Site icon MASHRIQ URDU

جنسی اشارے، نیم عریاں مناظر، شہوت انگیز گفتگو نفسیات پر اثر ڈالتے ہیں؟

جنسجنسی اشارے، نیم عریاں مناظر، شہوت انگیز گفتگو نفسیات پر اثر ڈالتے ہیں؟


پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہمارے آئین کی بنیاد بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں کو قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور قوانین کو اسلامی احکامات سے ہم آہنگ کیا جائے۔
تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہماری اجتماعی زندگی واقعی ان اصولوں کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے؟
آج موبائل فون ہر ہاتھ میں ہے، سوشل میڈیا ہر گھر میں ہے اور چند لمحوں میں دنیا بھر کا مواد ہمارے بچوں کے سامنے موجود ہے۔ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، مسئلہ اس مواد کا ہے جو ہماری نئی نسل کی آنکھوں، ذہنوں اور کردار پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
اور اس بحث کا ایک انتہائی خوفناک پہلو وہ ہے جسے ہم شاید سب سے زیادہ نظرانداز کر رہے ہیں۔
جب معصوم بچیاں بھی محفوظ نہ رہیں
پاکستان میں آئے روز ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جنہیں سن کر اندر کا انسان لرز جاتا ہے۔ چند سال عمر کی بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا اور پھر جرم چھپانے کے لیے انہیں قتل کر دیا جانا لمحہ فکر ہے۔
یہاں متاثرہ کوئی بالغ عورت نہیں ہوتی۔
وہ ڈیڑھ سال کی بچی بھی ہو سکتی ہے۔
وہ پانچ سال کی بچی بھی ہو سکتی ہے۔
وہ آٹھ، دس یا بارہ سال کی معصوم بچی بھی ہو سکتی ہے۔
وہ نہ کسی مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، نہ اسے جنسی معاملات کا شعور ہوتا ہے، نہ وہ کسی سوشل میڈیا کا حصہ ہوتی ہے۔
پھر اس معصوم بچی کا قصور کیا ہے؟
کچھ نہیں۔
اس کا واحد "جرم” یہ ہوتا ہے کہ درندہ صفت مجرم نے اسے کمزور، بے بس اور آسان شکار سمجھ لیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی پوری بحث کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔
اگر ایک شخص چند سال کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف کسی ایک جنس کا نہیں،
یہ کردار، تربیت، جنسی جرائم کے خلاف قانون، سزا کے یقینی ہونے اور معاشرے میں حیا کے مجموعی زوال کا مسئلہ ہے۔
جب بے حیائی معاشرتی برائی تصور ہی نہ کی جائے تو ایسے واقعات عام ہونے لگتے ہیں۔
کیا معاشرہ جنسی ترغیب کے ماحول سے بری الذمہ ہے؟
ہمیں ایک سوال کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
اگر بالغ خواتین یا مرد سوشل میڈیا پر جان بوجھ کر ایسی گفتگو، حرکات اور جسمانی نمائش کو فروغ دیں جن کا مقصد مخالف جنس کی جنسی توجہ حاصل کرنا ہو، اگر ایسی ویڈیوز کو پیسہ کمانے، شہرت حاصل کرنے اور ویوز بڑھانے کا ذریعہ بنایا جائے، تو کیا یہ معاشرے کے مجموعی اخلاقی ماحول پر کوئی اثر نہیں ڈالتا؟
کیا نوجوانوں کی آنکھوں کے سامنے مسلسل جنسی اشاروں، عریاں یا نیم عریاں مناظر، شہوت انگیز گفتگو اور جسمانی نمائش کا سیلاب ان کی نفسیات پر اثر نہیں ڈال سکتا؟
یقیناً اثر پڑ سکتا ہے۔
اس بات میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا مکمل طور پر مجرم ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ:
کیا معاشرے میں مسلسل فحش اور شہوت انگیز مواد کی فراوانی جنسی خواہشات کو بھڑکانے اور حیا کی حدود کمزور کرنے والے عوامل میں شامل نہیں ہو سکتی؟
یہ سوال پوچھنا عورت کو مجرم قرار دینا نہیں۔
یہ سوال معاشرے کے اخلاقی ماحول کے بارے میں ہے۔
اسلام نے یہ راستہ کیوں بند کیا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تعلیمات کی حکمت سامنے آتی ہے۔
