
تاج، تخت اور عوام — برطانیہ کا سبق

تاریخ کے اوراق میں کچھ قومیں ایسی بھی ہیں جو تلوار سے نہیں بلکہ تدبر سے جیتی ہیں۔
United Kingdom انہی میں سے ایک ہے، جہاں بادشاہت بھی قائم ہے اور جمہوریت بھی، مگر دونوں کے درمیان وہ توازن پیدا کر لیا گیا ہے جو دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے آج بھی ایک آےخواب ہے۔
Magna Carta کا وہ لمحہ محض ایک دسسلپتاویز پر دستخط نہیں تھا، بلکہ طاقت کے گھمنڈ کے سامنے قانون کی پہلی سرگوشی تھی۔ جب ایک بادشاہ کو یہ ماننا پڑا کہ وہ بھی قانون سے بالاتر نہیں، تو دراصل ایک نئے عہد کا آغاز ہو گیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر بعد میں عوامی حاکمیت کی عمارت کھڑی ہوئی۔
پھر وقت نے کروٹ لی، اور English Civil War نے یہ ثابت کر دیا کہ جب حکمران عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کرے تو تخت بھی ڈگمگا جاتے ہیں۔ Charles I کا انجام اس بات کی علامت بن گیا کہ اختیار اگر جوابدہی سے خالی ہو جائے تو انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔
لیکن برطانیہ کی اصل دانشمندی یہاں سامنے آئی کہ اس نے انتشار کو مستقل مقدر نہیں بننے دیا۔ Glorious Revolution کے ذریعے ایک ایسا نظام ترتیب دیا گیا جس میں بادشاہت کو باقی رکھا گیا، مگر اس کے اختیارات کو آئین کی زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔ یوں روایت بھی بچ گئی اور عوام کی حکمرانی بھی قائم ہو گئی۔
آج King Charles III تخت پر بیٹھے ہیں، مگر فیصلے پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔ بادشاہ ریاست کی علامت ہے، جبکہ اصل طاقت عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔ یہ وہ توازن ہے جس نے برطانیہ کو سیاسی استحکام عطا کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ماڈل ہمارے لیے کوئی سبق رکھتا ہے؟
پاکستان جیسے ممالک میں مسئلہ نظام کا کم اور رویوں کا زیادہ ہے۔ یہاں آئین بھی موجود ہے، ادارے بھی، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اختیار کو قانون کے تابع کرنے کا حوصلہ کمزور ہے۔ ہم نے تاریخ سے سیکھنے کے بجائے اسے دہرانے کو اپنا مقدر بنا لیا ہے۔
برطانیہ نے صدیوں میں یہ سیکھا کہ طاقت کو محدود کرنا ہی دراصل ریاست کو مضبوط بناتا ہے۔ جبکہ ہم آج بھی طاقت کو بے لگام چھوڑ کر استحکام کی امید رکھتے ہیں، جو ممکن نہیں۔
یہ حقیقت ہمیں ماننا ہوگی کہ کوئی بھی نظام، خواہ وہ بادشاہت ہو یا جمہوریت، اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس میں جوابدہی، قانون کی بالادستی اور اداروں کی خودمختاری نہ ہو۔
برطانیہ کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، اصولوں سے بنتی ہیں۔ اور جب اصول
کمزور پڑ جائیں، تو نہ تخت بچتے ہیں نہ تاج! صرف کہانیاں رہ جاتی ہیں، عبرت کی کہانیاں۔
تاج، تخت اور عوام
