
آئی پی پیز، ایل این جی اور پاکستان

کرپشن ثابت نہیں ہوئی، مگر سوال بھی ختم بھی نہیں ہوئے۔
پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں بجلی کا بل کُھلتے وقت دل نہ دھڑکتا ہو۔ کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ، کبھی کیپیسٹی پیمنٹ، کبھی سرچارج، کبھی ٹیکس۔ عوام بل دیکھتے ہیں، غصہ کرتے ہیں اور پھر خاموشی سے ادا کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک سوال مسلسل زندہ ہے! آخر یہ پیسہ جا کہاں رہا ہے؟
جب بھی آئی پی پیز کا ذکر آتا ہے تو دو مؤقف سامنے آتے ہیں۔ ایک مؤقف کہتا ہے کہ آئی پی پیز معاہدے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی سکینڈل ہیں۔ دوسرا مؤقف کہتا ہے کہ یہ سب قانونی معاہدے تھے اور سرمایہ کاری کے بغیر ملک اندھیروں میں ڈوب جاتا۔
شاید حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
1994 میں جب بے نظیر بھٹو کی حکومت نے نجی بجلی گھروں کی پالیسی متعارف کروائی تو ملک توانائی بحران کا شکار تھا۔ حکومت نے آئی پی پیز کے سرمایہ کاروں کو ایسی شرائط دیں جن سے وہ پاکستان آنے پر آمادہ ہو سکیں۔ ڈالر میں منافع، حکومتی ضمانتیں اور کیپیسٹی پیمنٹس انہی مراعات کا حصہ تھیں۔ بعد میں آنے والی کسی حکومت نے اس بنیادی ڈھانچے کو ختم نہیں کیا۔
مشرف دور آیا، نظام برقرار رہا۔
نواز شریف دور آیا، سی پیک کے تحت نئے منصوبے شامل ہو گئے۔
عمران خان دور آیا، آئی پی پیز کے خلاف انکوائریاں ہوئیں مگر نظام برقرار رہا۔
شہباز شریف دور آیا، معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے۔ اگر یہ نظام مکمل طور پر غلط تھا تو کسی حکومت نے اسے ختم کیوں نہیں کیا؟ اور اگر یہ مکمل طور پر درست تھا تو پھر معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
پاکستان میں آئی پی پیز صرف غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت نہیں رہیں۔ وقت کے ساتھ ملک کے بڑے کاروباری گروپ بھی اس شعبے میں داخل ہوئے۔ سرکاری فہرستوں میں درجنوں آئی پی پیز موجود ہیں جن میں بعض کا تعلق بڑے صنعتی خاندانوں اور کاروباری گروپس سے ہے۔
مثال کے طور پر منشاء گروپ کے ساتھ وابستہ کمپنیاں، جن میں Nishat Power، Nishat Chunian Power اور بعد ازاں Lalpir و Pakgen جیسے منصوبے شامل رہے۔ دستیاب کارپوریٹ ریکارڈ کے مطابق Nishat Power میں Nishat Mills اکثریتی حصص رکھتی رہی جبکہ Lalpir Power بھی بعد میں Nishat Group کے کنٹرول میں آئی۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔
کیا کسی کاروباری خاندان کا IPP کا مالک ہونا بذاتِ خود جرم ہے؟
ہرگز نہیں۔
دنیا بھر میں نجی کمپنیاں بجلی پیدا کرتی ہیں۔
لیکن سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انہی کمپنیوں کو ایسے معاہدے ملتے ہیں جن کا مالی بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوتا ہے۔
سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک عام شہری بجلی کم استعمال کرے تب بھی اسے کیپیسٹی پیمنٹ ادا کرنا پڑے۔
سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پاور پلانٹ بجلی نہ بنائے مگر ادائیگی جاری رہے۔
سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو بتایا جائے کہ بجلی مہنگی ہے، مگر دوسری طرف بعض کمپنیوں کے منافع اور گارنٹی شدہ ریٹرنز برقرار رہیں۔
یہاں انسانی عقل فطری طور پر شک کرتی ہے۔
اور شک کرنا جرم نہیں۔
تحقیق کا آغاز ہی سوال سے ہوتا ہے۔