اسلام نے عورت کو محض اس لیے پردے کا حکم نہیں دیا کہ اسے معاشرے سے الگ کر دیا جائے۔
اسلام نے ایک پورا اخلاقی نظام قائم کیا ہے۔
مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا۔
عورت کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا۔
مرد کو اپنی پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا۔
عورت کو بھی اپنی پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا۔
عورت کو اپنی زینت غیر محرموں کے سامنے ظاہر نہ کرنے اور اپنی اوڑھنیاں سینے پر ڈالنے کی ہدایت دی گئی۔
سورۃ الاحزاب میں بھی مسلمان خواتین کو باہر نکلتے وقت اپنی چادریں اپنے اوپر ڈالنے کی ہدایت دی گئی۔
اور پھر قرآن نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا:
"زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔”
یہاں لفظ "قریب” بہت معنی خیز ہے۔
یعنی اسلام صرف آخری جرم کو نہیں روکتا بلکہ ان راستوں کو بھی بند کرنا چاہتا ہے جو انسان کو اس جرم کے قریب لے جاتے ہیں۔
اسی لیے اسلامی معاشرے میں حیا صرف ایک فرد کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ اجتماعی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
جسم نمائش کی چیز نہیں
آج سوشل میڈیا نے انسانی جسم کو بھی ایک مارکیٹ بنا دیا ہے۔
جس چیز پر زیادہ ویوز آئیں، وہ دوبارہ بنائی جاتی ہے۔
جس حرکت پر زیادہ لائکس ملیں، اسے مزید بڑھایا جاتا ہے۔
جس انداز سے زیادہ لوگ متوجہ ہوں، اسے "کانٹینٹ” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
اور پھر اسی توجہ کو پیسہ بنا لیا جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ عورت کو بولنے کا حق ہے یا نہیں۔
یقیناً ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر اظہار اسلامی معاشرے میں اخلاقاً درست بھی ہے؟
اسلام نے اس کا جواب بہت پہلے دے دیا۔
جسم کی نمائش کو کامیابی کا معیار نہ بناؤ۔
حیا کو کمزوری نہ سمجھو۔
نگاہوں کی حفاظت کرو۔
زینت کی نمائش سے بچو۔
اور ایسا ماحول پیدا نہ کرو جس میں گناہ معمول بن جائے۔
اگر ہم صرف عورت کے پردے کی بات کریں گے اور مرد کی نگاہ، کردار اور خواہشات کو نظرانداز کریں گے تو ہماری بات ادھوری ہوگی۔
قرآن نے عورت سے پہلے مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا۔
اس کا مطلب بالکل واضح ہے:
اسلامی معاشرے میں مرد کو اپنی خواہش کا ذمہ دار خود بنایا گیا ہے۔
اگر کوئی عورت بے حیائی کرتی ہے تو وہ اپنے عمل کی ذمہ دار ہے۔
لیکن اگر کوئی مرد اس بے حیائی کو دیکھتا، محفوظ کرتا، شیئر کرتا، خریدتا یا اس کے نتیجے میں کسی دوسرے انسان کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔
ایک مسلمان مرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ "اس نے مجھے اکسایا تھا، اس لیے میں نے جرم کیا۔”
نہیں۔
گناہ کا فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔
اصل مجرم وہی ہے جو معصوم کو شکار بناتا ہے
اور یہاں سب سے اہم بات دوبارہ کہنا ضروری ہے:
کسی بچی کے ساتھ زیادتی کی ذمہ داری کبھی اس بچی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
وہ معصوم ہے۔
اس کا لباس، اس کی عمر، اس کا گھر سے باہر ہونا یا کسی جگہ موجود ہونا اسے جرم کا ذمہ دار نہیں بناتا۔
چند سال کی بچی تو اس بحث سے بھی باہر ہے۔
وہ تو اس قابل بھی نہیں کہ اسے بتایا جائے کہ دنیا میں درندے بھی موجود ہیں۔
اس لیے جو شخص ایسی بچی کو زیادتی کا نشانہ بناتا ہے اور پھر اپنا جرم چھپانے کے لیے اسے قتل کر دیتا ہے، وہ صرف ایک فرد کا قاتل نہیں؛ وہ انسانی اور اسلامی معاشرے دونوں کے خلاف جرم کرتا ہے۔
