
جب عوام قربانی دیں اور اقتدار آسائشیں لے

قانون کا خوف یا انصاف کا تحفظ؟
حرف اختلاف
جمہوریت کی اصل پہچان یہ نہیں کہ پارلیمنٹ کتنے قوانین منظور کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ قوانین کس کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔اگر قانون کمزور کو طاقتور کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلہ دے تو وہ انصاف ہے۔لیکن اگر قانون ایسا ماحول پیدا کرے جہاں عام آدمی یہ سوچنے لگے کہ ”سوال پوچھنے سے پہلے بھی سو بار سوچنا پڑے گا”تو پھر ریاست کو خود اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں پیش کیے گئے Habitual Offenders and Anti Social Behaviour Bill پر صرف اپوزیشن نے ہی اعتراض نہیں کیا، بلکہ قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خود پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے بھی اس کے طریقہ کار اور بعض شقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون عادی مجرموں اور منظم جرائم کے خلاف ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعض اختیارات کا غلط استعمال کیا جائے گا اور سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے دشمنی نہیں ہوتا، بلکہ قانون کو بہتر بنانے کا راستہ ہوتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں سوال کرنے والے کو اکثر مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، سوال کو نہیں۔یہی سوچ آہستہ آہستہ قوموں کو تقسیم کرتی ہے۔
صحافی سوال کرے تو کہا جاتا ہے اس کا کوئی ایجنڈا ہے۔یوٹیوبر سوال کرے تو اس کی نیت پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔سیاسی مخالف سوال کرے تو اسے ریاست دشمن ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے اور عام شہری سوال کرے تو اسے باغی قرار دے کر اٹھا لیا جاتا ہے۔لیکن وہ ہی ریاستیں مضبوط ہوتی ہیں جو سوال سے نہیں گھبراتیں۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا بحران شاید مہنگائی بھی نہیں، بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔2024 کے انتخابات کے بعد سے ملک کا ایک بڑا طبقہ انتخابی نتائج پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ”فارم 47” صرف ایک فارم کا نام نہیں رہا بلکہ انتخابی شفافیت پر جاری قومی بحث کی علامت بن چکا ہے۔ دوسری طرف حکومت اپنے آئینی مینڈیٹ کا پرچار کر رہی ہے۔ اس اختلاف کے درمیان سب سے زیادہ نقصان عوام کے اعتماد کو پہنچا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے مکمل نہیں ہوتی۔جمہوریت تب مکمل ہوتی ہے جب ہارنے والا بھی یہ مان لے کہ وہ منصفانہ عمل میں ہارا ہے اور جیتنے والے کی جیت پر بھی عوام کو اعتماد ہو۔اعتماد قانون اور زور زبردستی سے نہیں خریدا جا سکتا۔اعتماد تقریروں سے بھی پیدا نہیں ہوتا،اعتماد شفافیت، جوابدہی اور انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔
اگر حکومت ہر اعتراض کا جواب غصے سے دے گی، اگر ہر سوال کو سیاسی سازش سمجھا جائے گا، اگر ہر اختلاف کو ریاست سے ٹکرا دیا جائے گا، تو پھر فاصلے کم نہیں ہوں گے، بڑھیں گے۔ملکوں کو صرف دہشت گردی یا معاشی بحران کمزور نہیں کرتے۔بعض اوقات وہ خاموشی بھی ریاست کو کمزور کر دیتی ہے جو خوف کی وجہ سے معاشرے پر مسلط ہو جائے۔اس لیے آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ سوال پوچھنے والوں کی تعداد کم کی جائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جن کے بعد سوال خود بخود کم ہو جائیں۔ کیونکہ جس حکومت کے پاس عوام کے سوالوں کے جواب موجود ہوں اسے سوالوں سے خوف نہیں ہوتااور جس ریاست کا سب سے مضبوط ہتھیار دلیل کے بجائے اختیار بن جائے، وہاں قانون کی طاقت تو بڑھ سکتی ہے…لیکن انصاف پراعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
