
پاکستان کا یوم آزادی اگست نہیں مارچ 1956؟ تاریخ کا بھولا باب

پاکستان کی تاریخ کا ایک باب ایسا بھی ہے جس کا ذکر آج کی سیاسی گفتگو میں بہت کم ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ہم اپنی تاریخ کو صرف ان واقعات کے ذریعے یاد کرتے ہیں جنہیں نصابی کتابوں میں جگہ ملی، جبکہ کچھ آئینی حقیقتیں وقت کے ساتھ ہماری اجتماعی یادداشت سے تقریباً غائب ہوگئیں۔
آج اگر کسی پاکستانی سے پوچھا جائے کہ پاکستان کا سربراہِ مملکت کون تھا، تو جواب فوراً آئے گا: صدرِ پاکستان۔
لیکن پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی گزرا جب ایوانِ صدر کا وجود ہی نہیں تھا، صدرِ پاکستان کا عہدہ نہیں تھا، اور پاکستان کا آئینی سربراہ ایک برطانوی بادشاہ تھا۔
یہ کوئی سیاسی الزام نہیں، تاریخ کا ایک باب ہے۔
پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا، مگر ابتدا ہی سے ایک مکمل جمہوریہ نہیں تھا۔ وہ تاج برطانیہ کے زیر تسلط ملک تھا۔ اپنی پہلی آئین سازی مکمل ہونے تک پاکستان نے گورنمنٹ اف انڈیا کے ایکٹ 1935 کو ترمیم کے ساتھ اپنے آئینی نظام کی بنیاد بنایا۔ قومی اسمبلی پاکستان کے اپنے تاریخی ریکارڈ میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ 14 اگست 1947 سے یکم مارچ 1956 تک ملک نے گورنمنٹ اف انڈیا کے ایکٹ 1935 کو آئینی بنیاد کے طور پر برقرار رکھا۔
اسی وجہ سے پاکستان کے پہلے سربراہِ مملکت کا منصب بادشاہِ برطانیہ کے پاس تھا۔
وہ بادشاہ تھا جارج ششم۔
لیکن جارج ششم پاکستان میں حکومت نہیں کرتا تھا۔ پاکستان میں تاج کی نمائندگی گورنر جنرل کرتے تھے، اور پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ یوں ایک آزاد پاکستان کے پہلے آئینی دور میں ریاستی نظام کی سب سے بلند علامتی حیثیت برطانوی تاج سے منسلک تھی۔
یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔
ہم نے آزادی حاصل کی تھی، مگر اپنی ریاست کا مکمل آئینی ڈھانچہ ابھی تشکیل دینا باقی تھا۔
پھر بادشاہ کی وفات ہوئی
6 فروری 1952 کو جارج ششم انتقال کرگئے۔
پاکستان میں بھی اس واقعے کو محض ایک غیر ملکی بادشاہ کی موت نہیں سمجھا گیا، کیونکہ آئینی طور پر وہ پاکستان کے بھی بادشاہ تھے۔
ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی الزبتھ دوم تخت نشین ہوئیں۔
اور یہاں تاریخ کا ایک ایسا منظر سامنے آتا ہے جس کا تصور آج کے پاکستان میں تقریباً ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان کی حکومت نے نئی ملکہ کے تخت نشین ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔
پاکستان کے گورنر جنرل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ملکہ الزبتھ دوم اب اپنے مملکتوں اور علاقوں کی ملکہ اور دولتِ مشترکہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔
یعنی اس وقت پاکستان بھی ان ریاستوں میں شامل تھا جہاں الزبتھ دوم آئینی طور پر ملکہ تھیں۔
یہ صرف ایک رسمی نام نہیں تھا۔
یہ اس وقت کے پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی حقیقت تھی۔
آج ہم جس ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتے ہیں، وہ 1952 میں ابھی اسلامی جمہوریہ نہیں بنا تھا۔
صدرِ پاکستان کا عہدہ بھی موجود نہیں تھا۔
