Site icon MASHRIQ URDU

‎پیرا فورس: قانون کا نفاذ یا غریب کی سزا؟

پیرا فورسپیرا فورس: قانون کا نفاذ یا غریب کی سزا؟

‎پنجاب کے بازاروں میں آج کل ایک نیا سوال گردش کر رہا ہے اور وہ سوال یہ نہیں کہ تجاوزات ہونی چاہئیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر آخر کس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
‎ایک طرف بڑے بڑے قبضہ مافیا ہیں، اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ ہیں، طاقتور حلقے ہیں، جنہوں نے صوبے کی قیمتی زمینوں اور حکومتی املاک پر قبضہ جما رکھا ہے یا لیز کے نام پر تھوڑی سے رقم ادا کرکے اپنا تصرف قائم کیا ہوا اور جب کہ دوسری جانب ایک ریڑھی بان ہے جس کی کل کائنات اس کی ریڑھی پر رکھا چند ہزار روپے کا سامان ہے۔ جب کارروائی ہوتی ہے تو عوام کو اکثر وہی کمزور آدمی پکڑ میں نظر آتا ہے جس کے پاس نہ سفارش ہے اور نہ وکیلوں کی فوج۔
‎پیرا فورس کے قیام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا، ذخیرہ اندوزی روکنا، تجاوزات ختم کرنا اور قانون کی عملداری قائم کرنا تھا۔ مگر جب کسی ادارے کے بارے میں شکایات اس قدر بڑھ جائیں کہ حکومت کو خود اس کے اندر احتساب ونگ قائم کرنا پڑے، باڈی کیمرے لگانے کے احکامات جاری کرنا پڑیں اور بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کا اعتراف کرتے ہوئے نگرانی سخت کرنا پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے؟
‎لاہور سمیت مختلف شہروں سے تاجروں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ بعض کارروائیوں کے دوران ہراسانی، دباؤ اور اختیارات کے غلط استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض دکانداروں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنی ہی دکانوں کے سامنے موجود جگہ کے استعمال پر مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔
‎سوال یہ ہے کہ اگر ایک غریب ریڑھی بان کا سامان اٹھا لیا جائے تو اس کے بچوں کے لیے رات کا کھانا کون لائے گا؟ اگر ایک چھوٹے دکاندار کی روزی چند منٹ میں سڑک پر بکھر جائے تو اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ قانون کی عملداری ضروری ہے مگر قانون کی روح انصاف ہے، محض طاقت کا مظاہرہ نہیں۔
‎افسوس اس امر پر ہے کہ عوام میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ریاستی ادارے خدمت سے زیادہ خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ یہ تاثر درست ہو یا غلط، حکومت کے لیے تشویش کا باعث ضرور ہونا چاہیے۔ کیونکہ ریاست صرف اختیارات سے نہیں چلتی، اعتماد سے چلتی ہے۔
‎وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود پیرا فورس کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال پر سخت کارروائی اور نگرانی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ اقدام خوش آئند ہے لیکن عوام اب بیانات نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔
‎پنجاب کے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غریب آدمی کی ریڑھی، اس کا ٹھیلا اور اس کی چھوٹی سی دکان صرف کاروبار نہیں بلکہ اس کے بچوں کی روٹی ہے۔ اگر قانون کے نفاذ کے نام پر عوام کے دلوں میں خوف اور نفرت پیدا ہونے لگے تو پھر اصلاح کی ضرورت عوام کو نہیں، نظام کو ہوتی ہے۔
‎عوام قانون کے خلاف نہیں۔ عوام ناانصافی کے خلاف ہیں۔ جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگے تو دانشمند حکومتیں شور سننے کا انتظار نہیں کرتیں، شکایات سن کر اصلاح کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔

آئی پی پیز، ایل این جی اور پاکستان

پیرا فورس
پیرا فورس
پیرا فورس
پیرا فورس
Exit mobile version