ایران کی جنگ بندی اور مذاکرات کیلئے منتیں: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ بندی کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے

ایران کی جنگ بندی اور مذاکرات کیلئے منتیں: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ بندی کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے جبکہ تہران نے امریکی تجویز کے جواب میں نئی شرائط پیش کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق تہران نے امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا باضابطہ جواب بھیج دیا ہے اور اب واشنگٹن کے ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے جنگ بندی کے لیے چند اہم مطالبات رکھے ہیں جن میں ایرانی قیادت پر حملوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کا معاوضہ، مستقبل میں جنگ نہ ہونے کی ضمانت اور خطے میں شامل تمام مزاحمتی گروہوں کی جانب سے دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ بندی، معاہدے اور مذاکرات کے لیے منتیں کر رہا ہے اور امریکا و اسرائیل نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
اُنہوں نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے، یعنی 6 اپریل تک روک دیے جائیں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی روایتی فوجی صلاحیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے اور اب وہ پہلے جیسی حملہ آور طاقت نہیں رکھتا۔
ادھر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایران مذاکرات کی طرف واپسی چاہتا ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ امن مذاکرات کا تاثر دے کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکی بمباری نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد اسرائیل نے ممکنہ مذاکراتی شخصیات کو ہدف بنانے کی فہرست سے چند ایرانی رہنماؤں کے نام نکال دیے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق دونوں جانب سخت بیانات کے باوجود پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور آئندہ چند ہفتے جنگ یا امن کے حوالے سے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔
جنگ بندی