یہ عہدہ 23 مارچ 1956 کو وجود میں آیا۔
1953 میں جب الزبتھ دوم کی تاجپوشی ہوئی تو پاکستان نے اس تقریب میں باقاعدہ شرکت کی۔
وزیراعظم محمد علی بوگرا کی قیادت میں پاکستانی وفد لندن گیا۔
یہ شرکت محض سفارتی تعلقات کی ایک عام سرگرمی نہیں تھی۔ پاکستان اس وقت Commonwealth کا ایک Dominion تھا اور اس کے آئینی سربراہ کی تاجپوشی تھی۔
اسی لیے پاکستان کی شرکت اس وقت کے آئینی تعلق کی علامت بھی تھی۔
تاجپوشی کے اخراجات بھی بعد میں سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنے۔ دستیاب تاریخی حوالوں میں تقریباً چار لاکھ بیاسی ہزار روپے خرچ ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
اگرچہ آج کے دور سے اس رقم کا تقابل کرنا مشکل ہے، لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
ایک نوزائیدہ ملک، جسے اپنے ادارے بنانے تھے، اپنے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنی تھیں اور جس کی معیشت ابھی اپنے قدم جما رہی تھی، اس کے لیے ایسی شاہی تقریبات میں شرکت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں تھیں؟
یہ سوال تاریخ پر الزام نہیں، تاریخ سے سبق لینے کی کوشش ہے۔
تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ الزبتھ دوم کی تاجپوشی کے لیے تیار کیے گئے لباس پر ان ممالک اور علاقوں کی نمائندگی کی گئی جو اس وقت تاج کے ساتھ آئینی تعلق رکھتے تھے۔
پاکستان کی نمائندگی گندم، کپاس اور پٹ سن سے کی گئی۔
ایک طرف برطانیہ کا شاہی تاج تھا، دوسری طرف ایک نیا ملک تھا جس کی معیشت کی شناخت انہی زرعی پیداوار سے ہوتی تھی۔
یہ تصویر اپنے اندر ایک پورا تاریخی استعارہ رکھتی ہے۔
پاکستان اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کا آئین ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
اس کا ریاستی ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کے قانونی ورثے سے نکل کر ایک نئے قومی نظام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اور اسی دوران پاکستان ایک ایسے Commonwealth نظام کا حصہ تھا جس کی علامتی سربراہی برطانوی تاج کے پاس تھی۔
کیا پاکستان اس وقت مکمل طور پر آزاد نہیں تھا؟
یہاں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ 1956 تک اس کی آئینی حیثیت آج کے پاکستان سے مختلف تھی۔
قومی اسمبلی کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1956 کا آئین 29 فروری کو منظور ہوا، 2 مارچ کو گورنر جنرل نے اس کی منظوری دی اور 23 مارچ 1956 کو نافذ ہوا۔
اسی آئین کے نفاذ کے ساتھ پاکستان اسلامی جمہوریہ بنا اور سربراہِ ریاست کا منصب صدرِ پاکستان کے پاس آگیا۔
کیا 1947 آزادی کا سال تھا؟
اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
پاکستان آزاد پہلے ہوا، مگر اپنی مکمل آئینی شناخت بعد میں مکمل کی۔
23 مارچ صرف 1940 نہیں
آج 23 مارچ کو ہم پاکستان ڈے کہتے ہیں اور اسے قراردادِ لاہور، یعنی 1940 کے تاریخی واقعے سے جوڑتے ہیں۔
یہ نسبت اپنی جگہ درست ہے۔
لیکن 23 مارچ کی ایک دوسری تاریخی حیثیت بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور ملک اسلامی جمہوریہ بنا۔
قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسی وجہ سے 23 مارچ کو Republic Day قرار دیا گیا، جبکہ اسی تاریخ کو 1940 کی پاکستان قرارداد کے تاریخی پس منظر سے بھی جوڑا گیا۔
لہٰذا 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں محض ایک سیاسی قرارداد کی یاد نہیں۔
یہ وہ دن بھی ہے جب پاکستان نے اپنے ابتدائی Dominion دور سے نکل کر ایک باقاعدہ آئینی جمہوریہ کی شکل اختیار کی۔
اصل سوال آج کے لیے ہے
حرفِ اختلاف کا مقصد ماضی کو برا بھلا کہنا نہیں۔
نہ برطانیہ کو پاکستان کی تمام مشکلات کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔
نہ یہ ثابت کرنا ہے کہ 1947 سے 1956 تک پاکستان کوئی حقیقی آزاد ملک نہیں تھا۔
اصل سوال اس سے زیادہ اہم ہے۔
آزادی صرف پرچم حاصل کرنے کا نام ہے یا اپنے ریاستی اداروں، آئین اور سیاسی اختیار کو اپنی مرضی سے تشکیل دینے کا نام بھی ہے؟
پاکستان نے 1947 میں آزادی حاصل کی۔
لیکن اپنی پہلی آئینی شناخت بنانے میں مزید نو برس لگے۔
اور پھر عجیب اتفاق دیکھیے کہ جس آئین نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنایا، وہ بھی ہمیشہ محفوظ نہ رہ سکا۔
1956 کا آئین صرف ڈھائی سال کے قریب قائم رہا۔ 7 اکتوبر 1958 کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کیا، اسمبلیاں تحلیل کیں اور مارشل لا نافذ کیا۔ چند ہی ہفتوں بعد ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ قومی اسمبلی کے سرکاری تاریخی ریکارڈ میں یہ تمام واقعات درج ہیں۔
یہاں سے ہماری تاریخ کا ایک اور سبق شروع ہوتا ہے۔
ہم نے تاجِ برطانیہ سے آئینی رشتہ ختم کیا، مگر آئین سے اپنا رشتہ مضبوط نہ رکھ سکے۔
ہم نے بادشاہ کی جگہ صدر مقرر کیا، مگر صدر کے اختیارات اور آئینی حدود پر بھی بار بار سوال اٹھتے رہے۔
ہم نے آزادی حاصل کی، جمہوریہ بنے، آئین بنایا، پھر آئین توڑا۔
اور شاید یہی ہماری تاریخ کا سب سے بڑا تضاد ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ کبھی پاکستان کا سربراہ ایک برطانوی ملکہ ہوا کرتی تھی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ریاست کا سربراہ کوئی بادشاہ نہیں بلکہ پاکستان کا اپنا منتخب آئینی منصب ہوگا، تو ہم اس آئینی نظام کو کتنی دیر تک قائم رکھ سکے؟
یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں صرف آزادی حاصل کرکے مضبوط نہیں ہوتیں۔
وہ مضبوط تب ہوتی ہیں جب ان کا آئین مضبوط ہو، ادارے اپنی حدود میں رہیں، اقتدار عوام کی مرضی سے آئے اور ریاست کسی فرد، خاندان یا ادارے کی جاگیر نہ بنے۔
پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں برطانوی تاج کا باب شاید ہمیں اسی لیے دوبارہ پڑھنا چاہیے۔
تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ آزادی کہاں سے شروع ہوئی تھی، آئینی خودمختاری کہاں مکمل ہوئی تھی، اور پھر ہم نے اپنے ہی آئین کے ساتھ کیا کیا۔
یہ تاریخ کسی ملکہ کی کہانی نہیں۔
یہ پاکستان کے اپنے ریاستی سفر کی کہانی ہے۔
آخر میں ایک سوال چھوڑے جارہا ہوں کیا حقیقت میں ہم اپنے ملکی فیصلوں میں آزاد ہیں؟ کیا ہم نے وہ حقیقی آزادی حاصل کی جس کے لئے ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس ملک کو حاصل کیا تھا؟
جنسی اشارے، نیم عریاں مناظر، شہوت انگیز گفتگو نفسیات پر اثر ڈالتے ہیں؟
