
گرفتار دہشت گرد ساجد اللہ نے اعتراف جرم کیا کہ میں 2016میں یہاں سے افغانستان کنڑ گیا، میں ایک ماہ وہاں رہا اورٹریننگ کی، ایک ماہ بعد ٹریننگ کے بعد پاکستان واپس آگیا، میری افغانستان میں کمانڈر ابوحمزہ سےملاقات ہوئی۔ساجد اللہ نے بتایا کہ میں کمانڈر ابوحمزہ کے پاس 2023میں افغانستان دوبارہ گیا، میری افغانستان میں کمانڈر تحریک طالبان داداللہ سے ملاقات ہوئی، ہم ایک رات گزار کر پاکستان واپس آئے، مجھے ایک دن تصاویر بھیجی گئیں اورکہا گیا قبرستان سے خودکش جیکٹ لے لو۔دہشت گرد نے کہا کہ پشاور میں ایک قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اوراڈے پر جاکر اسلام آباد پہنچا، مجھے پیغام آیا کہ دوتین روز میں آپ کے پاس قاری عثمان نامی بندہ افغانستان سے آئے گا، خودکش حملہ آور ایک دودن میرے پاس گھر میں رہا۔

