
ترجمان روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اہم شراکت دار ہیں، ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی مگر استنبول میں مذاکرات کے دو ادوار میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ترک صدر نے آذربائیجان میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاک افغان کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیجیں گے۔دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستانی ہم منصب سے کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