کسی بھی ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ اس کے خزانے میں کتنے ارب روپے ہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ان اربوں کی ترجیح کیا ہے۔آج پاکستان کا عام آدمی ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔اس سے کہا جاتا ہے کہ بجلی مہنگی ہونا ناگزیر ہے۔اسے بتایا جاتا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں عالمی حالات کا نتیجہ ہیں۔اس پر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے یہ قربانی ضروری ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط کا حوالہ دیا جاتا ہے، مالی نظم و ضبط کی بات کی جاتی ہے اور عوام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاموشی سے یہ سب برداشت کریں۔
یہاں تک تو شاید بہت سے لوگ اس دلیل کو سمجھ بھی لیں۔لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ کفایت شعاری صرف ان کے لیے ہے، ریاست کے لیے نہیں۔اگر حکومت عوام سے قربانی مانگتی ہے تو عوام بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ پوچھیں:
کیا سرکاری اخراجات میں بھی اسی رفتار سے کمی آئی؟کیا حکمرانوں کے پروٹوکول میں بھی سادگی آئی؟کیا ریاست نے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کیے؟یہی وہ سوال ہے جس نے سرکاری بزنس جیٹ کی خریداری کو ایک سیاسی بحث سے بڑھا کر عوامی بحث بنا دیا۔ حکومت کہتی ہے کہ یہ جہاز انتظامی ضرورت اور سرکاری استعمال کے لیے ہے۔
عوام کہتے ہیں: ممکن ہے۔ لیکن پھر اس ضرورت کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے۔کتنے سرکاری مشن اس جہاز سے مکمل ہوئے؟کتنے ہنگامی عوامی مقاصد کے لیے اسے استعمال کیا گیا؟سالانہ اخراجات کیا ہیں؟اور ان اخراجات کا بوجھ آخر کون اٹھا رہا ہے؟جمہوریت میں یہ سوال دشمنی نہیں، جوابدہی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
ایک غریب آدمی جب بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہوتا ہے، جب اس کی تنخواہ مہینے کے آخری ہفتے سے پہلے ختم ہو جاتی ہے، جب وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور والدین کی دوائیوں میں انتخاب کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو وہ صرف حکومت سے پیسے نہیں مانگتا…وہ انصاف مانگتا ہے۔وہ یہ چاہتا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرے جو وہ خود اس سے توقع رکھتی ہے۔
اگر عوام سے کہا جائے کہ ”ملک مشکل میں ہے”، تو سب سے پہلے حکمرانوں کے طرزِ زندگی سے بھی یہی پیغام نظر آنا چاہیے۔قیادت کی اصل پہچان حکم دینے میں نہیں، مثال قائم کرنے میں ہوتی ہے۔تاریخ نے ہمیشہ ان حکمرانوں کو یاد رکھا جنہوں نے خزانے سے پہلے اپنے نفس پر پابندی لگائی۔ ان حکمرانوں کو بھی یاد رکھا جنہوں نے عوام سے قربانیاں مانگیں مگر اپنی سہولتوں کو ہاتھ نہ لگنے دیا۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ معیشت کب بہتر ہوگی۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو یہ احساس ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے؟اگر اس سوال کا جواب ”نہیں ” میں آنے لگے تو پھر معاشی بحران صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہتا…وہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے ٹوٹنے کی علامت بن جاتا ہے اور جس دن عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے حصے میں صرف مہنگائی، ٹیکس، بل اور قربانیاں ہیں، جبکہ اقتدار کے حصے میں سہولتیں، اختیارات اور استثنا…تو پھر مسئلہ صرف معیشت کا نہیں رہتا، حکمرانی کے فلسفے کا بن جاتا ہے۔
