Site icon MASHRIQ URDU

انصاف یا اذیت؟ عدالتوں میں سسکتی ریاست کی کہانی

انصافانصاف یا اذیت؟ عدالتوں میں سسکتی ریاست کی کہانی

تحریر: شہزاد عابد خان
نبض حالات
پاکستان میں انصاف کا نظام اب محض ایک ادارہ نہیں رہا، یہ ایک ایسا تجربہ بن چکا ہے جس سے گزرنے والا ہر شخص ایک ہی جملہ دہراتا ہے: “کاش میں عدالت نہ آتا”۔ یہ جملہ کسی ایک فرد کا نہیں، ایک پورے معاشرے کا نوحہ ہے۔ عدالتیں جہاں انصاف کا آخری سہارا ہونی چاہئیں، وہاں آج خوف، تھکن، بے بسی اور بعض اوقات انتقام جنم لے رہا ہے۔
دو دن قبل قصور کی ایک عدالت میں پیش آنے والا واقعہ اسی بگڑتے نظام کا ایک لرزہ خیز عکس ہے، جہاں ایک سائل، بار بار ملنے والی تاریخوں اور انصاف میں تاخیر سے تنگ آ کر خود قانون ہاتھ میں لے بیٹھا اور عدالت کے اندر ہی ایک اہلکار کو قتل کر دیا۔ یہ محض ایک قتل نہیں تھا، یہ ایک اعلان تھا—ایک ایسا اعلان جو بتا رہا ہے کہ جب ریاست انصاف دینے میں ناکام ہو جائے تو ردعمل قانون سے باہر نکل کر سامنے آتا ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی عدالتوں کے احاطوں میں فائرنگ، قتل اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اب تک انہیں روک کیوں نہیں سکے؟ کیا وجہ ہے کہ ایک عام شہری عدالت کو انصاف کی جگہ نہیں بلکہ اذیت گاہ سمجھنے لگا ہے؟
پاکستان کا عدالتی نظام آج بھی بڑی حد تک برطانوی دور کے قوانین پر کھڑا ہے۔ 1860 کا تعزیراتِ پاکستان، 1908 کا سول پروسیجر کوڈ اور 1898 کا کریمنل پروسیجر کوڈ—یہ سب ایک ایسے دور کی پیداوار ہیں جہاں انصاف نہیں بلکہ حکومت کو کنٹرول کرنا مقصد تھا۔ آزادی کے بعد ہم نے ان قوانین کو تو برقرار رکھا مگر ان کی روح تبدیل نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نظام تو موجود ہے مگر انصاف غائب ہے۔
اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت مختلف عدالتوں میں تقریباً 22 سے 23 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ صرف سپریم کورٹ میں ہی ہزاروں کیسز زیر سماعت ہیں جبکہ ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک عام دیوانی مقدمہ 5 سے 10 سال جبکہ فوجداری کیس بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عرصہ لیتا ہے۔
عالمی سطح پر اگر ہم اپنی پوزیشن دیکھیں تو تصویر مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ World Justice Project کی Rule of Law Index رپورٹ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی عموماً 130 سے 140 ممالک میں نچلے درجوں میں رہتی ہے۔ خاص طور پر “Access to Justice”، “Absence of Corruption” اور “Civil Justice” جیسے شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی کمزور قرار دی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے: انصاف نہ صرف سست ہے بلکہ غیر مساوی بھی ہے۔
“تاریخ پر تاریخ” صرف ایک فلمی ڈائیلاگ نہیں بلکہ پاکستانی عدالتی نظام کی پہچان بن چکا ہے۔ ججوں کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ججوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے انتہائی کم ہے، جس کے باعث ہر جج پر سینکڑوں مقدمات کا بوجھ ہے۔ وکلاء کی ہڑتالیں، پولیس کی ناقص تفتیش اور گواہوں کا پیش نہ ہونا اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔
مگر مسئلہ صرف تاخیر نہیں۔ اصل مسئلہ وہ نظام ہے جس میں تاخیر ایک ہتھیار بن چکی ہے۔ طاقتور ملزم اپنے وسائل استعمال کر کے کیس کو طول دیتا ہے، جبکہ غریب سائل ہر پیشی پر اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے۔ وکیل کی فیس، عدالت کے چکر، روزگار کا نقصان—یہ سب مل کر انصاف کو ایک مہنگی اور مشکل چیز بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں جب کوئی شخص قصور جیسے واقعے میں انتہائی قدم اٹھاتا ہے تو وہ قانون شکنی ضرور کرتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا نظام کھڑا ہوتا ہے۔
Transparency International کی رپورٹس بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد عدالتی اور پولیس نظام کو بدعنوان سمجھتی ہے۔ رشوت، سفارش اور اقربہ پروری نے انصاف کے تصور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فائل آگے بڑھانے سے لے کر تاریخ جلدی لگوانے تک، ہر مرحلے پر غیر رسمی راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں انصاف کی فراہمی کو تیز، شفاف اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، وہیں پاکستان میں آج بھی فائلیں گرد آلود الماریوں میں پڑی رہتی ہیں۔ ای-کورٹس اور ڈیجیٹل سسٹم کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں، مگر عملی طور پر پیش رفت سست ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ نظام بدلتا کیوں نہیں؟ اس کا جواب شاید اتنا ہی تلخ ہے جتنا حقیقت خود ہے۔ موجودہ نظام طاقتور طبقے کے مفاد میں ہے، اس لیے اسے بدلنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ سیاسی حکومتیں عدالتی اصلاحات کو اپنی ترجیح نہیں بناتیں، اور ادارہ جاتی سطح پر احتساب کا فقدان اس مسئلے کو مزید گہرا کرتا ہے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ قانون ہاتھ میں لینا غلط ہے، اور یقیناً یہ غلط ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ریاست شہری کو انصاف دینے میں ناکام ہو جائے تو ردعمل جنم لیتا ہے۔ قصور کا واقعہ اسی ردعمل کی ایک بھیانک شکل ہے، جسے محض ایک مجرمانہ فعل کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کالم صرف سوال نہیں اٹھاتا بلکہ ایک واضح مؤقف بھی پیش کرتا ہے: پاکستان کا عدالتی نظام اپنی موجودہ شکل میں عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اصلاحات اب ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہیں۔ اگر ہم نے اس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق نہ ڈھالا تو ایسے واقعات بڑھتے جائیں گے اور ریاست کا رٹ مزید کمزور ہو جائے گا۔
اب فیصلہ ریاست کو کرنا ہے کہ وہ انصاف کو واقعی انصاف بنانا چاہتی ہے یا اسے ایک طویل، مہنگا اور اذیت ناک عمل ہی رہنے دینا چاہتی ہے۔

تاج، تخت اور عوام — برطانیہ کا سبق ‎

Exit mobile version