
79 واں یوم آزادی بھی گزر گیا

اصغر علی کھوکھر ۔
14 اگست 2026ء کو 79واں یوم آزادی آیا جو قوم نے روایتی انداز میں منایا ۔اس موقع پر ہم نے ماضی کی طرح خوب جوش و خروش کا مظاہرہ تو کیا لیکن اناسی سال گزرنے کے بعد بھی حسب سابق ہم نے ہوش سے کام لیا، نہ عقل مندی کا مظاہرہ کیا۔
سرکاری سطح پر محض کارروائی کے طور پر مرکز اور صوبوں میں تقریبات منعقد ہوئیں جن میں پرانے رٹے رٹائے بیانات بمع تجدید ” عہد ” پڑھے اور سنے سنائے گئے جو میڈیا کی زینت بنے اور بس! رہی بات عوام کی، ان میں صاحبان حثیت ہیں انہوں نے حسب منشا خوشیاں منائیں اور انہی میں سے بعض کے بگڑے بچوں نے موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑکوں پر اودھم مچایا اور باجے بجا کر پر امن لوگوں کو دل کھول کر اذیت دی اور اس پر فخر کیا۔
رہی بات غریبوں خاص طور پر خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تو انہوں نے یہ وقت فکر میں گزار دیا کہ آج کیا پکائیں، کیا کھائیں؟
آزادی بلا شبہ بہت بڑی نعمت ہے، شرط یہ ہے کہ حقیقی آزادی ہو، جو قوم ذہنی اور اقتصادی طور پر غلام ہو اس کا جشن آزادی منانا خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے۔ بحثیت قوم ہمارا یہی حال ہے۔ ہم ذہنی طور پر آزاد ہیں نہ ہی اقتصادی طور پر۔ ہماری پیدا ہونے والی نسلیں بھی ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کی مقروض ہو چکی ہیں۔
جو قوم اپنی قومی زبان اور مسلمہ سماجی روایات کی پاسداری کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ نہ ہو اس کا خود کو آزاد تصور کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ جو ملک داخلہ اور خارجہ پالیسی تک خود وضع کرنے میں آزاد نہ ہو، الغرض جس قوم کی تقدیر اور مستقبل کا ہر فیصلہ اس کے غیر ملکی آقا کرتے ہوں وہ خود کو کیسے آزاد قوم قرار دے سکتی ہے۔
صرف سرکاری اور نجی عمارتوں پر چراغاں کرنے، آزادی کے بینرز آویزاں کرنے اور جھنڈیاں لہرانے سے قومیں آزاد نہیں ہوتیں، حقیقی آزادی وہ ہوتی ہے جس میں اپنی سوچ اور فکر قدغن نہ ہو ۔ اظہار خیال کی آزادی ہو ۔ کسی کو یہ خطرہ لاحق نہ ہو کہ اسے کلمہ حق بلند کرنے پر پابندی سلاسل کر دیا جائے گا۔
قومی دولت اور وسائل دولت پر عوام کا یکساں حق تسلیم کیا جاتا ہو ۔ عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں یکساں میسر ہوں ۔ اعلیٰ تعلیم کا حصول سب کے لیے ممکن ہو ۔ جس ملک کے کروڑوں عوام کو پینے کے لیے صاف پانی تک میسر نہ ہو، کروڑوں بچے والدین کی مالی مشکلات کے باعث تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوں مگر ارباب اختیار اور ان کے آللے تللے قومی دولت سے داد عیش دے رہے ہوں وہاں جشن آزادی منانا چہ معنی دارد ؟ ۔
من حیث القوم ہمیں حقیقی آزادی تب نصیب ہو گی جب ہمارا نصاب تعلیم نظریہ پاکستان کے تحفظ و فروع کا غماز اور آئینہ دار ہو گا اور وطن عزیز کا بچہ زیور تعلیم سے آراستہ ہوگا ۔ ہماری قومی زبان اردو بطور سرکاری زبان رائج ہو کہ ایسا نہ ہونا عدالت عظمیٰ کی توہین ہی نہیں ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش اور فرمان کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے ۔ اپنے قومی تشخص اور کو اجاگر کرنا ہر شہری اور ارباب اختیار کی باالخصوص ذمے داری ہے ۔ ایسا اسی صورت ممکن ہے جب ہم بحثیت قوم عالمی سطح پر اپنی شناخت کے تحفظ اور ذہنی غلامی سے نجات کے لیے سبز ہلالی پرچم تلے اس طرح ایک ہو جائیں کہ ذاتی مفادات کو قومی ترجیحات پر قربان کر دیں۔
یوم آزادی
یوم آزادی