پاکستان میں ایک اور مسئلہ موجود ہے۔ یہاں عوام کا ایک بڑا طبقہ ریاستی اداروں، احتسابی نظام اور عدالتی عمل پر مکمل اعتماد نہیں کرتا۔ اس کی تاریخی وجوہات ہیں۔ مختلف ادوار میں سیاسی انجینئرنگ، متنازع تحقیقات، منتخب احتساب اور طاقتور طبقات کے بارے میں نرم رویے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اسی لیے جب عوام دیکھتے ہیں کہ بڑے کاروباری خاندان، سیاسی شخصیات، طاقتور ادارے اور اربوں کھربوں روپے کے معاہدے ایک ہی تصویر میں موجود ہیں تو ان کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔
کیا تمام معاہدے واقعی قومی مفاد میں تھے؟
کیا ان کے نرخ منصفانہ تھے؟
کیا عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی گئی؟
یا پھر طاقتور حلقوں نے اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھایا؟
یہ سوالات آج بھی زندہ ہیں۔
ایل این جی کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔
2015 اور 2016 میں قطر کے ساتھ طویل المدتی LNG معاہدے ہوئے۔ اس وقت حکومت کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو فوری گیس درکار ہے اور یہ معاہدے توانائی بحران سے نکلنے کے لیے ضروری ہیں۔
بعد میں 2021 میں نئی حکومت نے بھی قطر کے ساتھ مزید معاہدے کیے۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ LNG صرف ایک سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ مختلف حکومتوں نے اسے قومی توانائی حکمت عملی کا حصہ سمجھا۔
مگر پھر Take-or-Pay معاہدوں کا سوال سامنے آیا۔
گیس استعمال کرو یا نہ کرو، ادائیگی کرو۔
بجلی بناؤ یا نہ بناؤ، کیپیسٹی پیمنٹ دو۔
یہ وہ جملے ہیں جنہوں نے عوام کے ذہن میں غصہ پیدا کیا۔
عوام پوچھتے ہیں:
اگر ایک غریب آدمی بجلی کا بل ادا نہ کرے تو اس کا میٹر کاٹ دیا جاتا ہے۔
اگر ایک فیکٹری بجلی استعمال نہ کرے تب بھی اسے ادائیگی کیوں کرنی پڑتی ہے؟
اگر ملک کو گیس کی ضرورت کم ہو جائے تو پھر معاہدوں کا بوجھ عوام کیوں اٹھائیں؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں، معاشی اور اخلاقی بھی ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکومتوں نے متعدد آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے، کچھ معاہدے ختم کیے گئے اور بعض ٹیرف کم کیے گئے۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں خرابی موجود تھی۔
مگر اصل سوال اب بھی باقی ہے۔
ذمہ دار کون ہے؟
صرف ایک سیاسی جماعت؟
صرف ایک وزیراعظم؟
یا
صرف ایک کاروباری خاندان؟
یہ دراصل ایک ایسا نظام تھا جس میں مختلف حکومتیں، مختلف ادارے، مختلف سرمایہ کار اور مختلف مفادات شریک رہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس نظام سے سب سے کم فائدہ عام پاکستانی کو ملا۔
آج بھی ایک مزدور، ایک استاد، ایک دکاندار اور ایک پنشنر اپنے بجلی کے بل میں ان فیصلوں کی قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے کبھی کیے ہی نہیں تھے۔
پاکستان کو آج صرف سستی بجلی نہیں چاہیے۔
پاکستان کو مکمل شفافیت چاہیے۔
تمام IPP معاہدے عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔
تمام LNG معاہدوں کی تفصیلات شائع ہونی چاہئیں۔
تمام Beneficial Owners کی فہرست عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔
عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی کمپنی کس خاندان کی ملکیت ہے، کن شرائط پر معاہدہ ہوا، آئی پی پیز کو کتنی ادائیگی ہوئی اور قومی خزانے پر اس کا کیا اثر پڑا۔
کیونکہ جمہوریت میں سب سے بڑی عدالت عوام ہوتے ہیں۔
اور جب عوام کو مکمل معلومات نہیں ملتیں تو شکوک جنم لیتے ہیں۔
ممکن ہے ان شکوک میں کچھ غلط ہوں۔
ممکن ہے کچھ درست ہوں۔
مگر ان کا خاتمہ صرف ایک چیز کر سکتی ہے:
مکمل شفافیت۔ ورنہ بجلی کے ہر نئے بل کے ساتھ یہ سوال جنم لیتا رہے گا کہ آخر پاکستان کے توانائی بحران کی اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے اور اصل فائدہ کس نے حاصل کیا؟
