Site icon MASHRIQ URDU

وائرل ویڈیوز، جھوٹا تاثر اور سچ کی گرد میں دبی سیاست

وائرل ویڈیوزوائرل ویڈیوز، جھوٹا تاثر اور سچ کی گرد میں دبی سیاست

سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر انٹونی نوید صوبائی اسمبلی کے موجودہ ڈپٹی سپیکر ہیں اور ان کے نام سے منسوب یا زیرِ بحث ویڈیو نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بے یقینی کے بوجھ تلے دبی ہو تو اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی ہر ایسی تصویر کیوں اتنا گہرا زخم بن جاتی ہے۔
‎مسئلہ صرف ایک ویڈیو کا نہیں رہتا، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے سامنے جس طبقے کو سادگی، وقار اور جواب دہی کی مثال ہونا چاہیے، وہی طبقہ اکثر عیاشی، لاپروائی اور طاقت کے نشے میں گم دکھائی دیتا ہے۔
‎یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان کی سیاسی شخصیتوں یا سیاست سے جڑی نامور ہستیوں کی ویڈیوز نے ہنگامہ کھڑا کیا ہو۔ مرحوم عامر لیاقت حسین کے بارے میں 2023 میں بھی عدالت نے ان کی بیوہ دانیا شاہ پر ان کی ویڈیوز لیک کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی اور یہ معاملہ برسوں تک خبر بنا رہا۔ اس سے پہلے بھی 2022 میں انہی لیکڈ ویڈیوز پر کراچی کی عدالت میں کارروائی ہوئی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں سیاسی شہرت رکھنے والے افراد کی ذاتی ویڈیوز اکثر عوامی بحث کا ایندھن بن جاتی ہیں۔
‎اسی طرح 2018 میں پاکستان عوامی تحریک کے سیکریٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ طالبات پر سختی کرتے اور دھمکاتے نظر آئے اور اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ اور طالبات کے خلاف کارروائیوں نے معاملے کو اور بھی تلخ بنا دیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ ویڈیو صرف تفریح یا سنسنی نہیں ہوتی، کبھی یہ کسی ادارے کے اندر طاقت کے بے رحمانہ استعمال کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
‎پھر یہ بھی دیکھیے کہ ویڈیو کلچر ہمیشہ صرف اسکینڈل کا نام نہیں ہوتا۔ مریم نواز کی اپنے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی ایک تقریب میں گائے گئے گیت کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی اور وہ منظر ایک خاندانی خوشی کے طور پر دیکھا گیا۔ اسی طرح رحمان ملک کی پرواز سے اتارے جانے والی ویڈیو بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر خوب پھیلی اور اس نے ایک سیاسی تنازع کو لمحوں میں قومی بحث بنا دیا۔ یعنی ویڈیو کبھی جشن بن جاتی ہے، کبھی ہتھیار اور کبھی رسوا کرنے کا ذریعہ۔
‎لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ بھی ہے ہر وائرل ویڈیو سچی نہیں ہوتی اور ہر سچی ویڈیو اپنے اصل سیاق کے ساتھ سامنے نہیں آتی۔ ایک معروف فیکٹ چیک میں یہ بھی بتایا گیا کہ رقص کی ایک ویڈیو کو غلط طور پر پاکستانی سیاست دان عامر لیاقت سے منسوب کیا گیا تھا، حالانکہ وہ ویڈیو ان سے متعلق نہیں تھی۔ اس لیے ذمہ دار صحافت اور ذمہ دار رائے دونوں کا تقاضہ ہے کہ جذباتی ردِعمل سے پہلے تصدیق کی جائے، ورنہ سچ اور جھوٹ ایک ہی شور میں گم ہو جاتے ہیں۔
‎اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے جب ملک کی اکثریت بجلی، آٹے، ادویات اور کرایوں کے بوجھ تلے پس رہی ہو، تو حکمران طبقے کی شان و شوکت، بے فکری اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی عوام کو چبھتی کیوں نہ محسوس ہو؟
‎عوام ہر چیز معاف کر دیتے ہیں مگر دو باتیں نہیں بھولتے ایک ان کی تکلیف، دوسرے، حکمرانوں کی بے حسی۔ ویڈیو اگر حقیقت ہے تو جواب طلبی ہونی چاہیے اور اگر جھوٹی ہے تو اس کی تردید بھی اتنی ہی بلند اور واضح ہونی چاہیے۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر اصل بحث کردار پر نہیں، صرف کلپ پر ختم ہو جاتی ہے۔
‎پاکستان میں وائرل ویڈیو کلچر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہر کلپ اپنے ساتھ حقیقت نہیں لاتا، کبھی صرف الزام لاتا ہے۔ آغا سراج درانی کے نام سے ایک مشہور ویڈیو پھیلی تھی جس میں جلتی ہوئی رقم دکھائی گئی، مگر AFP اور Geo News کی fact-check کے مطابق وہ ویڈیو دراصل میڈرڈ میں پیش کی گئی ایک آرٹ انسٹالیشن تھی، کسی پاکستانی سیاست دان کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم نہیں۔ یہ مثال یاد دلاتی ہے کہ سوشل میڈیا پر پہلا تاثر اکثر آخری سچ بننے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ وہ جھوٹ بھی ہو سکتا ہے۔
‎دوسری طرف کچھ معاملات واقعی سنگین بھی ہوتے ہیں۔ میڈیا کے میدان میں مبشر لقمان سے جڑا تنازع بھی اسی فضا کی ایک مثال ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے پروگرام “کھرا سچ” سے متعلق جواب طلب کیا تھا اور پیمرا نے اس پروگرام اور اینکر کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس واقعے نے یہ واضح کیا کہ کبھی ویڈیو یا پروگرام محض خبر نہیں رہتا۔ طاقت، اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی جواب دہی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ ایک ویڈیو سے بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بار بار ایسی مثالیں سامنے آئیں، کبھی جھوٹی منسوبات، کبھی سچی مگر شرمناک ویڈیوز، کبھی میڈیا اور سیاست کی ملی جلی لڑائیاں تو عوام کے اندر یہ یقین جڑ پکڑ لیتا ہے کہ اوپر بیٹھا طبقہ ان کی زندگی سے کٹا ہوا ہے۔ اس لیے ذمہ دارانہ انداز یہی ہے کہ کسی بھی وائرل کلپ پر رائے بنانے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے، اس کا سیاق دیکھا جائے، اور جس چیز کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہ ہو اسے ناموں کے ساتھ جوڑ کر مزید فتنہ نہ پھیلایا جائے۔
‎آخر میں بات پھر وہیں آ جاتی ہے عوام کو ویڈیو نہیں، وقار چاہیے، تماشہ نہیں، جواب دہی چاہیے اور عیاشی نہیں سادگی اور احساس چاہیے۔ جب تک حکمران طبقہ یہ فرق نہیں سمجھے گا ہر نئی وائرل ویڈیو پر غصہ
بھی بڑھے گا اور بداعتمادی بھی۔
وائرل ویڈیو
وائرل ویڈیو
وائرل ویڈیو

تاج، تخت اور عوام — برطانیہ کا سبق ‎

‎۔
Exit mobile version