
حاکمیت صرف تخت کا نہیں، ذمہ داری کا نام ہے

شہزاد عابد خان
نبضِ حالات
دنیا میں ”حاکم” کا لفظ سنتے ہی ذہن میں کسی بادشاہ، صدر، وزیر اعظم یا حکمران کی تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ حاکم صرف وہ نہیں جو کسی ملک پر حکومت کرے، بلکہ ہر وہ شخص حاکم ہے جس کے سپرد کسی انسان کی ذمہ داری ہے۔ ایک ادارے کا سربراہ، فیکٹری کا مالک، سکول کا پرنسپل، دفتر کا افسر، حتیٰ کہ ایک گھر کا سربراہ بھی اپنے دائر اختیار میں حاکم ہے۔ جہاں اختیار ہوتا ہے، وہاں جواب دہی بھی ہوتی ہے۔
ایک بزرگ خلیفہ کا قول ہے کہ، ”اگر میری حکومت میں کوئی شخص اپنی حاجت لے کر میرے پاس آئے اور میں اس کی حاجت پوری نہ کر سکوں، پھر وہ اللہ کے حضور فریاد کرے، تو پھر مجھے حکمران رہنے کا حق حاصل نہیں ” یہ جملہ دراصل اقتدار کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ حاکم کا منصب عزت لینے کے لیے نہیں، لوگوں کی عزت، حقوق اور ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اسلام نے حکمرانی کو اعزاز نہیں بلکہ امانت قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی قول آج بھی حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ اگر ان کی حکومت میں ایک جانور بھی بھوک یا راستے کی خرابی کی وجہ سے تکلیف اٹھائے تو وہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایسا معیار ہے جس پر آج کی حکمرانی کو پرکھا جا سکتا ہے۔
آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے مسائل لے کر در بدر بھٹکتے نظر آتے ہیں۔ کوئی انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے، کوئی علاج کے لیے ہسپتال کے باہر دم توڑ دیتا ہے، کوئی تعلیم کی آس میں عمر گزار دیتا ہے اور کوئی دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی عزتِ نفس تک قربان کر دیتا ہے۔
ایسے میں جب ہر دروازہ بند ہو جائے تو انسان کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ یقیناً اللہ ہی سب سے بڑا کارساز ہے مگر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے زمین پر اختیار دیا تھا، وہ اپنی ذمہ داری کیوں بھول گئے؟
ایک اچھے حاکم کی پہچان اس کے پروٹوکول، گاڑیوں کے قافلے یا اس کی کرسی سے نہیں ہوتی۔ اس کی اصل پہچان اس کی رعایا کے چہروں پر موجود اطمینان سے ہوتی ہے۔ اگر عوام سکون سے سو رہے ہوں، مزدور کا چولہا جل رہا ہو، یتیم کو سہارا مل رہا ہو، بیوہ کے آنسو پونچھے جا رہے ہوں اور انصاف امیر و غریب دونوں کے لیے یکساں ہو، تب سمجھیں کہ حاکم اپنے منصب کا حق ادا کر رہا ہے۔
یہ اصول صرف ریاست پر لاگو نہیں ہوتا۔ اگر ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ضروریات سے غافل ہے تو وہ بھی اپنی ذمہ داری میں ناکام ہے۔ اگر کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملازمین کو انصاف نہیں دیتا، ایک فیکٹری کا مالک مزدور کا حق دبا لیتا ہے، ایک افسر اپنے ماتحتوں کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے تو وہ سب بھی اسی میزان پر کھڑے ہیں جہاں ایک بادشاہ کھڑا ہوتا ہے۔ اللہ کے ہاں عہدے نہیں، ذمہ داریاں پوچھی جائیں گی۔
ہمیں صرف اچھے حکمرانوں کی دعا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ خود بھی اپنی اپنی جگہ اچھا حاکم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہر شخص کسی نہ کسی درجے میں ذمہ دار ہے۔ اگر ہر باپ اپنی اولاد کے ساتھ انصاف کرے ہر استاد اپنے شاگرد کا حق ادا کرے، ہر مالک اپنے ملازم کے ساتھ دیانت کرے اور ہر افسر اپنے اختیار کو خدمت کا ذریعہ بنائے تو شاید ہمارے معاشرے کے بہت سے زخم خود بخود بھرنا شروع ہو جائیں۔
اقتدار چند برسوں کا ہوتا ہے مگر جواب دہی ہمیشہ کی ہے۔ کرسی ایک دن چھن جاتی ہے مگر اعمال کا حساب باقی رہتا ہے۔ تاریخ نے بڑے بڑے محلات کو کھنڈر بنتے دیکھا ہے مگر انصاف کرنے والوں کے نام آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
آئیے! ہم صرف یہ سوال نہ کریں کہ ہمارا حاکم کیسا ہے، بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ ہم اپنی چھوٹی سی حاکمیت میں کتنے انصاف پسند ہیں۔ کیونکہ جب ہر شخص اپنے دائرے میں عدل قائم کرے گا تو پورا معاشرہ انصاف کا گہوارہ بن جائے گا۔
یاد رکھیے، اصل حاکم وہ نہیں جس کے ہاتھ میں اختیار ہو بلکہ وہ ہے جس کے دل میں اپنی رعایا کا درد ہو۔
