسمنٹ ایک لفظ نہیں، کبھی ایک سانحہ بھی بن جاتا ہے

حراحراسمنٹ ایک لفظ نہیں، کبھی ایک سانحہ بھی بن جاتا ہے

 

تحریر: شہزاد عابد خان

کوئٹہ میں پیش آنے والا سانحہ صرف ایک خبر نہیں تھا۔
ایک سرکاری ملازم، اس کی اہلیہ، اس کے معصوم بچے، اور پھر ایک ایسا انجام جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ خبروں کے مطابق محمد آصف نامی سرکاری ملازم نے اپنی اہلیہ اور چار بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

اس سے پہلے ایک ویڈیو پیغام بھی منظرعام پر آیا جس میں انہوں نے بعض افراد پر شدید ذہنی دباؤ اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ بعد ازاں حکومت نے تحقیقات کا آغاز بھی کیا۔
لیکن میرا سوال اس مقدمے کے ملزمان کے بارے میں نہیں۔
میرا سوال اس پورے معاشرے سے ہے۔
آخر ہم حراسمنٹ کو سمجھتے کیا ہیں؟
اگر ایک افسر اپنے ماتحت کو روز یہ احساس دلائے کہ اس کی نوکری خطرے میں ہے، کیا یہ حراسمنٹ نہیں؟
اگر کسی ملازم کو ہر وقت خوف میں رکھا جائے، کیا یہ حراسمنٹ نہیں؟
اگر کسی شخص کو اس کی عزتِ نفس سے محروم کر دیا جائے، اس کی بات سننے کے بجائے اسے مسلسل دبایا جائے، تو کیا یہ صرف "انتظامی اختیار” ہے؟
ہم نے حراسمنٹ کو صرف جنسی ہراسمنٹ تک محدود کر دیا ہے۔
جب بھی "ہراسمنٹ” کا لفظ بولا جاتا ہے تو ذہن فوراً ایک خاص قسم کے رویے کی طرف جاتا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ حراسمنٹ کی کئی شکلیں ہیں۔
نفسیاتی حراسمنٹ۔
انتظامی حراسمنٹ۔
پیشہ ورانہ حراسمنٹ۔
ڈیجیٹل حراسمنٹ۔
اور بعض اوقات یہ سب مل کر ایک ایسی دیوار بن جاتے ہیں جس کے پیچھے کھڑا انسان بظاہر زندہ نظر آتا ہے مگر اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔
دفتر میں ذلت۔
ہر وقت کی جواب طلبی۔
ناممکن اہداف۔
چھٹی کے دن کام۔
رات گئے کالیں۔
اور مستقل یہ احساس کہ "تم کسی بھی وقت فارغ کیے جا سکتے ہو۔”
یہ سب کیا ہے؟
اگر یہ حراسمنٹ نہیں تو پھر حراسمنٹ کس چیز کا نام ہے؟

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر اداروں میں ایک خطرناک سوچ پروان چڑھ چکی ہے۔
جو ملازم خاموشی سے کام کرتا ہے، اس پر مزید بوجھ ڈال دو۔
جو سوال کرے، اسے باغی قرار دو۔

جو اپنے حق کی بات کرے، اس کی فائل نکال لو۔
جو سر نہ جھکائے، اسے شوکاز دے دو۔

 

اور جو جی حضوری کرے، اس کے لیے اصول بدل دو۔
یہ صرف کسی ایک دفتر،ایک نیوز روم یا ایک سرکاری محکمے کی کہانی نہیں۔
پاکستان کے لاکھوں ورکرز اس ماحول کو روز جیتے ہیں۔
میڈیا ہاؤسز میں بھی ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں جہاں ملازمین نے شدید ذہنی دباؤ، نوکری کے عدم تحفظ اور سخت رویوں کا ذکر کیا۔
کارپوریٹ سیکٹر میں بھی لوگ خاموشی سے اینگزائٹی، ڈپریشن اور برن آؤٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
سرکاری دفاتر میں بھی بعض اوقات اختیارات کو نظم و ضبط کے بجائے خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اور پھر جب کوئی سانحہ ہو جاتا ہے تو ہم سب حیران ہو کر پوچھتے ہیں:
"آخر ایسا کیوں ہوا؟”
حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے:
"ہم نے اس شخص کے ساتھ کیا کیا تھا؟”
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر خودکشی، ہر دل کا دورہ، یا ہر المناک واقعہ کے پیچھے دفتر کا دباؤ ہی ہوتا ہے۔
زندگی پیچیدہ ہے اور انسانی فیصلوں کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں۔
لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر کسی معاشرے میں لوگ مسلسل یہ شکایت کر رہے ہوں کہ انہیں ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، ان کی عزتِ نفس مجروح کی جا رہی ہے، انہیں خوف کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، تو پھر اس شکایت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
کیونکہ بعض اوقات گولی چلنے سے پہلے انسان بہت عرصہ خاموشی سے زخمی ہوتا رہتا ہے۔
اور بعض اوقات قتل کسی ایک دن نہیں ہوتا۔
وہ روز تھوڑا تھوڑا کر کے کیا جاتا ہے۔
دھمکیوں سے۔
ذلت سے۔
ناانصافی سے۔
اور اس یقین کے ساتھ کہ متاثرہ شخص کبھی بول نہیں پائے گا۔
لیکن شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم حراسمنٹ کی تعریف دوبارہ لکھیں۔
کیونکہ حراسمنٹ صرف جسم کو چھونے کا نام نہیں۔
کبھی کبھی یہ روح کو زخمی کرنے کا نام بھی ہوتا ہے۔