فیصلہ عدالتوں میں نہیں، تاریخ میں ہوگا
اقتدار کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ کے لیے سمجھنے لگتا ہے۔ ہر حکومت یہی سمجھتی ہے کہ اس کے پاس اکثریت ہے، اختیار ہے، قانون ہے، انتظامیہ ہے، اس لیے وہ مضبوط ہے۔ مگر تاریخ ایک مختلف سبق دیتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ حکومتیں مخالفین سے کم، اپنی غلط ترجیحات سے زیادہ ہارتی ہیں۔
آج پاکستان میں عوام صرف مہنگائی سے تنگ نہیں، وہ اس احساس سے تھک چکے ہیں کہ شاید ان کی تکلیف اقتدار کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ایک طرف ایک باپ اپنے بیٹے کے کفن کے لیے محتاج ہے۔دوسری طرف اربوں روپے کے سرکاری منصوبوں پر بحث ہو رہی ہے۔ایک طرف عوام کو کہا جاتا ہے کہ نئے ٹیکس برداشت کریں، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل برداشت کریں، مشکل فیصلوں کو قومی مفاد سمجھ کر قبول کریں۔دوسری طرف عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا ریاست نے بھی اپنی زندگی میں اتنی ہی کفایت شعاری اختیار کی ہے جتنی وہ عوام سے چاہتی ہے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں۔یہ سوال ہر اس حکومت سے ہے جو اقتدار میں آئے گی۔کیونکہ اقتدار بدلنے سے اگر طرزِ حکمرانی نہ بدلے تو چہرے بدلتے ہیں، نظام نہیں۔
قانون کا مطلب صرف سزا نہیں، بلکہ انصاف بھی ہے اور حکومت کا مطلب صرف حکومت کرنا نہیں، بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے۔
ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی باپ کو اپنے بچے کے کفن کے لیے دوسروں کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ ایسی معیشت بنائی جائے جس میں مزدور کی محنت اس کے گھر کا چولہا جلا سکے۔ ایسی قانون سازی ہو جس سے شہری خود کو محفوظ محسوس کرے، خوف زدہ نہیں۔ ایسا انتخابی نظام ہو جس پر جیتنے والا بھی فخر کرے اور ہارنے والا بھی اعتماد رکھ سکے۔یہی وہ راستہ ہے جو ریاست کو مضبوط کرتا ہے۔ ورنہ تاریخ کا قلم بہت بے رحم ہوتا ہے۔وہ نہ سرکاری اشتہار دیکھتا ہے، نہ پریس کانفرنس، نہ اکثریت کا شور۔ وہ صرف یہ لکھتا ہے کہ عوام کے ساتھ کیا ہوا تھا۔آج بھی وقت ہے۔حکومتیں تنقید کو دشمنی نہ سمجھیں۔
اختلافِ رائے کو جرم نہ سمجھیں۔سوال کرنے والے کو ریاست دشمن نہ سمجھیں۔کیونکہ ٹیکس دینے والا شہری، جواب مانگنے کا بھی حق رکھتا ہے۔جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کی آواز کی کوئی قیمت نہیں رہی، ان کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں رہی، ان کی تکلیف کسی ایوان تک نہیں پہنچتی تو پھر خطرہ صرف ایک حکومت کو نہیں ہوگا…خطرہ اس اعتماد کو ہوگا جس پر ہر ریاست کھڑی ہوتی ہے۔آخر میں صرف ایک سوال، جو ہر صاحبِ اقتدار کے دروازے پر دستک دیتا رہے گا:
اگر ریاست کے پاس جہاز خریدنے کے وسائل موجود ہیں تو کیا اس کے پاس اتنے وسائل بھی موجود ہیں کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو کفن کے بغیر دفنانے پر مجبور نہ ہو؟اگر اس سوال کا جواب ”ہاں ” ہے تو پھر عوام اس کا عملی ثبوت دیکھنا چاہتے ہیں۔اور اگر جواب ”نہیں ” ہے…تو پھر مسئلہ خزانے کا نہیں ترجیحات کا ہے۔
