محترمہ نوشی حنیف دو برس سے عالمی شہرت کے حامل علمی و ادبی خدمات انجام دینے والے ادارے بزم اقبال سے بحثیت لائبریرین وابستہ ہیں ۔ انتہائی ذہین ، محنتی ، ملنسار اور بطور ورکر اپنے کام سے مخلص ہونے کے باعث اپنے ساتھی ورکرں میں ہر دل عزیز ہیں ۔
نوشی کتاب دوست تو تھیں ہی تاہم ایک لائبریرین کے طور پر بیک وقت درجنوں موضوعات پر مشتمل کتابوں تک ،جن میں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شخصیت اور شاعری ایسی نایاب کتب بھی شامل ہوں تک رسائی ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔
چنانچہ انہوں نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف پسندیدہ کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا بلکہ خدا داد تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف موضوعات پر مضامین اور کہانیاں سپرد قلم کرنی شروع کر دیں، جو مختلف جرائد میں شائع ہو رہی ہیں ۔
نوشی حنیف جو کہ ایک سیلفی میڈ خاتون ہیں، اپنی مزہبی شناخت برقرار رکھنے کے باوجود وطن عزیز کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے خواتین کے بھرپور کردار کو مردوں کے شانہ بہ شانہ دیکھنا چاہتی ہیں ۔ وہ اپنی اچھوتے عنوانات کے تحت اپنی کہانیوں میں بڑے ڈھنگ اور مہارت سے ان سماجی مسائل کا احاطہ کرتی نظر آتی ہیں جو ہمارے معاشرے میں تقریباً ہر گھر کی کہانی ہوتی ہے ۔
نوشی صاحبہ اکثر گھروں میں معمولی اختلافات و تنازعات کے باعث ٹوٹتے اور جڑتے رشتوں میں چھوٹی یا بڑی بہنوں ، نندوں ، بھاوجوں اور خالاوں کے منفی اور مثبت کرداروں کو مناسب الفاظ کی لڑیوں میں پرو دیتی ہیں اور پھر تحریروں میں تسلسل ایسا کہ قاری کی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے ۔
نوشی حنیف
نوشی حنیف کا کہنا ہے کہ زندگی بہت بڑی کتاب اور زمانہ بہت بڑا استاد ہے ۔ کہانی کوئی بھی ہو اس میں پنہاں سبق کو تحریر میں سامنے لانا ہی اصل فن کاری ہے ۔ فرضی کہانی تو انسان تب لکھے جب حقیقی کہانیاں منظر عام پر نہ ہوں ۔ کسی کہانی میں حقائق منظر عام پر لانا ضروری ہوتا ہے ۔
ایسا نہ ہو تو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا محال نظر آتا ہے اور اگر کسی مسئلے کا حل نظر آ بھی رہا ہو مگر حل کرنے والے مخلص نہ ہوں تو الجھن مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ایسی الجھنوں کو سلجھانے اور اس کے لیے آسان راستے تلاش کرنا ہی در اصل ایک کہانی لکھنے والے کی ذمے داری ہے تاکہ قارئین لکھاری کی صلاحیتوں کے معترف ہوں ۔
نوشی حنیف اپنی کہانیوں میں بات کا بتنگڑ نہیں بناتیں ۔ سلیس انداز میں صاف صاف بات کرتی ہیں ۔ ان کے نزدیک جہاں حقائق تک رسائی ضروری ہے وہاں الفاظ کا چناؤ یا استعمال کرتے وقت کرداروں کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچانا ضروری ہوتا ہے تاکہ لکھاری تنقید کے تیروں سے محفوظ رہ سکے ۔
نوشی حنیف کے نزدیک عورت صنفی تفاوت کے باعث بھی گمبھیر صورتحال کا شکار ہے کہ جہالت کے شکار معاشرے میں قدم قدم پر اس کا استحصال ہو رہا ہے ۔ عورت ترقی کی منازل طے کرنا بھی چاہے تو سماجی عدم انصاف اس کے راستے کی پہلی دیوار ثابت ہوتا ہے ۔
ارباب اختیار اس تناظر میں بہت کچھ کہتے اور دعوے کرتے ہیں تاہم مثبت نتائج صفر ہیں جس کی بڑی وجہ قانون کا بوقت ضرورت فوری اور یکساں اطلاق نہ ہونا ہے ۔یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی خواتین کو سماجی انصاف ان کی دہلیز پر ملے اور وہ جوق در جوق تعمیر وطن کے لیے مردوں کے شانہ بہ شانہ میدان عمل میں نہ نکلیں ۔