کوئٹہ میں پیش آنے والا سانحہ ابھی تازہ ہے۔
ایک سرکاری ملازم…اس کی بیوی…اس کے بچے…اور پھر ایک ایسا انجام جسے الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔
مگر اس بار کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوئی۔
ایک ویڈیو سامنے آتی ہے پھر لوگوں کے بیانات سامنے آتے ہیں۔محلے داروں کی باتیں، بھائی کے بیانات،دھمکیوں کے قصے…گھر خالی کرنے کا دباؤ…بیٹی کو اغوا اور تیزاب پھینکنے کی دھمکی جیسے الزامات۔
سوال یہ ہے:
کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟
یا یہ اس معاشرے کا وہ چہرہ ہےجسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے؟
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
مگر کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا اس ملک میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ طاقتور بچ گیا ہو… اور کمزور پِس گیا ہو؟
کیا کبھی ایسا نہیں ہواکہ ایک غریب انصاف کے دروازے پر کھڑا رہا ہواور اندر فیصلے کسی اور کے حق میں ہو گئے ہوں؟
کیا رشوت، اثر و رسوخ، اور طاقت ہماری انصاف کے اداروںاور تفتیشی نظام پر اثر انداز نہیں ہوتے؟
یہ سوال نئے نہیں ہیں۔
مگر ہر بار جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہےیہ سوال دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔
اگر ایک شخص ویڈیو میں اپنی بات کہہ رہا ہے…اگر اس کے قریبی لوگ اس کے حالات بیان کر رہے ہیں…اگر محلے دار ایک ہی طرح کی بات کر رہے ہیں…
تو کیا ان سب کو صرف "الزام” کہہ کر نظر انداز کر دینا کافی ہے؟
یا یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہےکہ وہ سچ تک پہنچے —بغیر کسی دباؤ کے، بغیر کسی مصلحت کے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم حراسمنٹ کو سمجھتے ہی نہیں۔
ہم سمجھتے ہیں جب تک ہاتھ نہ اٹھےتب تک ظلم نہیں ہوتا۔
مگر کیا یہ ظلم نہیں کہ:
کسی کو روز دھمکایا جائے؟کسی کو اس کے گھر سے نکالنے کی کوشش کی جائے؟کسی کے بچوں کو خوف میں رکھا جائے؟کسی کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اکیلا ہے… بے بس ہے؟
یہ سب کیا ہے؟
اگر یہ حراسمنٹ نہیں…تو پھر حراسمنٹ کس چیز کا نام ہے؟
اور پھر ایک اور تلخ سوال:
اگر یہی سب کسی طاقتور کے ساتھ ہوتا…تو کیا ردعمل یہی ہوتا؟
کیا تحقیقات بھی اتنی ہی سست ہوتیں؟کیا سوال بھی اتنے ہی کم اٹھتے؟
یہ کالم کسی کو مجرم قرار دینے کے لیے نہیں۔
یہ کالم ایک سوال ہے —اور یہ سوال ہم سب سے ہے:
کیا ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں؟یا ہم صرف اس وقت بولتے ہیں جب ظلم ہماری دہلیز تک آ جائے؟
کیونکہ اگر اس ملک میں ایک عام آدمی کی جان، عزت اور سکون محفوظ نہیں…
تو پھر مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا۔
یہ پورے نظام کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اور اگر ہم نے آج بھی سوال نہ اٹھایا…تو کل ایک اور خبر آئے گی،ایک اور ویڈیو،ایک اور کہانی…
اور ہم پھر یہی کہیں گے:
"یہ کیسے ہو گیا؟”

کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے… یا ایک نظام کا چہرہ؟

‎کیا حراسمنٹ صرف چھونا ہے؟؟؟

Exit mobile version