ایسے مجرم کو قانون کی پوری طاقت کے ساتھ پکڑا جانا چاہیے۔
اور سزا ایسی ہونی چاہیے کہ دوسرے مجرم کے ذہن میں بھی قانون کا خوف پیدا ہو۔
قانون کا خوف ختم ہوگا تو درندے بڑھیں گے
ہمیں یہاں جذبات سے آگے بڑھ کر نظام کو دیکھنا ہوگا۔
ایک مجرم اگر یہ سمجھتا ہے کہ پولیس اسے پکڑ نہیں سکے گی، مقدمہ برسوں چلے گا، گواہ دباؤ میں آ جائیں گے، خاندان صلح پر مجبور ہو جائے گا یا آخرکار وہ قانونی پیچیدگیوں سے نکل جائے گا تو قانون اس کے لیے خوف نہیں رہتا۔
اسلامی معاشرہ صرف وعظ سے قائم نہیں ہوتا۔
اس کے لیے عدل اور قانون کا نفاذ بھی ضروری ہے۔
اسلام میں مجرم کو سزا دینا صرف انتقام نہیں بلکہ معاشرے کی حفاظت بھی ہے۔
لہٰذا ایسے جرائم کے مقدمات میں تاخیر، کمزور تفتیش، ناقص فرانزک، گواہوں کا دباؤ اور مقدمات کا طویل ہونا خود معاشرے کے خلاف ظلم بن جاتا ہے۔
اسلام عورت کو انسان ہونے کے حقوق سے محروم نہیں کرتا۔
اسلام اسے تعلیم سے نہیں روکتا۔
اسلام اسے جائز کاروبار سے نہیں روکتا۔
اسلام اسے معاشرتی کردار سے نہیں روکتا۔
لیکن اسلام یہ ضرور کہتا ہے کہ آزادی اللہ کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہیں۔
یہی اصول مرد کے لیے بھی ہے۔
مرد آزاد ہے، مگر ہر خواہش پوری کرنے کے لیے نہیں۔
عورت آزاد ہے، مگر اپنی عزت اور اسلامی حدود کو پامال کرنے کے لیے نہیں۔
سوشل میڈیا آزاد ہے، مگر فحاشی، بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کا لائسنس نہیں۔
آج ہمیں نہ عورت کو قید کرنے کی ضرورت ہے، نہ بے حیائی کو آزادی کا نام دینے کی۔
ہمیں اسلامی توازن کی ضرورت ہے۔
گھر میں تربیت ہو۔
مرد کو نگاہ کی حفاظت سکھائی جائے۔
عورت کو پردہ اور حیا کی اہمیت سمجھائی جائے۔
بچوں کو موبائل استعمال کرنے کے آداب سکھائے جائیں۔
فحش مواد کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔
بلیک میلرز کو فوری سزا ملے۔
بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کے مقدمات میں غیر معمولی سنجیدگی اختیار کی جائے۔
اور سوشل میڈیا کو ایسی جگہ نہ بننے دیا جائے جہاں انسانی جسم، عزت اور جذبات صرف چند روپے یا چند ہزار ویوز کے لیے نیلام ہوتے رہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حیا کا مطالبہ صرف عورت سے نہیں، پورے معاشرے سے ہے۔
مرد سے بھی۔
عورت سے بھی۔
والدین سے بھی۔
تعلیمی اداروں سے بھی۔
میڈیا سے بھی۔
سور ریاست سے بھی۔
اگر ہم ایک طرف اپنی بچیوں کو درندوں سے محفوظ نہیں کر پا رہے، دوسری طرف اپنے نوجوانوں کے سامنے شہوت انگیز مواد کا سمندر کھول رہے ہیں، تیسری طرف قانون کا خوف کم ہو رہا ہے اور چوتھی طرف حیا کو "پرانے زمانے کی سوچ” قرار دے کر مذاق بنایا جا رہا ہے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کس معاشرے کے حوالے کر رہے ہیں؟
ہمیں نہ کسی عورت سے نفرت کرنی ہے، نہ اسے ذلت کا نشانہ بنانا ہے۔
لیکن ہمیں بے حیائی کو بے حیائی کہنے سے بھی نہیں ڈرنا۔
اسلام کا راستہ واضح ہے:
نگاہ بھی پاک ہو، لباس بھی باحیا ہو، کردار بھی پاک ہو، معاشرہ بھی پاک ہو اور قانون بھی مضبوط ہو۔
کیونکہ جس معاشرے میں حیا ختم ہو جائے، وہاں صرف کپڑے کم نہیں ہوتے؛ جرم کے خلاف اجتماعی حساسیت بھی کم ہونے لگتی ہے۔
اور جس معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہو جائے، وہاں درندے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کمزور انسان صرف ایک آسان شکار ہے۔
ہمیں اس سوچ کو توڑنا ہوگا۔
اپنی بچیوں کے لیے۔
اپنے بیٹوں کے لیے۔
اپنے گھروں کے لیے۔
اور اس پاکستان کے لیے جسے ہم صرف نام سے نہیں، عمل سے بھی اسلامی معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

Exit mobile version